سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے اپنی حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں امن کے قیام، دہشت گردی کے خاتمے اور پائیدار ترقی کو یقینی بنانے کے لیے جدید، پیشہ ورانہ تربیت یافتہ اور عوام پر مرکوز پولیس فورس ناگزیر ہے۔وزیر اعلیٰ نے شاہد حیات پولیس ٹریننگ کالج سعیدآباد میں ریکروٹ ٹریننگ کورس (آر ٹی سی) بیچ 5/2025 کی 132ویں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے 315 خواتین اہلکاروں سمیت تربیت مکمل کرنے والے 974 نئے ریکروٹس کو مبارکباد دی اور انہیں سندھ پولیس کی نفری میں ایک تازہ اور قابل اضافہ قرار دیا۔تقریب میں انسپکٹر جنرل پولیس سندھ جاوید عالم اوڈھو، ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ذوالفقار لاڑک، ڈی آئی جی ٹریننگ فیض اللہ کوریجو، پرنسپل شاہد حیات پولیس ٹریننگ کالج ایس ایس پی عدیل چانڈیو، سینئر پولیس افسران، سول سوسائٹی کے ارکان اور تربیت مکمل کرنے والے ریکروٹس کے اہل خانہ نے شرکت کی۔پولیس کے ایک دستے نے بگل بجا کر وزیر اعلیٰ کی آمد کا اعلان کیا۔ سینئر پولیس افسران نے ان کا استقبال کیا، جس کے بعد انہوں نے روایتی کھلی جیپ میں پریڈ کا معائنہ کیا۔ عمدہ انداز میں تیار پولیس دستے نے رسمی سلامی پیش کی، جبکہ تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ریکروٹس نے آئین سے وفاداری، قوم کی خدمت اور قانون کی حکمرانی کی پاسداری کا عہد کرتے ہوئے حلف اٹھایا۔ انہوں نے تربیت کے دوران حاصل کی گئی مہارتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے شاندار ٹیکٹیکل اور پیشہ ورانہ عملی مظاہرے بھی پیش کیے۔وزیر اعلیٰ نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ریکروٹس میں انعامات اور اعزازی شیلڈز تقسیم کیں اور بعد ازاں کالج انتظامیہ کی جانب سے یادگاری شیلڈ بھی وصول کی۔
*وزیر اعلیٰ کا خطاب*
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سید مراد علی شاہ نے تربیت مکمل کرنے والے ریکروٹس کو مبارکباد دی اور اعلیٰ پیشہ ورانہ معیار برقرار رکھنے پر تربیتی عملے کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ میں تربیت مکمل کرنے والے تمام 974 ریکروٹس کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ مجھے خاص طور پر اس بات کی خوشی ہے کہ 300 سے زائد خواتین پولیس فورس میں شامل ہو رہی ہیں، جو سندھ پولیس میں بڑھتی ہوئی شمولیت اور طاقت کی عکاسی کرتی ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پریڈ کے دوران دکھائی دینے والے نظم و ضبط، اعتماد اور درستگی سے تربیت کے معیار کا اندازہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ریکروٹس کی بہترین کارکردگی شاہد حیات پولیس ٹریننگ کالج میں فراہم کی جانے والی تربیت کے اعلیٰ معیار کو ظاہر کرتی ہے۔ جدید پولیسنگ کے لیے جدید مہارتیں ضروری ہیں اور مجھے خوشی ہے کہ ہمارے نوجوان افسران کو عصری چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔نئے فارغ التحصیل اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے انہیں عوام کے تحفظ کے نگہبان کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کرائی۔انہوں نے کہا کہ آپ ہمارے عوام کی جان و مال کے محافظ ہیں۔ سندھ کے شہریوں، سول سوسائٹی اور حکومت کو آپ سے بہت زیادہ توقعات وابستہ ہیں۔ ہر شہری پُرامن زندگی گزارنا چاہتا ہے اور اس امن کو یقینی بنانے میں مدد کرنا ایک ایسی ذمہ داری ہے جو آپ کے کندھوں پر بہت زیادہ عائد ہوتی ہے۔وزیر اعلیٰ نے ریکروٹس پر زور دیا کہ وہ اپنے پورے کیریئر کے دوران پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور عوامی خدمت کو مقدم رکھیں۔ انہوں نے کہا لپ پیشہ ورانہ قابلیت، ایمانداری اور عوامی خدمت کے لیے لگن سندھ پولیس کی نمایاں خصوصیات بننی چاہئیں۔ عوام کا اعتماد صرف کارکردگی، انصاف پسندی اور فرائض سے وابستگی کے ذریعے حاصل کیا جاسکتا ہے۔مسٹر شاہ نے زور دیا کہ مجرموں اور قانون شکن عناصر کو عدالتوں کے سامنے لانا پولیس فورس کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا لپ جرائم کی روک تھام اور مؤثر قانون کا نفاذ عزم، بہادری اور پیشہ ورانہ صلاحیت کا تقاضا کرتا ہے۔ آپ کو قانون کی حکمرانی برقرار رکھنے کی اپنی ذمہ داری پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔
*پولیس کی قربانیوں کو خراج تحسین*
وزیر اعلیٰ نے دہشت گردی اور منظم جرائم کے خلاف جنگ میں سندھ پولیس کی دی جانے والی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پیارے ملک کو اب بھی دہشت گردی کے چیلنج کا سامنا ہے، لیکن سندھ پولیس کے افسران اور اہلکاروں نے ان خطرات کا غیر معمولی بہادری اور جرات کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔ ان کی قربانیوں اور ہمارے شہدا کی قربانیوں نے امن اور استحکام کی بحالی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ پولیس نے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد اور دہشت گردوں و جرائم پیشہ عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لانے میں قائدانہ کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سندھ پولیس کی مسلسل کارروائیاں ہمارے قومی عزم کا عملی مظہر ہیں۔ ہمارے پولیس اہلکاروں کی قربانیوں کے باعث پورے سندھ، بالخصوص کراچی میں سیکیورٹی کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔قانون نافذ کرنے کی جاری کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت شہری اور دیہی علاقوں میں پولیسنگ کے معیار کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان برقرار رکھنا ہماری اولین ترجیح ہے کیونکہ امن معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور سماجی پیش رفت کی بنیاد ہے۔
*پولیس کو جدید بنانے کے لیے حکومت کا عزم*
مراد علی شاہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سندھ حکومت پولیس کی فلاح و بہبود، تربیت اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت سندھ پولیس کی استعداد کار بڑھانے اور جدید سہولیات، آلات اور تربیت کے مواقع فراہم کرنے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔ پولیس کی فلاح و بہبود ہمیشہ میری اولین ترجیحات میں شامل رہی ہے اور ہم فورس کی ضروریات کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کرتے رہیں گے۔وزیر اعلیٰ نے نئے تربیت یافتہ اہلکاروں کو بہادری اور لگن کے ساتھ فرائض انجام دینے کی ترغیب دی۔ انہوں نے کہا، "مجھے یقین ہے کہ آپ سندھ پولیس کی بہترین روایات کو برقرار رکھیں گے اور ایک زیادہ محفوظ اور پُرامن معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ میں آپ کے پیشہ ورانہ کیریئر میں کامیابی کے لیے دعاگو ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ فورس کے لیے مزید عزت اور وقار کا باعث بنیں گے۔”
*آئی جی سندھ کی تربیتی اداروں کو اپ گریڈ کرنے کی اپیل*
