ورلڈ بینک کے اعلیٰ سطحی وفد کا پی ایم ڈی ایف سی کا دورہ،پنجاب انکلوسیو سٹیز پروگرام کی پیش رفت کا جائزہ

ورلڈ بینک کے اعلیٰ سطحی وفد نے پنجاب میونسپل ڈویلپمنٹ فنڈ کمپنی (پی ایم ڈی ایف سی) کے ہیڈ آفس لاہور کا دورہ کیا۔ وفد میں ورلڈ بینک کے پریکٹس منیجر واٹر ڈیوڈ مشا، واٹر سپیشلسٹ کارلو البرٹو اور فرحان سمیع اللہ شامل تھے۔ منیجنگ ڈائریکٹر پی ایم ڈی ایف سی سید زاہد عزیز نے کمپنی کے اعلیٰ افسران کے ہمراہ وفد کا استقبال کیا اور کمپنی کی کارکردگی، جاری ترقیاتی منصوبوں اور پنجاب انکلوسیو سٹیز پروگرام (PICP) کے تحت ہونے والی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی۔اس موقع پر سید زاہد عزیز نے بتایا کہ ورلڈ بینک کے تعاون سے پنجاب انکلوسیو سٹیز پروگرام کے تحت پنجاب کے 16 شہروں میں واٹر سپلائی، سیوریج اور ڈرینیج کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔ پروگرام کا بنیادی مقصد شہریوں کو پینے کے صاف پانی، نکاسی آب سہولیات کی بہتر فراہمی یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ منصوبوں کی پائیداری، معیار اور بروقت تکمیل کے لیے جدید تعمیراتی ٹیکنالوجی متعارف کروائی جا رہی ہے، جس میں پری کاسٹ مین ہولز اور ایچ ڈی پی ای لائنڈ سیوریج پائپس کا استعمال شامل ہے۔ اس کے علاوہ 14 شہروں میں ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس اور زیرِ زمین سٹوریج ٹینکس کی تعمیر بھی پروگرام کا حصہ ہے۔ایم ڈی پی ایم ڈی ایف سی نے وفد کو بتایا کہ پنجاب میں بلدیاتی خدمات کی فراہمی کے شعبے میں پہلی مرتبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل متعارف کروایا جا رہا ہے، جس کے تحت قصور اور چکوال میں واٹر سپلائی اور سیوریج کے منصوبے نجی شعبے کے تعاون سے مکمل کیے جائیں گے۔ ان دونوں شہروں میں تقریباً 20 ارب روپے کی لاگت سے منصوبوں کی تکمیل کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (IFC) کے ساتھ ٹرانزیکشن ایڈوائزری معاہدہ بھی طے پا چکا ہے۔سید زاہد عزیز نے مزید بتایا کہ پروگرام کے تحت سات کنسلٹنٹ فرمز کی خدمات تخمینہ لاگت سے 15 فیصد کم پر حاصل کی گئی ہیں، جس سے سرکاری وسائل کی بچت ممکن ہوئی ہے۔ منتخب کنسلٹنٹ فرمز میں کورین اور ترک کمپنیاں بھی شامل ہیں، جو منصوبوں کی ڈیزائننگ اور نگرانی میں اپنی تکنیکی مہارت فراہم کریں گی۔دورے کے دوران ورلڈ بینک کے وفد نے پنجاب انکلوسیو سٹیز پروگرام کے پیکج ون اور ٹو پر کام کرنے والی ڈیزائن اینڈ سپرویژن کنسلٹنٹ فرمز کے نمائندوں سے بھی ملاقات کی اور متعلقہ منصوبوں کے ڈیزائن، تکنیکی امور اور عملدرآمد کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا۔

جواب دیں

Back to top button