کراچی( بلدیات ٹائمز)میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ شہر کے انفرااسٹرکچر کے تحفظ اور غیرقانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے کے ایم سی ویجی لینس اسکواڈ کا قیام ایک اہم قدم ہے، کے ایم سی ویجی لینس اسکواڈ کے قیام کا مقصد اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی شخص غیرقانونی طور پر سڑکوں کی کھدائی نہ کرے اور شہر کے انفرااسٹرکچر کو نقصان نہ پہنچائے،یہ اسکواڈ اس بات کی بھی نگرانی کرے گا کہ کہیں منشیات کے عادی افراد اسٹریٹ لائٹس، تاروں یا دیگر سرکاری املاک کو نقصان تو نہیں پہنچا رہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز صدر دفتر بلدیہ عظمیٰ کراچی میں کے ایم سی ویجی لینس اسکواڈ میں الیکٹرک بائیکس کی تقسیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر کے ایم سی سٹی کونسل میں پارلیمانی لیڈر کرم اللہ وقاصی، ڈپٹی پارلیمانی لیڈر دل محمد، جمن دروان، مسرت نیازی، سٹی کونسل کے اراکین، منتخب نمائندے اور کے ایم سی افسران بھی موجود تھے،میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں سٹی وارڈنز کو غیر متعلقہ ڈیوٹیوں پر لگا دیا جاتا تھا اور ان کی موبائل گاڑیوں کے استعمال سے پیٹرول کے اخراجات بھی بڑھتے تھے،حالیہ دنوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث اداروں پر مالی دباؤ بڑھا ہے جبکہ صورتحال یہ ہے کہ کام بلدیہ عظمیٰ کرتی ہے مگر نقصان کوئی اور پہنچا جاتا ہے، روڈ کٹنگ کوئی اور کر لیتا ہے اور اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب کے بعد انہیں چوری کر لیا جاتا ہے،انہوں نے کہا کہ محکمہ سٹی وارڈن کے ویجی لینس اسکواڈ میں 20 الیکٹرک بائیکس تقسیم کی ہیں، یہ اقدام چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کے وژن کے مطابق کیا جا رہا ہے جس کے تحت بلدیہ عظمیٰ کراچی کو اپنے پیروں پر کھڑا کیا جا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ الیکٹرک بائیکس کے استعمال سے نہ صرف ادارے کی کارکردگی بہتر ہوگی بلکہ فیول کی بچت بھی ممکن ہوگی جبکہ ملازمین کی سہولت کے لیے مختلف مقامات پر چارجنگ اسٹیشنز بھی قائم کیے جا چکے ہیں،میئر کراچی نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی گرین انرجی کی جانب تیزی سے بڑھ رہی ہے اور جمشید نسروانجی مہتا بلڈنگ کو پہلے ہی سولر توانائی پر منتقل کیا جا چکا ہے جبکہ اسپتالوں اور پمپنگ اسٹیشنز کو بھی سولرائز کیا جا رہا ہے جس سے بجلی کے اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ موٹر سائیکلیں کسی پروٹوکول کے لیے نہیں بلکہ شہر قائد کی ملکیت ہیں اور عملہ انہیں استعمال کرتے ہوئے مختلف علاقوں میں گشت کرے گا،انہوں نے کہا کہ مستقبل میں فیول کی بچت اور ماحول دوست پالیسیوں کے فروغ کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے اور ٹرکوں، گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو مرحلہ وار الیکٹرک وہیکلز پر منتقل کیا جائے گا، میئر کراچی نے اس موقع پر بتایا کہ واٹر کارپوریشن اور بلدیہ عظمیٰ کراچی نے مشترکہ طور پر کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور تمام ٹاؤنز و اداروں کو یقین دلایا کہ شہر کی بہتری کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا،میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج صبح انہوں نے اولڈ سٹی ایریا کا تفصیلی دورہ کیا اور گل پلازہ کے اطراف کے علاقوں سمیت اندرونی گلیوں کا معائنہ کیا، انہوں نے گفتگو کے دوران قومی امور پر بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی جدوجہد دراصل پاکستان کے دفاع اور اس کی مضبوطی کے لیے ہے،عالمی سطح پر حالیہ پیشرفت میں پاکستان کی کامیاب سفارتکاری نمایاں ہے اور دنیا بھر میں بھارت کی پسپائی کو محسوس کیا گیا، انہوں نے بتایا کہ جے ایف-17 طیاروں کا معاہدہ صدر مملکت آصف علی زرداری کے دور میں کیا گیا تھا جو آج ملک کے دفاع میں اہم کردار ادا کر رہا ہے،انہوں نے کہا کہ مشکل وقت میں چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم پاکستان کے ساتھ اہم ملاقاتیں کر کے قومی مؤقف کو مضبوط بنایا جبکہ صدر آصف