مراد علی شاہ کی زیرصدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس،سرکاری ملازمین کیلئے تفریحی اور سفری الاونسز میں اضافے کی منظوری

سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں پالیسی، حکمرانی اور ترقیاتی اقدامات کے وسیع پیکیج کی منظوری دی گئی، جس میں سرکاری ملازمین کے لیے ریلیف اقدامات، صوبائی ہیلتھ انشورنس اسکیم میں توسیع، چار اسٹریٹجک ٹاسک فورسز کا قیام، شعبہ تعلیم میں اصلاحات، صحت اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق اہم فیصلے اور صوبے میں غذائی تحفظ کو مضبوط بنانے کے اقدامات شامل ہیں۔اجلاس میں صوبائی وزرا، مشیران، معاونین خصوصی، چیف سیکریٹری اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں حکمرانی میں اصلاحات، عوامی خدمات کی فراہمی، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، تعلیم، صحت، سرمایہ کاری کے فروغ اور معاشی انتظام سے متعلق 22 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔سینئر وزیر اطلاعات و ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے کابینہ کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں سے میڈیا کو آگاہ کیا۔شرجیل میمن نے بتایا کہ اجلاس کے آغاز میں وزیر اعلیٰ نے محکمہ خوراک کو ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کرنے، چھپائے گئے گندم کے ذخائر برآمد کرنے، مارکیٹ کی صورتحال پر کڑی نظر رکھنے اور آٹے کی قیمتوں کو مستحکم کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی، تاکہ صارفین کو مصنوعی مہنگائی سے تحفظ فراہم کیا جاسکے۔

*گندم کے ذخائر اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی*

کابینہ نے صوبے میں گندم کے ذخائر کی صورتحال، مارکیٹ کے رجحانات، آٹے کی قیمتوں اور محکمہ خوراک کی جانب سے اسٹریٹجک ذخائر مضبوط بنانے اور مارکیٹ کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے پاسکو سے 2 لاکھ 20 ہزار 665 میٹرک ٹن گندم خریدنے کی تجویز کا جائزہ لیا۔کابینہ کو بتایا گیا کہ سندھ نے 2025-26 کے دوران 47 لاکھ میٹرک ٹن گندم پیدا کی، جبکہ گزشتہ ذخائر کو شامل کرنے کے بعد صوبے میں گندم کی مجموعی دستیابی 48 لاکھ 40 ہزار میٹرک ٹن تھی، جبکہ سالانہ کھپت کی متوقع ضرورت 65 لاکھ 30 ہزار میٹرک ٹن ہے، جس کے نتیجے میں 16 لاکھ 90 ہزار میٹرک ٹن کی متوقع کمی ظاہر ہوتی ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ اگر موجودہ کھپت کا رجحان برقرار رہا تو مارچ 2027 تک صوبے کو تقریباً 21 لاکھ 10 ہزار میٹرک ٹن گندم کی کمی کا سامنا ہوسکتا ہے۔محکمہ خوراک نے کابینہ کو سندھ فوڈ گرینز (لائسنسنگ کنٹرول) آرڈر 1957 کے تحت جاری ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائیوں سے آگاہ کیا۔ کریک ڈاؤن کے نتیجے میں 2 لاکھ 25 ہزار 135 میٹرک ٹن غیر قانونی طور پر ذخیرہ کی گئی گندم ضبط کی جاچکی ہے، جبکہ گزشتہ ذخائر اور خریدی گئی گندم سمیت محکمہ خوراک کے پاس دستیاب گندم کے مجموعی ذخائر 4 لاکھ 46 ہزار 947 میٹرک ٹن ہیں۔کابینہ کو یہ بھی بتایا گیا کہ پاسکو نے سندھ کے مختلف اضلاع میں ذخیرہ کی گئی 2024 کی فصل کی 2 لاکھ 20 ہزار 665 میٹرک ٹن گندم 4 ہزار 150 روپے فی 40 کلوگرام کے حساب سے فروخت کرنے کی پیشکش کی ہے۔کابینہ نے گندم کے مناسب ذخائر برقرار رکھنے، مارکیٹ میں استحکام یقینی بنانے اور آٹے کی قیمتوں میں بلاجواز اضافے سے صارفین کو تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ محتاط خریداری کے فیصلوں کے ذریعے سرکاری وسائل کا تحفظ یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔وزیر اعلیٰ نے فیصلہ کیا کہ اگر وفاقی حکومت درآمدی گندم منگواتی ہے تو صوبائی حکومت 5 لاکھ ٹن درآمدی گندم خریدے گی۔ انہوں نے محکمہ خوراک کو ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کرنے، چھپائے گئے گندم کے ذخائر برآمد کرنے اور مارکیٹ میں آٹے کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کی ہدایت کی۔

