وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے عالمی ادارہ محنت(ILO) کے ڈائریکٹر جنرل گلبرٹ ایف ہونگبونے وفد کے ہمراہ ملاقات کی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے عالمی ادارہ محنت کے وفد کا خیرمقدم کیا۔ ملاقات میں مزدوروں اور ورکرز کی فلاح وبہبو دپر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے صنعتی ورکرز کے لئے پنجاب کے تاریخی اقدامات اور پراجیکٹس آگاہ کیا۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پنجاب میں ورکرز کی فلاح و بہبود، راشن کارڈ، لیبر قوانین اور لیبر کالونیز سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا۔ عالمی ادارہ محنت کے ڈائریکٹر جنرل نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کوصوبہ میں لیبر اور ورکرز کو راشن کارڈ دینے پر خراج تحسین پیش کیا۔ ڈائریکٹر جنرل آئی ایل او نے پنجاب میں صنعتی ورکرزکیلئے اپارٹمنٹس کی الاٹمنٹ کے اقدام کو سراہا۔ عالمی ادارہ محنت کے ڈائریکٹر جنرل نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو یواین ہیبی ٹیٹ سکرول آف آنر ایوارڈ ملنے پر مبارکباد دی اور خراج تحسین پیش کیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ
لیبر کوڈ2026 کے تحت کم از کم اجرت میں اضافہ، مزدوروں کی باقاعدہ رجسٹریشن اور لیبر قوانین پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔صوبہ میں چائلڈ لیبر کے خاتمے کیلئے خصوصی ہیلپ لائنز اور بحالی (Rehabilitation) مراکز بھی قائم کیے جا رہے ہیں۔ پنجاب ایمپلائز سوشل سکیورٹی انسٹی ٹیوشن (PESSI) محنت کشوں اور ان کے اہل خانہ کوصحت کی بہترین سہولتیں فراہم کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔صوبائی کابینہ کی منظوری کے بعد صوبہ میں پنجاب لیبر کوڈ 2026 کو نافذ کر دیا گیا۔ لیبر قوانین کے نفاذ اور مزدوروں کو سوشل سیکورٹی کوریج، رہائش اور ان کے بچوں کوبہترین تعلیم کیلئے اقدامات ثمر آور ثابت ہورہے ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ صوبے میں 70 ہزار سے زائد بچوں سے جبری مشقت کی نشاندہی کرکے چائلڈ لیبر کا خاتمہ اور 3644 بچوں کو سکول بھیجا گیا۔ گزشتہ 3 سالوں میں 4.9 ملین ورکرز کو کم از کم اجرت کی ادائیگی یقینی بنائی گئی اورخلاف ورزی پر 752 ایف آئی آر درج کی گئیں۔ ایکوپیشنل سیفٹی اینڈ ہیلتھ قوانین پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کیلئے 42858 انسپکشن اور 22547 ایڈوائزری جاری کی گئیں۔ پنجاب میں 12 لاکھ صنعتی ورکرز کو مریم نواز راشن کارڈ سے 3.7 ارب روپے مل چکے ہیں۔لیبر انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم (LIMS) کے تحت پنجاب میں اجرت اور بچوں کی مزدوری کے خلاف روک تھام کی جارہی ہے۔ لیبر انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم کے تحت کم از کم اجرت کے نفاذ، چائلڈ لیبر کے خاتمے،پیشہ ورانہ حفاظت اور صحت (او ایس ایچ) پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔لیبرانفارمیشن مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے لیبر انسپکٹرزکاصنعتی حادثہ کی صورت میں ریسیکیو1122 کے ساتھ فوری رابطہ یقینی بنایا گیا۔ صنعتی لیبر کی جان ومال کی حفاظت کیلئے محکمہ محنت کی ہیلپ لائن1314 سے 24/7 فنکشنل ہے۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے مزید کہا کہ لاہور، فیصل آباد، ملتان، گوجرانوالہ، راولپنڈی اور رحیم یار خان میں ورکرز کی پیشہ ورانہ صحت اور حفاظت کیلئے نئے مراکز قائم کررہے ہیں۔ لاہور میں پاکستان کی پہلی ایکوپیشنل سیفٹی اینڈ ہیلتھ لیبارٹری اسی سال قائم ہوگی جبکہ فیصل آباد میں او ایس ایچ لیب آخر تک مکمل ہوگی۔نجی فیکٹریوں اور دفاتر میں خواتین کی شرکت بڑھانے کیلئے ڈی جی ایل ڈبلیو کے تحت 577 ڈے کیئر سنٹرقائم کیے جار ہے ہیں۔ اگلے دو سالوں میں لاہور، گوجرانوالہ، ملتان اور راولپنڈی میں لیبر مارکیٹ ریسرچ سیل اور ایمپلائمنٹ فیسیلیٹیشن سینٹرزبنائیں گے۔ پنجاب حکومت آجروں کو لیبر قوانین کی پاسداری کرنے میں مددفراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ معاشی ترقی اور سپلائی چین میں لیبر کے عالمی معیار کو شامل کرنے کے لیے ILO کی مدد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ آئی ایل او کے ڈائریکٹر جنرل گلبرٹ ایف ہونگبو نے مزدوروں کی بہبودگرانٹس میں نمایاں اضافے کو سراہا۔






