*ستھرا پنجاب اے ٹی ایم سکینڈل بھی آ گیا*،فیصل آباد ایک ارب کی بے ضابطگیوں پر 12 افسران کے خلاف مقدمہ درج

ستھرا پنجاب پروگرام ،فیصل آباد ڈویژن میں ایک ارب کی مالی بے ضابطگی کا انکشاف ہوا ہے۔اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے بارہ افسران کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ذرائع کے مطابق انتظامیہ ٹھیکیدار سے ملی بھگت کر کے 633 گھوسٹ ملازمین کی تنخواہیں ہڑپ کرتی رہی۔ریکارڈ میں 2317 کنٹینرز ظاہر کیے گئے۔ موقع پر 1717 کنٹینرز پائے گے۔صفائی آپریشن کے لیے منی لوڈرز رکشوں کا کرایہ منی ڈپرز کے حساب سے وصول کیا گیا۔ذرائع کے مطابق پنجاب کی 15 فیصد سے زائد تحصیلوں میں ٹھیکیداروں نے ستھرا پنجاب اتھارٹی کے ارباب اختیار کے تعاون سے بوگس ملازمین کے اے ٹی ایم کارڈز اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں جس میں سے مرضی کی کٹوتیاں کر کے وہ ان بوگس ملازمین کو تنخواہ دیتے ہیں۔ذرائع کے مطابق ستھرا پنجاب کے ہزاروں ملازمین کے اے ٹی ایم کارڈز تنخواہوں کے لئے کنٹینرز استعمال کر رہے ہیں۔اس حوالے سے متعلقہ سی ای اوز اور ایم ڈیز بھی باخبر ہیں۔معاملات ملی بھگت سے چل رہے ہیں۔وزیر اعلٰی پنجاب مریم نواز شریف کی طرف سے فیصل آباد میں جس طرح سخت ایکشن لیا گیا ہے اسی طرح پورے پنجاب میں چھان بین اور تھرڈ پارٹی آڈٹ ناگزیر ہو گیا ہے۔

جواب دیں

Back to top button