وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بدھ کے روز سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن (ایس ای ایف) کے بورڈ آف گورنرز کے 14ویں اجلاس کی صدارت کی، جس میں بورڈ نے سندھ بھر میں معیاری تعلیم تک رسائی بڑھانے اور تعلیمی خدمات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مالی، تعلیمی اور انتظامی اقدامات کے ایک جامع پیکیج کی منظوری دی۔ وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف عباس، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ نجم شاہ، سیکریٹری اسکول ایجوکیشن زاہد عباسی، سیکریٹری خزانہ اصغر میمن، سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے منیجنگ ڈائریکٹر گنہوار علی لغاری اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ بورڈ کو بتایا گیا کہ سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن ملک کے سب سے بڑے سرکاری و نجی شعبے کے تعلیمی منصوبوں میں سے ایک بن چکی ہے۔ فاؤنڈیشن اس وقت سندھ بھر میں 3,230 اسکولوں اور تعلیمی مراکز کی معاونت کر رہی ہے، جہاں 10 لاکھ 78 ہزار 252 طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تحت فاؤنڈیشن اسسٹڈ اسکولز، پیپلز اسکول پروگرام، ایڈاپٹ اے اسکول پروگرام، ایکسیلیریٹڈ ڈیجیٹل لرننگ پروگرام اور دیگر غیر رسمی تعلیمی منصوبے چلائے جا رہے ہیں، جن کے ذریعے شہری اور دور دراز علاقوں کے بچوں کو تعلیم کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ ایم ڈی سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن گنہوار لغاری نے بورڈ کو بتایا کہ 2021-22 کے بعد سے سبسڈی کی شرحوں میں نظرثانی نہیں کی گئی تھی۔ منظور شدہ اضافے سے فاؤنڈیشن اسسٹڈ اسکولز میں زیرِ تعلیم 10 لاکھ سے زائد طلبہ جبکہ ٹی سی ایف کے تعاون سے چلنے والے اداروں میں زیرِ تعلیم 18 ہزار سے زائد طلبہ مستفید ہوں گے۔ اجلاس میں سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے مختلف پروگراموں کے تحت شراکت دار اسکولوں کے لیے سبسڈی کی شرحوں میں نظرثانی پر غور کیا گیا۔ یہ تجویز شراکت دار اداروں، بالخصوص دی سٹیزنز فاؤنڈیشن (ٹی سی ایف) کی درخواستوں کے بعد پیش کی گئی، جنہوں نے بڑھتے ہوئے انتظامی اور تعلیمی اخراجات کی نشاندہی کی تھی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے اس درخواست کا جائزہ لینے اور سفارشات پیش کرنے کے لیے وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی، جس میں چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ نجم شاہ اور سیکریٹری خزانہ اصغر میمن شامل تھے۔ بورڈ کو بتایا گیا کہ نظرثانی شدہ سبسڈی کے نظام، جس میں گورنمنٹ کمیونٹی اسکولز اور نان فارمل ایجوکیشن پروگرامز کے لیے سالانہ 7.9 ارب روپے کے اضافی اخراجات درکار ہوں گے۔ اجلاس نے صوبے بھر میں تعلیمی سلسلے اور معیار کو برقرار رکھنے کے لیے اس اضافی رقم کی منظوری دے دی۔ بورڈ نے پسماندہ اور دشوار گزار علاقوں میں تعلیمی سہولیات کی رسائی بڑھانے کے لیے خصوصی گرانٹ پیکیج پر بھی غور کیا۔ مجوزہ اقدامات میں سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے بند اسکولوں کو دوبارہ کھولنا اور فعال کرنا، ایسے علاقوں میں نئے اسکول قائم کرنا جہاں سرکاری تعلیمی سہولیات موجود نہیں اور بنیادی ڈھانچے میں بہتری کے ذریعے بغیر عمارت یا مناسب پناہ گاہ کے چلنے والے اسکولوں کی معاونت شامل ہے۔ بورڈ نے نئے اور بند اسکولوں کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے گرانٹ، پیپلز اسکول ماڈل کے تحت پبلک اسکول ٹنڈو آدم کو فعال کرنے کے لیے اضافی فنڈز اور تقریباً 500 گورنمنٹ کمیونٹی اسکولوں کو مرحلہ وار فعال کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا، خصوصاً ان اسکولوں کو جہاں طلبہ کی تعداد 100 سے زیادہ ہے۔سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی مالی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے بورڈ نے مالی سال 2026-27 کے سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے بجٹ سے متعلق تجاویز پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ حکام نے اجلاس کو بتایا کہ فاؤنڈیشن کے تیزی سے بڑھتے ہوئے دائرہ کار اور طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث قابل اور تربیت یافتہ اساتذہ کی بھرتی، خدمات کے معیار میں بہتری اور تعلیمی پروگراموں کے تسلسل کے لیے مزید وسائل درکار ہیں۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ تعلیم سندھ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس بات پر زور دیا کہ ہر بچے، بالخصوص پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں رہنے والے بچوں کو معیاری تعلیم کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے سرکاری و نجی شراکت داری اور کمیونٹی کی بنیاد پر قائم اسکولوں کے ماڈلز کے ذریعے تعلیمی مواقع کو وسعت دینے میں اہم اور مثبت کردار ادا کیا ہے۔ وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ طلبہ کے تعلیمی نتائج بہتر بنانے، داخلوں میں اضافہ کرنے، اسکولوں سے باہر بچوں کی تعداد کم کرنے اور صوبے بھر میں تعلیمی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے پر مسلسل توجہ دی جائے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ تعلیم پر سرمایہ کاری سندھ کے مستقبل پر سرمایہ کاری ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ سندھ حکومت ایسے پروگراموں کے لیے مسلسل تعاون جاری رکھے گی جو تعلیمی مواقع میں اضافہ اور پورے صوبے میں انسانی ترقی کے اشاریوں کو بہتر بنانے میں معاون ہوں۔
Read Next
5 گھنٹے ago
محمد اسحاق کھوڑوڈائریکٹر جنرل صوبائی لوکل گورنمنٹ کمیشن سندھ تعینات،نوٹیفکیشن جاری
6 گھنٹے ago
وزیر اعلٰی سندھ نےسرکاری گندم 100 کلوگرام کی بوری 12,500 روپے کی رعایتی قیمت پر جاری کرنے کی منظوری دے دی
10 گھنٹے ago
وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ کی زیر صدارت چائنیز سرمایہ کاروں کے وفد کا اجلاس
1 دن ago
طارق علی نظامانی سپیشل سیکریٹری لوکل گورنمنٹ اینڈ ہاؤسنگ ٹاؤن پلاننگ سندھ مقرر
2 دن ago