*تفریقی اور سفری الاؤنسز میں اضافہ*

کابینہ نے سرکاری ملازمین کے لیے ریلیف پیکیج کی منظوری دیتے ہوئے یکم جولائی 2026 سے تفریقی الاؤنس اور سفری الاؤنس میں اضافے کی منظوری دی۔کابینہ نے بی پی ایس-01 سے بی پی ایس-16 تک کے ملازمین کے لیے منجمد بنیادی پے اسکیل 2022، جو 30 جون 2026 تک نافذ تھا، پر 2 فیصد کی شرح سے تفریقی الاؤنس 2026 دینے کی منظوری دی۔ اس الاؤنس کا مقصد اس فرق کو دور کرنا ہے جو 2025 میں سندھ حکومت کی جانب سے ان گریڈز کے ملازمین کی تنخواہوں میں وفاقی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ اضافے کے مقابلے میں زیادہ اضافہ دینے کے بعد پیدا ہوا تھا۔کابینہ نے تمام صوبائی سرکاری ملازمین کے لیے سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافے کی بھی منظوری دی۔ نظرثانی شدہ شرحوں کے تحت بی پی ایس 1 تا 4 کے ملازمین کا الاؤنس 1,785 روپے سے بڑھا کر 2,678 روپے، بی پی ایس 5 تا 10 کا 1,932 روپے سے بڑھا کر 2,898 روپے، بی پی ایس 11 تا 15 کا 2,856 روپے سے بڑھا کر 4,284 روپے، جبکہ بی پی ایس 16 اور اس سے اوپر کے ملازمین کا الاؤنس 5 ہزار روپے سے بڑھا کر 7,500 روپے ماہانہ کردیا گیا ہے۔معذور حامل ملازمین کی معاونت کے لیے کابینہ نے خصوصی سفری الاؤنس بھی 6 ہزار روپے سے بڑھا کر 10 ہزار روپے ماہانہ کرنے کی منظوری دی، جو انہیں پہلے سے قابل ادائیگی معمول کے سفری الاؤنس کے علاوہ دیا جائے گا۔

منظور شدہ اقدامات یکم جولائی 2026 سے موجودہ شرائط و ضوابط کے تحت نافذ العمل ہوں گے۔ تاہم کابینہ نے ایگزیکٹو الاؤنس دینے سے متعلق تجویز منظور نہیں کی، وزیر اطلاعات نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا۔

