سید مراد علی شاہ نے حیدرآباد میں 6 ایم جی ڈی ریپڈ گریویٹی واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کی تعمیر کے لیے 22 ایکڑ سے زائد سرکاری زمین کی الاٹمنٹ کی منظوری دے دی

وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے حیدرآباد میں 6 ایم جی ڈی ریپڈ گریویٹی واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کی تعمیر کے لیے 22 ایکڑ سے زائد سرکاری زمین کی الاٹمنٹ کی منظوری دے دی ہے ، جس کا مقصد قاسم آباد اور ملحقہ علاقوں میں بڑھتی ہوئی پانی کی ضروریات کو پورا کرنا اور فراہمی کو بہتر بنانا ہے۔یہ فیصلہ انہوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں وزیر منصوبہ بندی و ترقیات و آبپاشی جام خان شورو، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ، سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری آغا واصف اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقیات و آبپاشی جام خان شورو نے بتایا کہ حیدرآباد میونسپل کارپوریشن نے اس منصوبے کے لیے اے ڈی پی اسکیم کے تحت دیہہ جامشورو، تعلقہ قاسم آباد میں زمین کی الاٹمنٹ کی درخواست کی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے گاؤں مسری شیخ میں تقریباً 25 ایکڑ سرکاری زمین کی نشاندہی کی جا چکی ہے، جس میں سے 22 ایکڑ زمین A-1 کیٹیگری میں آتی ہے اور فوری استعمال کے لیے موزوں ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے میئر کو 22.14 ایکڑ زمین الاٹ کرنے کی منظوری دے دی تاکہ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کی تعمیر جلد عمل میں لائی جاسکے ۔مراد علی شاہ نے شہری پانی کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ منصوبے کو بروقت مکمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو صاف اور محفوظ پینے کے پانی کی فراہمی ہماری اولین ترجیجات میں سے ہے۔ حیدرآباد جیسے تیزی سے بڑھتے ہوئے شہری مراکز میں پانی کی فراہمی کے منصوبے کو بہت جلد تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے مزید ہدایت دی کہ محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات اور مقامی حکام تمام قانونی اور انتظامی امور کو تیزی سے مکمل کریں تاکہ تعمیراتی کام تا خیر کا شکار نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ صاف پانی کی فراہمی کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کرے گا اور قاسم آباد و ملحقہ علاقوں میں بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے میں مدد گار ثابت ہوگا۔یہ نہ صرف انفراسٹرکچر سرمایہ کاری کا ایک منصوبہ ہے بلکہ عوامی صحت، بہتر معیارِ زندگی اور پائیدار شہری ترقی میں سنگ میل کا حامل منصوبہ ہے۔اجلاس کے اختتام پروزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت کی کہ زمین کے استعمال میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور منصوبے کی سخت نگرانی کی جائے تاکہ حیدرآباد کے شہریوں کو بروقت فائدہ پہنچایا جا سکے۔

جواب دیں

Back to top button