پنجاب کی یونین کونسلوں کے دو دہائیوں سے ترقیوں سے محروم ملازمین نے رابطہ مہم شروع کر دی ہے۔پنجاب کی 4015 یونین کونسلوں کے سینکڑوں اعلٰی تعلیم یافتہ نائب قاصد بھی سروس رولز نوٹیفائی نہ ہونے ترقی کا حق حاصل نہیں کر سکے۔جن سے ناانصافی اور تاخیری حربوں میں محکمہ لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ پنجاب سمیت محکمہ خزانہ،محکمہ قانون اور دیگر بھی شریک ہیں۔
سابق سیکرٹری بلدیات نور الامین مینگل دور میں یونین کونسلز کے سروس رولز اور کیڈر کے حوالے سے جو پیش رفت ہوئی وہ بیوروکریسی کے روایتی حربوں اور اعتراضات کی نذر ہو چکی ہے۔آل پنجاب یونین کونسلز ایمپلائز ایسوسی ایشن نے وزیر بلدیات، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ، ڈی جی لوکل گورنمنٹ سے کئی ملاقاتوں میں اپنے مطالبات اور تحفظات پیش کئے لیکن نتیجہ صفر رہا۔اب ایسوسی ایشن نے پنجاب اسمبلی میں اپنا مقدمہ پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔جس کے لئے یونین کونسلوں کے ملازمین کی نمائندہ تنظیم کے عہدیداران محمد آصف ہادی،رانا عرفان، ملک اعجاز اعوان اور دیگر نے ارکان صوبائی اسمبلی امجد علی جاوید، غلام رضا ربیرا سے ملاقات کر کے صوبائی اسمبلی کے ایوان میں مستحق ملازمین کے لئے آواز بلند کرنے کی استدعا کی۔جس پر ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کے دستخط سے مارک کروا پر ٹحریک اسمبلی میں جمع کروا دی گئی ہے۔






