سید مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم،کراچی،جامشورو اور سکھر میں ہنگامی مشینری تعینات

سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔وزیر اعلیٰ نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔

*جنوبی اور وسطی سندھ میں موسلا دھار بارش کا الرٹ*

ایڈوائزری کے مطابق 23 جولائی سے 25 جولائی تک تھرپارکر، عمرکوٹ، میرپورخاص، بدین، سانگھڑ، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہٰیار، حیدرآباد، مٹیاری، جامشورو اور شہید بینظیرآباد میں گرد آلود ہواؤں کے طوفان اور بارش کا امکان ہے، جبکہ بعض مقامات پر درمیانی سے موسلا دھار بارش بھی متوقع ہے، تاہم بارش کے دوران وقفے بھی آ سکتے ہیں۔

*بالائی سندھ میں بارش کی پیش گوئی*

23 اور 24 جولائی کے دوران گھوٹکی، کشمور، جیکب آباد، شکارپور، سکھر، قمبر شہدادکوٹ، لاڑکانہ، خیرپور، نوشہرو فیروز اور ٹھٹھہ میں گرج چمک کے ساتھ ہلکی سے درمیانی بارش کی بھی توقع ہے۔

*کراچی کے موسم کی صورتحال*

محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق آئندہ تین روز کے دوران کراچی ڈویژن میں موسم زیادہ تر گرم اور مرطوب رہنے کا امکان ہے، جبکہ بادلوں میں اضافے کے ساتھ بوندا باندی اور ہلکی بارش کے امکانات بھی موجود ہیں۔23 جولائی کو مطلع جزوی طور پر ابر آلود، موسم گرم اور مرطوب رہنے کے ساتھ بعض مقامات پر بوندا باندی کا امکان ہے، 24جولائی لو مطلع جزوی طور پر ابر آلود، موسم گرم اور مرطوب رہنے کے ساتھ بعض مقامات پر بوندا باندی کا امکان ہے، 25 جولائی لو مطلع زیادہ تر ابر آلود، موسم گرم اور مرطوب رہنے کے ساتھ بعض مقامات پر ہلکی بارش یا بوندا باندی کا امکان ہے۔ اس دوران جنوب مغربی ہوائیں چلیں گی۔

*ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیاری کے اقدامات*

وزیر اعلیٰ کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے پی ڈی ایم اے سندھ نے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے انتظامات مزید مؤثر بناتے ہوئے فوری ردعمل کے لیے مشینری، آلات اور افرادی قوت کی دستیابی یقینی بنائی ہے۔پی ڈی ایم اے نے بارش سے متعلق کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری طور پر نمٹنے کے لیے کراچی، جامشورو اور سکھر میں انسانی امداد کے مراکز اور ہنگامی مراکز پر ضروری مشینری اور افرادی قوت تعینات اور دستیاب کر دی ہے۔وزیر اعلیٰ نے تمام ڈپٹی کمشنرز اور ضلعی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (ڈی ڈی ایم ایز) کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ بلدیاتی اداروں، محکمہ صحت، آبپاشی کے حکام، امدادی خدمات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھیں۔

*ممکنہ اثرات*

پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ تیز ہواؤں، گرج چمک اور آسمانی بجلی کے باعث کمزور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچ سکتا ہے، جن میں سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز اور سائن بورڈز شامل ہیں۔

*کمزور ڈھانچے اور عارضی تنصیبات*

کاشت کاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ موسمی حالات کے مطابق زرعی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کریں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران مویشیوں کی حفاظت یقینی بنائیں۔ایڈوائزری میں مزید کہا گیا ہے کہ صوبے میں بارش کی سرگرمیوں کے باعث جاری گرم اور مرطوب موسمی حالات میں کمی آنے کا امکان ہے۔

*وزیر اعلیٰ کا چوکس رہنے پر زور*

وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے تمام متعلقہ حکام کو چوبیس گھنٹے چوکس رہنے، بدلتی ہوئی موسمی صورتحال کی مسلسل نگرانی کرنے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے پیشگی اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔سید مراد علی شاہ نے زور دیا کہ انسانی جانوں، مویشیوں، عوامی بنیادی ڈھانچے اور ضروری خدمات کا تحفظ اولین ترجیح ہونی چاہیے اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ موسلا دھار بارش، شہری سیلاب، تیز ہواؤں یا آسمانی بجلی کے باعث پیدا ہونے والی کسی بھی ہنگامی صورتحال پر فوری ردعمل یقینی بنایا جائے۔

جواب دیں

Back to top button