جدید جمہوری معاشروں میں عوام کی روز مرہ ضروریات زندگی اور سہولیات کی فراہمی کے لئے مقامی حکومتوں کے نظام تشکیل دئیے جاتے ہیں۔مقامی حکومتیں نچلی سطح پر ایسے امور کی انجام دہی کے لئے کسی بڑے حکومتی فریم ورک میں طے شدہ خدمات سر انجام دیتی ہیں۔مگر مقامی حکومتوں کا دائرہ عمل محدود نوعیت کی ذمہ داریوں پر ہی محیط ہوتا ہے۔دنیا بھر میں مقامی حکومتوں کے اختیارات،فرائض اور دائرہ عمل کے حوالہ سے مختلف ماڈل موجود ہیں مگر ایک بات مشترکہ ہے کہ مقامی حکومتیں کسی بڑے حکومتی فریم ورک میں ہی فعال اور متحرک ہوتی ہیں یاایسا وحدانی اور وفاقی مملکتوں میں یکساں ہوتا ہے۔جب ہم کہتے ہیں کہ با اختیار مقامی حکومتیں تو وہ بھی لا محدود اختیارات کی حامل نہیں ہوتیں۔بلکہ حدود کا تعین ہوتا ہے۔اور ان حدود کا تعین عام طور پر صوبے،ریاستیں،وفاقی اکائیاں یا یونین اسٹیٹس ہی کرتی ہیں۔پاکستان میں دو سطحی حکومتی فریم ورک موجود ہے۔وفاقی اور صوبائی۔صوبائی فریم ورک میں مقامی حکومتیں جنہیں صوبے اس طرح تشکیل دیتے ہیں کہ ان کے پاس سیاسی،مالیاتی اور انتظامی اختیارات حاصل ہوں اور انہیں صوبے اپنے اپنے قانون کی رو سے تشکیل دیں۔لیکن ان کی نوعیت بارے چند خصوصیات بھی اصولی طور پر بیان کی گئی ہیں۔کہ مقامی حکومتیں علاقہ کے منتخب نمائندوں پر مشتمل ہوں گی۔اور ان منتخب نمائندوں میں محنت کشوں اور خواتین کی نمائندگی یقینی ہو گی۔اسی طرح مالیاتی اختیارات بھی صوبوں کے وضع کردہ حدود کے اندر ہے۔یعنی وفاق پاکستان میں تمام تر جمع شدہ دولت کی تقسیم وفاق اور صوبوں میں آئینی طور پر طے شدہ ہے۔اس میں نظر ثانی اور ردو بدل ہو سکتا ہے۔مگر یہ نہیں کہ وفاق براہ راست مقامی حکومتوں کو بھی قومی دولت کی تقسیم کرے۔نیشنل فنانس ایوارڈ کے تحت صوبوں کو حصہ ملتا ہے اور پھر صوبے اس میں سے کچھ حصہ مقامی حکومتوں کو فراہم کرتے ہیں۔قصہ مختصر پاکستان کی مقامی حکومتیں صوبائی فریم ورک میں ہی کچھ فرائض اور ذمہ داریاں ادا کرتی ہیں۔دوسرے لفظوں میں مقامی حکومتیں صوبوں کا متبادل یا متوازی اظام نہیں ہے۔اور ایسا دنیا کے دیگر کئی ممالک میں موجود ہے۔مگر پاکستان میں آئینی اور قانونی اعتبار سے واضح بیان کے باوجود عملی طور پر اس کا اطلاق موجود نہیں ہے اور اس کیفیت نے وفاقی نظام حکومت کو ہی چیلنج درپیش کر دئیے ہیں۔جس کے مضمرات بہت نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔
Read Next
3 دن ago
عید الاضحٰی،جانوروں کی آلائشیں اور باقیات کھلے مقامات پر پھینکنےوالے افراد کو 50 ہزار روپے تک جرمانہ ہوگا،سیکرٹری بلدیات شکیل احمد میاں کی زیر صدارت اجلاس
3 دن ago
مریم نواز کا سوہنا پنجاب” پروگرام کے تحت ترقیاتی کام تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے،ذیشان رفیق
3 دن ago
بلدیاتی حکومت منتقلی معاملات کیلئے وزارتی کمیٹی کا پہلا اجلاس 7 کلب روڈ پر منعقد
4 دن ago
لاہور میں ڈیجیٹل پارکنگ سسٹم کے پائلٹ پراجیکٹ پر غور،پارکنگ فیس کی ادائیگی موبائل ایپ کے ذریعے ہو سکے گی،وزیر بلدیات ذیشان رفیق
5 دن ago
پنجاب کی 4015 یونین کونسلوں کے دو دہائیوں سے ترقیوں سے محروم ملازمین نے پنجاب اسمبلی میں اپنا مقدمہ پیش کر دیا
Related Articles
پنجاب سپیشئل پلاننگ اتھارٹی کا اجلاس،اراضی کے استعمال کی مانیٹرنگ کا عمل بتدریج مصنوعی ذہانت پر منتقل کرنے کا فیصلہ
5 دن ago
محکمہ بلدیات پنجاب کے متعدد افسران کی گریڈ 18 میں ترقی،حارث جلیل،فیصل شہزاد، محمد عارف،طارق ضیاء، گلشن نورین،محمد اصغر شامل
7 دن ago
وزیر بلدیات ذیشان رفیق کی زیر صدارت سُتھرا پنجاب اتھارٹی آفس میں اجلاس،عید الاضحٰی پلان کا جائزہ
2 ہفتے ago