*چار اسٹریٹجک ٹاسک فورسز کی منظوری*

کابینہ نے معیشت، مالیات و صنعت، آبی شعبے، موسمیاتی تبدیلی اور سندھ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل تبدیلی و ورچوئل اثاثہ جات کے لیے چار شعبہ جاتی ٹاسک فورسز کے قیام کی بھی منظوری دی۔ٹاسک فورسز میں تکنیکی ماہرین، ماہرین تعلیم اور صنعتی نمائندے شامل ہوں گے، جو حکومت کو طویل مدتی پالیسی، قانونی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے حوالے سے مشاورت فراہم کریں گے۔وزیر اعلیٰ کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی، جس میں چیف سیکریٹری اور متعلقہ وزیر یا مشیر شامل ہوں گے، ہر ٹاسک فورس کی تشکیل کو حتمی شکل دے گی۔ٹاسک فورسز کو جامع دائرہ کار تفویض کیا گیا ہے، جس میں معاشی ترقی اور سرمایہ کاری کو مضبوط بنانا، ڈیجیٹل تبدیلی اور مصنوعی ذہانت کے استعمال میں تیزی لانا، موسمیاتی لچک اور موسمیاتی مالیات کو فروغ دینا اور سندھ کے آبی حقوق کا تحفظ شامل ہے، بالخصوص دریائے سندھ کے پانی سے متعلق معاہدے اور زیریں علاقوں میں پانی کی دستیابی سے متعلق ابھرتے ہوئے چیلنجز کے تناظر میں۔کابینہ نے قرار دیا کہ ٹاسک فورسز شواہد پر مبنی پالیسی سازی اور صوبے میں پائیدار ترقی کے لیے ماہرین کی رہنمائی اور اسٹریٹجک سفارشات فراہم کریں گی۔

*گٹکا، ماوا اور مین پوری کے خلاف کریک ڈاؤن*

کابینہ نے سندھ کنٹرول آف نارکوٹک سبسٹینسز (ترمیمی) بل 2026 کی منظوری دی، جس کا مقصد گٹکا، ماوا، مین پوری اور اسی نوعیت کے مضر مادوں کی تیاری، فروخت، قبضے اور نقل و حمل کے خلاف قانونی کارروائی کو مزید مؤثر بنانا ہے۔مجوزہ قانون کے تحت گٹکا، ماوا اور مین پوری کو قانون کے نئے متعارف کرائے گئے شیڈول 4 کے تحت "محدود اشیا” قرار دیا گیا ہے، جس کے باعث انہیں منشیات اور نفسیاتی اثرات رکھنے والے مادوں کے ساتھ مزید مضبوط ضابطہ کار اور نفاذ کے نظام کے تحت لایا جائے گا۔کابینہ کو بتایا گیا کہ قانون کا نام تبدیل کرکے سندھ کنٹرول آف نارکوٹکس اینڈ ریسٹرکٹڈ سبسٹینسز ایکٹ 2024 رکھا جائے گا۔ترمیم شدہ قانون میں محدود اشیا رکھنے اور ان کی اسمگلنگ کے لیے مقدار کی بنیاد پر سزا کا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔ 5 کلوگرام تک مقدار رکھنے پر 6 ماہ تک قید اور 50 ہزار روپے تک جرمانہ ہوگا۔ 5 سے 25 کلوگرام تک مقدار پر ایک سال تک قید اور 2 لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا۔ 25 سے 100 کلوگرام تک مقدار رکھنے پر 3 سال تک قید اور 5 لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا۔کابینہ نے قرار دیا کہ ترمیم کے ذریعے صحت کے لیے خطرناک چبانے والی اشیا کے خلاف قانونی نظام کو یکجا کیا جائے گا اور عوامی صحت کے تحفظ، بالخصوص نوجوانوں کی حفاظت کے لیے قانون پر عمل درآمد کی کوششیں مزید مضبوط ہوں گی۔

