وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے نمائندہ وفد سے ملاقات

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے نمائندہ وفد سینئر ممبر کونسل ایچ آر سی پی حسین نقی، ممبر کونسل ایچ آر سی پی سعیدیہ بخاری، ممبر کونسل ایچ آر سی پی مظفر حسین، سینئر منیجر ریسرچ اینڈ پبلیکشن ایچ آر سی پی ماہین پراچہ، ریجنل کوآرڈنیٹر گلگت بلتستان ایچ آر سی پی اسرارالدین اسرار اور کمپلیننٹ آفیسر ایچ آر سی پی ظہیرہ سراج سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان میں آئینی اصلاحات کے حوالے سے تمام سیاسی جماعتیں اور عوام متفق ہیں۔ سال 2009میں گلگت بلتستان کو انتظامی طور پر خودمختار بنانے کی جانب اہم پیش رفت ہوئی، تاہم گلگت بلتستان کو مالی طور پر خودمختار اور مستحکم بنانے کی بھی ضرورت ہے، جس کے لیے وفاقی حکومت کے ساتھ گلگت بلتستان کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت حصہ دینے کے حوالے سے بات چیت جاری ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ انتظامی اور قانون سازی کے حوالے سے گلگت بلتستان اور دیگر صوبوں کے اختیارات میں یکسانیت پائی جاتی ہے۔ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح گلگت بلتستان کے عوام کے بنیادی مسائل کا حل اور ان کے بنیادی حقوق کو یقینی بنانا ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خودکشی کے حوالے سے رپورٹ ہونے والے واقعات کے مختلف عوامل سامنے آئے ہیں۔ حکومت، علمائے کرام اور سول سوسائٹی کو ایسے واقعات کی روک تھام اور حوصلہ شکنی کے لیے مشترکہ اور متفقہ طور پر اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ سوشل سیکٹر صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ خواتین، نوجوانوں، بیواؤں اور خصوصی افراد کی فلاح و بہبود کے لیے 4 ارب روپے کا انڈومنٹ فنڈ قائم کیا گیا ہے، جبکہ بجٹ میں بھی اس شعبے کے لیے خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت آزادی اظہار رائے پر یقین رکھتی ہے۔ حالیہ دنوں گلگت بلتستان میں آن لائن فراڈ کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر حکومت کی کوشش ہے کہ عوام میں ڈیجیٹل لٹریسی اور آگاہی کو فروغ دینے پر بھی خصوصی توجہ دی جائے۔

جواب دیں

Back to top button