علی زرداری نے ایوان صدر میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو یکجا کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے بین الاقوامی میڈیا کے سامنے پاکستان کا مقدمہ مؤثر انداز میں پیش کیا اور واضح کیا کہ پاکستان کی بقا ہی ہم سب کی بقا ہے،انہوں نے کہا کہ تمام پاکستانی اس کامیابی پر مبارکباد کے مستحق ہیں اور ہمیں اسی جذبے کے ساتھ متحد ہو کر آگے بڑھنا ہوگا، انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان عالمی سطح پر تنہائی کا شکار رہا تاہم اب دوبارہ ایک اہم ملک کے طور پر ابھر رہا ہے اور عالمی برادری کی توجہ حاصل کر رہا ہے،میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ شہر کے مختلف علاقوں میں لگائے گئے بینرز اور پوسٹرز کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاہم اس طرح کے ہتھکنڈوں سے نہ شہر صاف ہوگا اور نہ ہی مسائل حل ہوں گے، انہوں نے کہا کہ بعض مقامات پر ”کراچی کو حق دو“کے نعرے کے ساتھ جماعت اسلامی کے بینرز آویزاں ہیں مگر سوال یہ ہے کہ صرف دیواروں پر پوسٹرز لگانے سے کیا شہری مسائل حل ہو سکتے ہیں،انہوں نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے اور آئندہ ایسے افراد یا عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی جو غیرقانونی بینرز اور پوسٹرز تیار اور آویزاں کرتے ہیں، حتیٰ کہ ان کے کاروبار کو بھی سیل کیا جا سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ لیاری ٹرانسفارمیشن منصوبے پر بھی تنقید کی جا رہی ہے جبکہ عملی اقدامات بلدیہ عظمیٰ کراچی نے کئے ہیں، اسی طرح شاہراہ نور جہاں کی تعمیر بلدیہ عظمیٰ کراچی نے کی مگر اس پر بھی شکریہ جماعت اسلامی کے بینرز لگا دیے گئے،میئر کراچی نے کہا کہ اس قسم کی منافقت سے کبھی شہر کا بھلا نہیں ہوا اور جھوٹ پر مبنی سیاست عوام کے مسائل کا حل نہیں، انہوں نے کہا کہ سٹی کونسل اجلاس میں بھی غیر ضروری الزامات لگائے جاتے ہیں جبکہ اگر کسی کے پاس شواہد ہیں تو وہ کونسل ہال کی ویڈیوز میں دکھائیں کہ کون غیرمتعلقہ افراد کونسل اجلاس میں آئے یا کسی نے حملہ کیا،انہوں نے کہا کہ ہر کونسل اجلاس میں کچھ عناصر جان بوجھ کر ماحول کو خراب کرتے ہیں خصوصاً جماعت اسلامی کے بعض ارکان کی جانب سے غیرسنجیدہ رویہ اختیار کیا جاتا ہے، انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کے ساتھ بیٹھ کر اجلاس کے نظم و ضبط کو متاثر کیا جاتا ہے اور جیسے ہی یہ عناصر اجلاس سے باہر جاتے ہیں تو کارروائی پرامن انداز میں جاری رہتی ہے،انہوں نے کہا کہ کونسل اجلاس میں پی ٹی آئی کے اراکین بھی ان عناصر کے رویے سے متفق نظر نہیں آئے اور ایوان میں ایسا ماحول ہرگز مناسب نہیں، انہوں نے کہا کہ جب ایک رکن گفتگو کرے تو دوسروں کو خاموشی اختیار کرنی چاہیے مگر بدقسمتی سے بعض مواقع پر کرم اللہ وقاصی اور نجمی عالم کی گفتگو کے دوران ماحول کو جان بوجھ کر خراب کیا جاتا ہے جو جمہوری روایات کے منافی ہے، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ شہر میں ترقیاتی اور عوامی فلاح کے منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے اور شہریوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے، انہوں نے کہا کہ جھیل پارک میں ایک وقت میں جھیل ہوا کرتی تھی اور کراچی میں پاکستان کا پہلا واٹر پارک بھی قائم کیا گیا تھا جبکہ ماضی میں الہ دین واٹر پارک بھی شہریوں کی تفریح کا اہم مرکز تھا جسے بعد ازاں ختم کر دیا گیا،میئر کراچی نے کہا کہ اسپنسر آئی اسپتال جو 1940ء میں قائم ہوا تھا، ایک زمانے میں شہر کا بڑا اور اہم طبی مرکز تھا تاہم اب اسے دوبارہ فعال کیا جا رہا ہے، انہوں نے بتایا کہ اسپنسر آئی اسپتال کی او پی ڈی بحال کر دی گئی ہے اور جدید طبی آلات بھی فراہم کر دیے گئے ہیں جس کے بعد اب وہاں شہریوں کو بلا معاوضہ آنکھوں کے آپریشن کی سہولت میسر ہوگی،انہوں نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے تاکہ عام آدمی کو ریلیف فراہم کیا جا سکے،بعض عناصر یہ سمجھ رہے تھے کہ نئی قیادت دباؤ میں آجائے گی مگر ہم نے ثابت کیا ہے کہ ہم کسی دباؤ میں آنے والے نہیں اور شہر کی بہتری کے لیے کام جاری رکھیں گے۔