*بیرونی اداروں سے موصول مقدمات سے نمٹنے کے لیے انسداد بدعنوانی قوانین میں ترمیم*

کابینہ نے تفصیلی غور و خوض کے بعد سندھ انکوائریز اینڈ اینٹی کرپشن رولز 1993 کے قواعد 8-اے اور 8-بی میں ترامیم کی منظوری دی، تاکہ دیگر محکموں، اداروں، اتھارٹیز اور عدالتوں سے موصول ہونے والی شکایات، انکوائریز، تحقیقات اور ریفرنسز سے نمٹنے کے لیے واضح قانونی طریقہ کار قائم کیا جاسکے۔کابینہ کو بتایا گیا کہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو قومی احتساب بیورو (نیب) سے 108 ریفرنسز اور 29 تحقیقات موصول ہوئی ہیں، جس سے بیرونی اداروں سے منتقل کیے گئے مقدمات سے نمٹنے کے لیے طریقہ کار کی وضاحت کی ضرورت اجاگر ہوئی ہے۔منظور شدہ ترامیم کے تحت قاعدہ 8-اے کا دائرہ کار بڑھا کر بیرونی اداروں سے موصول ہونے والی شکایات، انکوائریز اور تحقیقات کو شامل کیا گیا ہے۔ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ایسے معاملات کو متعلقہ انسداد بدعنوانی قوانین کے تحت نمٹائے گی اور رائے اور مزید کارروائی کے لیے رپورٹس پراسیکیوٹر جنرل سندھ کو پیش کرے گی۔

اسی طرح قاعدہ 8-بی میں ریفرنسز اور تحقیقات کے درمیان فرق واضح کرنے کے لیے ترمیم کی گئی ہے۔ ایسے ریفرنسز جن کی متعلقہ اداروں کی جانب سے پہلے ہی تحقیقات ہوچکی ہوں، ان پر دوبارہ انکوائری کرنے کے بجائے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ اب متعلقہ قوانین اور قواعد کی تعمیل کے حوالے سے ان ریفرنسز کا جائزہ لے گی۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ترامیم سے طریقہ کار کی ابہام دور ہوں گے، اداروں کے درمیان رابطہ بہتر ہوگا اور دیگر اداروں اور عدالتوں سے منتقل ہونے والے بدعنوانی سے متعلق مقدمات کو جلد نمٹانے میں مدد ملے گی۔

*ہیلتھ انشورنس کی سہولت میں توسیع*

کابینہ نے سرکاری ملازمین کو اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن (ایس ایل آئی سی) کے ذریعے فراہم کی جانے والی ہیلتھ انشورنس اسکیم میں 6 ماہ کی توسیع کی منظوری دی، تاکہ اگلے معاہدے کی مدت کے لیے مسابقتی بولی کا عمل مکمل ہونے تک سرکاری ملازمین کو بلا تعطل صحت کی سہولت فراہم کی جاسکے۔نظرثانی شدہ تجویز کے تحت 4,805 ملازمین کو شامل کیا گیا ہے، جس کی سالانہ معاہدے کی مالیت 48 کروڑ 53 لاکھ 5 ہزار روپے ہے، جبکہ سابقہ انتظام کے تحت لاگت 51 کروڑ 6 لاکھ 24 ہزار روپے تھی۔ فی ملازم 7 لاکھ روپے کی بنیادی صحت کوریج کی حد برقرار رہے گی۔ یکم جولائی سے 31 دسمبر 2026 تک 6 ماہ کی توسیعی مدت کے لیے معاہدے کی مالیت 24 کروڑ 26 لاکھ 52 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے سروسز، جنرل ایڈمنسٹریشن اینڈ کوآرڈینیشن ڈیپارٹمنٹ (ایس اینڈ جی اے ڈی) کو اگلے مالی سال کے لیے بولی کا عمل شروع کرنے کی ہدایت کی۔

