*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا 10ویں سالانہ مائیکروفنانس کانفرنس سے خطاب*

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مالی شمولیت کے حوالے سے صارفین پر مرکوز اور جدت پر مبنی نئے دور کے آغاز پر زور دیتے ہوئے پالیسی سازوں، مالیاتی اداروں، ریگولیٹرز اور ترقیاتی شراکت داروں پر زور دیا کہ وہ مالی سہولیات تک رسائی بڑھائیں اور ایسی مصنوعات تیار کرنے پر توجہ دیں جو حقیقی طور پر نظر انداز کیے گئے اور محروم طبقات کی ضروریات پوری کریں۔وزیراعلیٰ نے ایک مقامی ہوٹل میں 10ویں سالانہ مائیکروفنانس کانفرنس (اے ایم سی-10) کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانفرنس کا موضوع ’’ہم آہنگیوں کے امکانات سے فائدہ اٹھانا‘‘ سندھ میں غربت میں کمی کے لیے اختیار کیے گئے طریقہ کار کی عکاسی کرتا ہے، جہاں سرکاری ادارے، مالیاتی خدمات فراہم کرنے والے، ترقیاتی شراکت دار اور کمیونٹیز مل کر غربت سے نکلنے کے پائیدار راستے تشکیل دیتے ہیں۔دو روزہ کانفرنس میں قومی اور بین الاقوامی ماہرین نے خواتین کی مالی شمولیت، موسمیاتی لچک، زرعی فنانسنگ، ڈیجیٹل جدت، مصنوعی ذہانت اور نظر انداز کیے گئے کاروباری اداروں اور دیہی کمیونٹیز کے لیے مالی خدمات کے دائرہ کار کو بڑھانے کی حکمت عملیوں پر تبادلہ خیال کیا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ گزشتہ دو روز کے دوران اس کانفرنس نے ثابت کیا ہے کہ کوئی ایک ادارہ تنہا غربت کا خاتمہ نہیں کرسکتا۔ حقیقی پیش رفت اس وقت ہوتی ہے جب حکومتیں، مالیاتی ادارے، ترقیاتی شراکت دار اور کمیونٹیز ابتدا ہی سے مل کر کام کریں۔انہوں نے پاکستان مائیکروفنانس نیٹ ورک (پی ایم این) کو ایک دہائی سے کانفرنس کے پلیٹ فارم کو برقرار رکھنے پر سراہا اور ملک بھر میں جامع مالیاتی نظام کے فروغ میں یورپی یونین، اقوام متحدہ کے صنعتی ترقیاتی ادارے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) اور دیگر ترقیاتی شراکت داروں کے تعاون کا اعتراف کیا۔کانفرنس سے حاصل ہونے والے اہم نکات پر روشنی ڈالتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ مالیاتی شعبے کے لیے اگلا چیلنج محض مزید بینک اکاؤنٹس کھولنا نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ مالیاتی مصنوعات دیہی گھرانوں، کسانوں اور چھوٹے کاروباروں کی حقیقتوں سے مطابقت رکھتی، ان کے تقاضوں کے مطابق اور مخصوص ضروریات کے تحت تیار کی جائیں۔انہوں نے کہا کہ اب سوال یہ نہیں رہا کہ ہم کتنے اکاؤنٹس کھولتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ آیا مالیاتی مصنوعات فرد، موسم اور لوگوں کو درپیش خطرات کے مطابق ہیں، انہوں نے زور دیا کہ مالی شمولیت کو صرف اعداد و شمار کے بجائے لوگوں کی زندگیوں پر اس کے اثرات سے جانچا جانا چاہیے۔وزیراعلیٰ نے کمیونٹی کی قیادت میں غربت میں کمی کے لیے سندھ کی طویل عرصے سے جاری سرمایہ کاری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز تخفیف غربت پروگرام، جو 2009 میں شروع کیا گیا تھا، دو اضلاع سے بڑھ کر دیہی سندھ کے وسیع حصوں تک پھیل چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے تحت 10 لاکھ سے زائد گھرانوں کو منظم کیا گیا ہے، جن میں بنیادی کردار خواتین کی قیادت میں قائم کمیونٹی تنظیموں کا ہے، جبکہ پروگرام میں بلاسود کمیونٹی سرمایہ کاری فنڈز، آمدنی پیدا کرنے والی گرانٹس، ہنر مندی کی ترقی اور کم لاگت رہائش کی معاونت شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ صرف قرض خاندانوں کو غربت سے باہر نہیں نکالتا۔ مؤثر طریقہ کار وہ ہے جس میں مالی معاونت کے ساتھ ہنر، کاروباری معاونت، رہائش اور کمیونٹی کی تنظیم سازی کو یکجا کیا جائے۔یورپی یونین کی معاونت سے اقوام متحدہ کے صنعتی ترقیاتی ادارے کے تحت نافذ کیے جانے والے پیڈار پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ اقدام سندھ کے کئی اضلاع میں کاروباری ترقی، دیہی خدمات اور مالی سہولیات تک رسائی کے نئے مواقع پیدا کر رہا ہے۔