اس سے قبل انسپکٹر جنرل پولیس جاوید عالم اوڈھو نے تربیت مکمل کرنے والے ریکروٹس کو مبارکباد دی اور ابھرتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پیشہ ورانہ پولیسنگ کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس فورس اپنی طاقت اپنے انسانی وسائل کے معیار سے حاصل کرتی ہے۔ شہریوں کا تحفظ، انصاف کی فراہمی اور خلوص کے ساتھ عوام کی خدمت ہماری بنیادی ذمہ داریاں ہیں۔آئی جی نے ریکروٹس پر زور دیا کہ وہ پیشہ ورانہ صلاحیت، دیانت داری اور اچھے طرز عمل کے ذریعے عوام کا اعتماد حاصل کریں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی وردی اعزاز بھی ہے اور امتحان بھی۔ سندھ کے عوام اور حکومت پولیس فورس سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کیے ہوئے ہیں۔ادارہ جاتی ضروریات کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے شاہد حیات پولیس ٹریننگ کالج سعیدآباد اور پولیس ٹریننگ کالج شہدادپور کو سینٹرز آف ایکسیلنس میں تبدیل کرنے کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے تقریب کے شرکا کو بتایا کہ دونوں اداروں کو اپ گریڈ کرنے کے لیے تقریباً 9 ارب 4 کروڑ 50 لاکھ روپے درکار ہوں گے۔انہوں نے انسٹرکٹرز کے تربیتی الاؤنسز میں اضافے، اضافی آپریشنل فنڈز، نئی تربیتی آسامیوں کے قیام اور رزاق آباد، سکرنڈ اور حیدرآباد میں پولیس تربیتی سہولیات کو اپ گریڈ کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
*پرنسپل نے تربیتی کامیابیوں کو اجاگر کیا*
استقبالیہ خطاب کرتے ہوئے شاہد حیات پولیس ٹریننگ کالج کے پرنسپل ایس ایس پی عدیل چانڈیو نے ادارے کی کامیابیوں اور مستقبل کی ضروریات کو اجاگر کیا۔انہوں نے بتایا کہ 1984 میں قیام کے بعد سے کالج نے 131 بیچز کے ذریعے 95 ہزار سے زائد پولیس افسران اور اہلکاروں کو تربیت فراہم کی ہے۔ سندھ پولیس کے علاوہ بلوچستان پولیس، گلگت بلتستان پولیس، اسلام آباد پولیس، پاکستان ریلوے پولیس، موٹروے پولیس، انسداد بدعنوانی کے اداروں اور وفاقی تحقیقاتی ادارے کے افسران نے بھی اس ادارے سے تربیت حاصل کی ہے۔پرنسپل ایس ایس پی چانڈیو نے بتایا کہ موجودہ بیچ میں 315 خواتین اہلکاروں سمیت 974 ریکروٹس شامل ہیں، جنہیں قانون، تفتیشی تکنیک، ٹیکنالوجی پر مبنی پولیسنگ، محفوظ ہتھیاروں کے استعمال، اخلاقیات اور پیشہ ورانہ طرز عمل کی سخت تربیت دی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ریٹائرڈ سینئر پولیس افسران، ججز، وکلا اور مختلف شعبوں کے ماہرین کو لیکچرز اور عملی تربیتی سیشنز کے لیے مدعو کیا گیا۔پرنسپل نے کیمپس کی سیکیورٹی میں حالیہ بہتری کو بھی اجاگر کیا، جس میں بیرونی حدود کی سیکیورٹی مضبوط بنانا، حفاظتی رکاوٹوں کی تنصیب، خاردار تاروں کی باڑ، نگرانی کے انتظامات میں بہتری اور نقل و حرکت کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا شامل ہے۔گرین سعیدآباد اقدام کے تحت کیمپس میں 2 ہزار سے زائد درخت اور پودے لگائے گئے ہیں، جبکہ کھانے کی خدمات، پینے کے پانی اور زیر تربیت اہلکاروں کی رہائش سمیت دیگر سہولیات میں بھی بہتری لائی گئی ہے۔انہوں نے حکومت سے کنکریٹ کی چار دیواری کی تعمیر، اضافی رہائشی بیرکس، نئی میس سہولیات، پانی کی فراہمی کے منصوبے، زیر زمین پانی کے ذخائر، بہتر نکاسی آب کے بنیادی ڈھانچے، جدید نگرانی کے نظام، بلٹ پروف جیکٹس، جدید ہتھیاروں اور جدید ترین مانیٹرنگ اینڈ کنٹرول روم کے قیام کے لیے تعاون کی درخواست کی۔تقریب وزیر اعلیٰ، سینئر پولیس افسران اور تربیت مکمل کرنے والے ریکروٹس کی گروپ فوٹو کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی، جس نے سندھ پولیس کی صلاحیتوں کو عصری قانون نافذ کرنے کے چیلنجز سے نمٹنے اور صوبے میں بڑی قربانیوں سے حاصل کیے گئے امن کے تحفظ کے لیے مزید مضبوط بنانے کے مقصد سے ایک اور تربیتی مرحلے کی کامیاب تکمیل کی یادگار قائم کردی۔