سندھ فاریسٹ ایکٹ 2026 کمیٹی کے سپرد

سندھ کابینہ نے محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کی جانب سے سندھ فاریسٹ ایکٹ 2026 متعارف کرانے کی تجویز کا جائزہ لیا، جس کا مقصد نوآبادیاتی دور کے فاریسٹ ایکٹ 1927 میں جامع اصلاحات کرنا ہے۔ نیا قانون موسمیاتی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع میں کمی، تیز رفتار شہری پھیلاؤ، پائیدار جنگلاتی انتظام، ماحولیاتی نظام کی بحالی اور کاربن کے اخراج کو جذب کرنے جیسے موجودہ ماحولیاتی چیلنجز کے مطابق جنگلات کے انتظام کو جدید بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔زراعت، آبپاشی، ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی کے محکموں کی مشاورت سے تیار کردہ مسودے میں قانونی فریم ورک کو 86 سے بڑھا کر 102 دفعات کیا گیا ہے جبکہ 74 تعریفیں شامل کی گئی ہیں۔ اس میں جنگلات کے تحفظ، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ، جنگلاتی فنڈز، سمندری محفوظ علاقوں، مشترکہ انتظامی طریقہ کار اور سندھ فاریسٹ فورس کے قیام سے متعلق نئی دفعات بھی شامل ہیں۔تفصیلی بحث کے بعد کابینہ نے فیصلہ کیا کہ مسودے کا مزید جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے جنگلات اور وزیر بلدیات پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی، جو مجوزہ قانون کا جائزہ لے کر سفارشات پیش کرے گی۔ کابینہ نے آر بی یو ٹی اسپتال شکارپور کو تدریسی اسپتال قرار دینے کی منظوری دی، جس سے اسے ضیاء الدین میڈیکل کالج (زیڈ ایم سی)، سکھر کے ساتھ کلینیکل الحاق کی راہ ہموار ہوگئی۔اس فیصلے سے ضیاء الدین یونیورسٹی کے تعلیمی نظام کے تحت انڈر گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ کلینیکل تربیت کی سہولت ملے گی اور بالائی سندھ میں صحت کی خدمات، طبی تعلیم اور طبی تربیت کے مواقع کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔کابینہ نے اسپتال مینجمنٹ بورڈ کی تشکیل کی بھی منظوری دی۔کابینہ نے پروفیسر ڈاکٹر سعید قریشی کی سربراہی میں ایک ماہر کمیٹی تشکیل دینے کی بھی منظوری دی، جو اسپتال کو تدریسی ادارے میں تبدیل کرنے کے لیے انسانی وسائل، بنیادی ڈھانچے، آلات اور مالی ضروریات کا جائزہ لے گی۔

پرائیویٹ سیکیورٹی ایکٹ کے تحت رجسٹرار دفتر کا قیام

سندھ کابینہ نے محکمہ داخلہ کی جانب سے نئے نافذ کردہ سندھ پرائیویٹ سیکیورٹی ایکٹ 2026 کے تحت رجسٹرار کے دفتر کے قیام کی تجویز پر غور کیا، جو صوبے بھر میں نجی سیکیورٹی کمپنیوں، تربیتی اداروں اور سیکیورٹی گارڈز کے لائسنس، نگرانی اور ضابطے کے لیے جامع قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔کابینہ کو بتایا گیا کہ مجوزہ دفتر لائسنس اور رجسٹریشن، سیکیورٹی اہلکاروں کی تصدیق، نجی سیکیورٹی کمپنیوں اور تربیتی اداروں کے آڈٹ اور معائنے اور قانون کی تعمیل یقینی بنانے کا ذمہ دار ہوگا۔ محکمہ داخلہ کے حکام نے بتایا کہ دفتر تقریباً 306 نجی سیکیورٹی کمپنیوں اور اندازاً 60 ہزار نجی سیکیورٹی گارڈز کو ریگولیٹ کرے گا۔محکمہ داخلہ نے مالی سال 2026-27 کے لیے ضروری عملے کی آسامیوں کے قیام اور تنخواہوں، آپریشنل امور، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دفتری جگہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے 9 کروڑ 88 لاکھ روپے مختص کرنے کی منظوری طلب کی۔غور و خوض کے بعد کابینہ نے معاملہ مزید تفصیلی جائزے کے لیے کابینہ کی ذیلی کمیٹی برائے خزانہ کو بھیجنے کا فیصلہ کیا۔کنری مرچ منڈی منصوبے کے لیے زمین کی منتقلی

