وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری کے حالیہ دورۂ چین کے بعد طے پانے والی مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) کا جائزہ لیا اور انہیں حتمی شکل دینے کے اقدامات پر غور کیا۔اجلاس کا مقصد مختلف شعبوں میں مشترکہ منصوبوں پر پیش رفت کو تیز کرنا اور مربوط حکمت عملی کے ذریعے بروقت عملدرآمد کو یقینی بنانا تھا۔وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں شرجیل میمن، ناصر شاہ، محمد بخش خان مہر، محمد علی ملکانی، مشیر برائے بحالی گیان چند اسرانی، معاون خصوصی سید قاسم نوید، معاون خصوصی برائے اسٹیوٹا جنید بلند، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ نجم شاہ، سیکریٹری لائیو اسٹاک اینڈ فشریز کاظم جتوئی، چیئرمین سی ایم آئی ٹی بلال میمن، سیکریٹری وزیراعلیٰ آصف جمیل، سیکریٹری توانائی شعیب انصاری، سیکریٹری بحالی مصطفیٰ شیخ، سیکریٹری ماحولیات زبیر چنہ، اسپیشل سیکریٹری ایچ ٹی پی آغا فخر، ایڈیشنل سیکریٹری زراعت ادریس کھوسو، سی ای او ایس پی ایچ ایف اے خالد شیخ، سی ای او کے ڈبلیو اینڈ ایس سی احمد صدیقی اور ایم ڈی اسٹیوٹا سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ چین کے ساتھ تعاون سندھ کے انفراسٹرکچر کو جدید بنانے، صنعتی صلاحیت بڑھانے اور سماجی و اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کا ایک اہم موقع ہے۔انہوں نے ہدایت دی کہ تمام محکمے رکاوٹیں دور کریں اور منصوبوں پر تیزی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایم او یوز کاغذوں تک محدود نہیں رہنے چاہئیں، ہمیں واضح ٹائم لائنز اور جوابدہی کے ساتھ عملی پیش رفت چاہیے۔انہوں نے مزید ہدایت دی کہ ہر منصوبے کی نگرانی کے لیے ایک فوکل میکنزم قائم کیا جائے اور باقاعدگی سے پیش رفت رپورٹ وزیراعلیٰ آفس کو پیش کی جائے جبکہ شفافیت اور تیز منظوری کے عمل کو یقینی بنایا جائے۔فائر سیفٹی اور ایمرجنسی سروسز کے حوالے سے اجلاس میں چینی کمپنیوں کے ساتھ جدید فائر فائٹنگ آلات، فائر ٹرکس، ایمرجنسی رسپانس سسٹمز اور فائر اسٹیشنز کے قیام کی تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ مشاورت مکمل ہو چکی ہے اور گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ (جی ٹو جی) معاہدے پر کام جاری ہے۔ انہوں نے محکمہ بلدیات کو ہدایت دی کہ معاہدے کو جلد حتمی شکل دی جائے۔تھر میں کوئلے سے گیس بنانے اور یوریا کی پیداوار کے منصوبے پر بھی غور کیا گیا جس کے تحت مقامی کوئلے سے امونیا اور یوریا تیار کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ فزیبلٹی اسٹڈیز مئی 2026 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔ انہوں نے اس منصوبے کو توانائی کے تحفظ اور زرعی استحکام کے لیے اہم قرار دیا۔لائیو اسٹاک ٹریک اینڈ ٹریس منصوبے کے تحت جدید مویشی رجسٹریشن، ویکسینیشن پروگرامز اور بیماریوں کی تشخیص کے مراکز کے قیام پر بھی غور کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے اس منصوبے پر تیزی سے عملدرآمد کی ہدایت دی۔ماحولیاتی تعاون اور پانی کے منصوبوں کے حوالے سے بعض تجاویز کو تکنیکی اور مالی بنیادوں پر غیر مؤثر قرار دیا گیا جس پر وزیراعلیٰ نے مقامی طور پر قابل عمل اور کم لاگت حل کو ترجیح دینے کی ہدایت دی۔زراعت اور غذائی تحفظ کے لیے کنٹرولڈ ایگریکلچر سائنس اینڈ ایجوکیشن پارک کے قیام کی تجویز بھی زیر غور آئی جس پر وزیراعلیٰ نے چینی شراکت داروں سے رابطہ بڑھانے کی ہدایت دی۔
ٹائر ری سائیکلنگ منصوبے کے تحت پلاسٹک اور ربڑ ری سائیکلنگ سہولت کے قیام پر بھی غور کیا گیا جسے اسپیشل اکنامک زون میں قائم کرنے کی تجویز دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ مسائل جلد حل کرنے کی ہدایت دی۔اجلاس کے اختتام پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان تعاون سندھ کی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہے اور تمام محکمے فعال کردار ادا کرتے ہوئے منصوبوں پر پیش رفت کو یقینی بنائیں۔چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کئی منصوبے منصوبہ بندی کے آخری مراحل میں ہیں جبکہ بعض فزیبلٹی اور منظوری کے مراحل میں ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ بروقت عملدرآمد، شفافیت اور مسلسل نگرانی ہی ان منصوبوں کو دیرپا معاشی فوائد میں تبدیل کر سکتی ہے۔