مراد علی شاہ نے سندھ حکومت کے سماجی تحفظ کے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ صوبے نے حال ہی میں ابتدائی بچپن کی نشوونما کے پروگرام کی منظوری دی ہے، جس کے تحت تقریباً 8 لاکھ 85 ہزار بچوں کی دیکھ بھال کرنے والے افراد کو سہ ماہی نقد معاونت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ زرعی شعبے سے وابستہ خواتین کارکنوں کے لیے موسمی نقد منتقلی کے ذریعے معاونت میں اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ ممتا زچگی صحت پروگرام اب 22 اضلاع تک پھیل چکا ہے۔موسمیاتی لچک کی جانب توجہ دلاتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ غربت میں کمی اور موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت کو ایک ہی ایجنڈے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، خصوصاً ایسے صوبے میں جو سیلاب اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق آفات کے خطرات سے دوچار ہے۔انہوں نے سندھ پیپلز ہاؤسنگ فار فلڈ افیکٹیز پروگرام کے تحت ہونے والی پیش رفت کو اجاگر کیا، جو دنیا کے سب سے بڑے آفات کے بعد تعمیر نو کے اقدامات میں سے ایک ہے اور اس کا مقصد 21 لاکھ موسمیاتی لحاظ سے مضبوط گھروں کی تعمیر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 5 لاکھ سے زائد گھر پہلے ہی مکمل ہوچکے ہیں، جبکہ 12 لاکھ 50 ہزار سے زائد گھروں کی تعمیر جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی شمولیت اور گھرانوں کی موسمیاتی لچک مضبوط بنانے کے لیے زمین کی ملکیت کے دستاویزات اور بینک اکاؤنٹس خواتین کے نام پر جاری کیے جارہے ہیں۔وزیراعلیٰ نے حال ہی میں شروع کیے گئے سندھ کوسٹل ریزیلینس پروجیکٹ کا بھی حوالہ دیا، جو 31 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کا منصوبہ ہے اور اسے آئی ایف اے ڈی، ایشیائی ترقیاتی بینک اور گرین کلائمیٹ فنڈ کی معاونت حاصل ہے۔ منصوبے سے ٹھٹھہ، سجاول اور بدین کے تقریباً ایک لاکھ 96 ہزار گھرانے مستفید ہوں گے، جبکہ منصوبے کے تحت مینگرووز کی بحالی، نکاسی آب کے بنیادی ڈھانچے، موسمیاتی لحاظ سے بہتر ذرائع معاش اور نوجوانوں کی ہنرمندی کی ترقی میں سرمایہ کاری کی جائے گی۔کاروباری ترقی پر بات کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ انٹرپرائز ڈویلپمنٹ فنڈ (ایس ای ڈی ایف) چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں، خصوصاً خواتین کی زیرقیادت کاروباری اداروں کی مسلسل معاونت کر رہا ہے۔ انہوں نے کراچی میں ون ونڈو بزنس فسیلیٹیشن سینٹر کے قیام کو اجاگر کیا، جہاں کاروباری افراد کو ایک ہی جگہ کاروباری منصوبہ بندی، لائسنسنگ اور مالی معاونت کی خدمات تک رسائی فراہم کی جاتی ہے۔تقریب کی ایک اہم خصوصیت پیڈار انوویشن لیبز کا اجرا تھا، یہ اقدام ان دیہی مالیاتی مصنوعات کی مشترکہ تیاری کے لیے شروع کیا گیا ہے جو ان کمیونٹیز اور کاروباری اداروں کے ساتھ مل کر تیار کی جائیں گی جن کے لیے انہیں بنایا جانا ہے۔ وزیراعلیٰ نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ جب مالیاتی حل آخری صارفین کی فعال شرکت سے تیار کیے جائیں تو وہ زیادہ مؤثر ثابت ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں صارف کے ساتھ مل کر مصنوعات اور حل تیار کرنے چاہئیں، ان پر حل مسلط نہیں کرنے چاہئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جدت، تعاون اور صارف پر مرکوز ڈیزائن نظر انداز کیے گئے علاقوں میں مالی شمولیت کے دائرہ کار کو بڑھانے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔اپنے خطاب کے اختتام پر وزیراعلیٰ نے متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ تعاون، جدت اور اثرات پر مبنی ترقی سے حاصل ہونے والے اسباق کو آگے بڑھائیں۔ جامع ترقی کے لیے سندھ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ہر کاروباری صلاحیت رکھنے والی خاتون اور مرد کو مالی سہولیات، مواقع اور بہتر مستقبل کی تعمیر کے ذرائع تک رسائی حاصل ہو۔

جواب دیں

Back to top button