سندھ کابینہ نے عمرکوٹ ضلع میں طویل عرصے سے زیر التوا مرچ منڈی کنری منصوبے کی تکمیل کے لیے مارکیٹ کمیٹی کنری کے حق میں 22 ایکڑ زمین منتقل کرنے کی منظوری دی۔

یہ منصوبہ اصل میں 2007 میں منظور کیا گیا تھا، تاہم سول ورک مکمل ہونے کے باوجود مطلوبہ زمین کی منتقلی نہ ہونے کے باعث منصوبہ نامکمل رہا۔ کابینہ کی جانب سے زمین کی منتقلی کی منظوری کے بعد محکمہ زراعت منصوبے کی تکمیل کے لیے مزید کارروائی کرسکے گا۔

*میرپورخاص واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن قائم*

کابینہ نے میرپورخاص واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن ایکٹ 2023 کے تحت میرپورخاص واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے باقاعدہ قیام کی منظوری دی۔کابینہ نے کارپوریشن کے بورڈ میں غیر سرکاری ارکان کی نامزدگی کی بھی منظوری دی، جن میں پانی کی فراہمی اور سیوریج مینجمنٹ، مالیات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، قانونی امور، انسانی وسائل اور سول سوسائٹی کے ماہرین شامل ہوں گے۔ کارپوریشن سے میرپورخاص میں شہری پانی کی فراہمی، سیوریج کی خدمات اور ادارہ جاتی نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی توقع ہے۔

*ایل اے آر پی بورڈ کی تشکیل* نو

کابینہ نے کراچی میں کے ڈی اے اسکیم نمبر 35 کے لیے لائنز ایریا ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ (ایل اے آر پی) بورڈ کی تشکیل میں ترامیم کی منظوری دی۔نظرثانی شدہ ڈھانچے کے تحت سندھ ماسٹر پلان اتھارٹی کے سینئر ڈائریکٹر، ایس بی سی اے کے ڈائریکٹر ماسٹر پلان کی جگہ بورڈ میں شامل ہوں گے۔ کابینہ نے دو عوامی نمائندوں کی شمولیت کی بھی منظوری دی۔

*ڈملوٹی تا ڈی ایچ اے واٹر پائپ لائن منصوبے کی نظرثانی شدہ لاگت*

کابینہ نے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کے ذریعے مکمل کیے جانے والے ڈملوٹی سے ڈی ایچ اے کراچی تک 36 کلومیٹر طویل پانی کی پائپ لائن بچھانے کے منصوبے کی نظرثانی شدہ انجینئرنگ، پروکیورمنٹ اینڈ کنسٹرکشن (ای پی سی) لاگت 14 ارب 23 کروڑ 70 لاکھ روپے منظور کرلی۔نظرثانی شدہ لاگت کی منظوری تفصیلی تکنیکی اور مالیاتی جائزے کے بعد دی گئی، جس میں اضافے کی وجوہات میں انجینئرنگ ڈیزائن میں تبدیلی، پائپ لائن کے مواد کی تبدیلی، ٹیکسز، مہنگائی، فلٹریشن سہولیات کی تکمیل، ایس سی اے ڈی اے نگرانی کے نظام کی تنصیب اور منصوبے کی دیگر ضروریات شامل ہیں۔کابینہ نے متعلقہ پروکیورمنٹ قانون کے تحت منصوبے کے کنسلٹنٹ کی تقرری کی بھی منظوری دی اور بلک واٹر ٹیرف 0.60 روپے فی گیلن سے بڑھا کر 0.70 روپے فی گیلن کرنے کی توثیق کی، تاکہ منصوبے کی طویل مدتی مالی پائیداری یقینی بنائی جاسکے۔ نظرثانی شدہ مالیاتی ماڈل کے مطابق آئندہ 10 سال کے دوران مجموعی طور پر تقریباً 2 ارب 31 کروڑ روپے کی خالص بچت متوقع ہے۔

*ناردرن بائی پاس پر جدید لاجسٹک پارک*

کابینہ نے اصولی طور پر کراچی کے ناردرن بائی پاس (ایم-10) پر جدید لاجسٹک پارک یا ٹرک ٹرمینل قائم کرنے کی منظوری دی، جس کا مقصد ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنا، مال برداری کی نقل و حرکت بہتر بنانا اور بندرگاہ سے متعلق لاجسٹکس سرگرمیوں کو سہولت فراہم کرنا ہے۔کابینہ کو بتایا گیا کہ جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (جائیکا) اور عالمی بینک سمیت مختلف اداروں کی جانب سے کیے گئے مطالعات میں شہر سے بھاری ٹرکوں کی آمدورفت کو منتقل کرنے اور جدید لاجسٹکس انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے اس منصوبے کی سفارش کی گئی ہے۔مجوزہ سہولت میں ٹرک پارکنگ، گودام، کنٹینر یارڈز، فیول اسٹیشنز، مرمت کی ورکشاپس، ڈرائیوروں کے لیے سہولیات اور دیگر لاجسٹک خدمات شامل ہوں گی۔کابینہ نے حکومت کی جانب سے تیار کیے جانے والے لائسنسنگ اور ضابطہ کار فریم ورک کے تحت ناردرن بائی پاس کے ساتھ کم از کم 400 ایکڑ نجی طور پر دستیاب زمین پر نجی شعبے کی سرمایہ کاری کے ذریعے منصوبہ تیار کرنے کی منظوری دی۔کابینہ نے محکمہ ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ کو منصوبے کے لیے ضروری ضابطہ کار فریم ورک اور عمل درآمد کا منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت کی۔

*سندھ بورڈز آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن اصلاحاتی پیکیج 2026*

کابینہ نے اصولی طور پر سندھ بی آئی ایس ای اصلاحاتی پیکیج 2026 کی منظوری دی، جو صوبے کے سات بورڈز آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن میں انتظامی نظام، امتحانی نظام اور ڈیجیٹل خدمات کو جدید بنانے کے لیے ایک جامع اقدام ہے۔اصلاحاتی پیکیج میں امتحانی انتظامی معلوماتی نظام (ای ایم آئی ایس)، او ایم آر پر مبنی امتحانات، آن اسکرین مارکنگ، نتائج کی خودکار تیاری، کیو آر کوڈ پر مبنی ڈیجیٹل سرٹیفکیٹس اور آن لائن تصدیقی خدمات متعارف کرانا شامل ہے۔ کابینہ نے 24 ماہ پر مشتمل مرحلہ وار عمل درآمد کے منصوبے کی بھی منظوری دی اور موجودہ اصلاحاتی کمیٹی کو عمل درآمد کمیٹی کے طور پر کام جاری رکھنے کی اجازت دی۔

یونیورسٹیز اینڈ بورڈز ڈیپارٹمنٹ کو اختیار دیا گیا کہ وہ محکمہ خزانہ، محکمہ قانون، محکمہ اسکول ایجوکیشن اور محکمہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ساتھ مشاورت کرے اور منظوری کے لیے ضروری قانونی اور عمل درآمد سے متعلق تجاویز پیش کرے۔کابینہ نے قرار دیا کہ اصلاحات سے شفافیت بہتر ہوگی، امتحانات کی سیکیورٹی مضبوط ہوگی، نتائج کی تیاری میں تاخیر کم ہوگی اور امتحانی نظام پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔

*تعلیمی بورڈز کے چیئرمینوں کی عمر کی حد میں اضافہ*

کابینہ نے تعلیمی بورڈز کے چیئرمینوں کی بھرتی کی پالیسی میں ترامیم کی منظوری دیتے ہوئے زیادہ سے زیادہ عمر کی حد 55 سال سے بڑھا کر 63 سال کردی، تاکہ تجربہ کار امیدواروں کے لیے امیدواروں کا دائرہ وسیع کیا جاسکے۔کابینہ نے چیئرمین بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کراچی (بی ایس ای کے) اور چیئرمین بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن حیدرآباد (بی آئی ایس ای حیدرآباد) کی آسامیوں کے لیے دوبارہ اشتہار دینے کی بھی منظوری دی۔ موجودہ امیدوار اہل رہیں گے اور انہیں دوبارہ درخواستیں جمع کرانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

*ایس ایم بی بی آئی ٹی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی مدت ملازمت میں توسیع*

سندھ کابینہ نے ڈاکٹر محمد صابر کی بطور ایگزیکٹو ڈائریکٹر شہید محترمہ بینظیر بھٹو انسٹی ٹیوٹ آف ٹراما (ایس ایم بی بی آئی ٹی)، کراچی مدت ملازمت میں 6 ماہ کی توسیع کی منظوری دی۔

*سندھ کا وفد ہونان اقتصادی فورم میں شرکت کرے گا*

سندھ کابینہ نے چین کے صوبہ ہونان میں 2026 ہونان انٹرنیشنل سسٹر سٹیز اکنامک اینڈ ٹریڈ فورم اینڈ کوآپریشن ڈائیلاگ میں سرکاری وفد کی شرکت کی منظوری دی۔ فورم حکومت اور کاروباری شعبے کے درمیان ایک پلیٹ فارم کے طور پر سندھ اور چینی کاروباری اداروں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، صنعتی تعاون، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور براہ راست تجارتی روابط کے فروغ میں کردار ادا کرے گا۔ محکمہ سرمایہ کاری کی قیادت اور سندھ انٹرپرائز ڈویلپمنٹ فنڈ (ایس ای ڈی ایف) کی معاونت سے شعبہ جاتی وفد میں نجی شعبے کے نمائندے بھی شامل ہوں گے، جن کے سفری اور متعلقہ اخراجات وہ خود برداشت کریں گے۔فورم چینی سرمایہ کاروں اور کاروباری رہنماؤں کے سامنے سندھ کی سرمایہ کاری کی صلاحیت، برآمدی صنعتوں، زرعی مصنوعات، فوڈ پروسیسنگ کے شعبے، پیداواری صلاحیتوں، قابل تجدید توانائی کے اقدامات اور ٹیکنالوجی پر مبنی کاروباری اداروں کو پیش کرنے کے مواقع فراہم کرے گا۔

*سندھ اور ہونان کے درمیان سسٹر صوبہ تعلقات قائم کرنے کی منظوری*

کابینہ نے سندھ اور عوامی جمہوریہ چین کے صوبہ ہونان کے درمیان سسٹر صوبہ تعلقات قائم کرنے کی بھی منظوری دی، جس کا مقصد طویل مدتی اقتصادی، تکنیکی، تعلیمی اور ثقافتی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔مجوزہ فریم ورک کے تحت دونوں فریق تجارت اور سرمایہ کاری، صنعتی ترقی، بنیادی ڈھانچے، سائنس و ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، ای کامرس، ڈیجیٹل معیشت، تعلیم، صحت اور عوامی سطح پر روابط کے شعبوں میں تعاون کریں گے۔کابینہ نے محکمہ سرمایہ کاری کو وزارت خارجہ اور متعلقہ چینی حکام سے مشاورت کے بعد شراکت داری کو باضابطہ شکل دینے کے لیے مفاہمت کی یادداشت کا مسودہ حتمی شکل دینے کا اختیار دے دیا۔ کابینہ نے قرار دیا کہ اس اقدام سے چین کے ساتھ سندھ کی اقتصادی سفارت کاری مزید گہری ہوگی، سرمایہ کاری متوجہ کرنے، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور تجارت و ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔

جواب دیں

Back to top button