پاکستان واٹر آپریٹرز نیٹ ورک (پی وان) نے آگاہی اور ویلٹ ہنگر ہلفے کے اشتراک سے لاہور میں ملٹی اسٹیک ہولڈر مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ کا مقصد پی وان کو پاکستان کے فراہمی و نکاسی آب اور حفظانِ صحت کے شعبے کے لیے قابلِ اعتماد نیشنل نالج اور ریسورس سنٹر کے طور پر مضبوط بنانا تھا۔ورکشاپ میں انور حسین، سینئر چیف ٹیکنیکل پلاننگ کمیشن پاکستان، مبارک علی سرور، چیف ایگزیکٹو آفیسر آگاہی، صائمہ ولیمز، گلوبل ایڈووکیسی ایڈوائزر ویلٹ ہنگر ہلفے، اور طاہرہ جبیں، نیشنل کوآرڈینیٹر پی وان نے خصوصی شرکت کی۔دیگر شرکا میں عدنان نثار خان، شاہد ابراہیم، عمیر بٹ، وقاص طاہر، منیجر واش آگاہی، واسا افسران اور الجزاری اکیڈمی کے پرنسپل ڈاکٹر سومان خالد شامل تھے۔ ورکشاپ میں لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ، ہاؤسنگ، اربن ڈویلپمنٹ اینڈ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ، پنجاب صاف پانی اتھارٹی، پنجاب رورل میونسپل سروسز کمپنی، محکمہ صحت، پاکستان کونسل آف ریسرچ اِن واٹر ریسورسز، یونیسیف، سول سوسائٹی آرگنائزیشنز، تعلیمی اداروں، بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں، فراہمی و نکاسی آب کے اداروں اور پی وان کے ممبر اداروں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

ورکشاپ کے دوران واش سیکٹر میں نالج، ریسرچ اور کیپسٹی کے موجودہ خلا کی نشاندہی کی گئی۔ شرکا نے پی وان کے انتظامی ڈھانچے، ممبرشپ، کوآرڈینیشن، پارٹنرشپ اور ادارہ جاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے تجاویز پیش کیں۔ پورے شعبے میں نالج مینجمنٹ، جدت، ریسرچ اور انفارمیشن شیئرنگ کو بہتر بنانے کے لیے جامع روڈ میپ کی تیاری پر بھی مشاورت کی گئی۔ڈیجیٹل انفارمیشن اسٹوریج، ریسرچ اور ٹریننگ میٹریل کی تیاری، اداروں کی کیپسٹی بلڈنگ، ماہرین کے درمیان رابطہ کاری اور شواہد پر مبنی فیصلہ سازی ورکشاپ کے اہم موضوعات میں شامل تھے۔ شرکا نے ریسرچ اور پیشہ ورانہ مہارتوں کے فروغ کے لیے واش سیکٹر کے ماہرین کا قومی نیٹ ورک تشکیل دینے پر بھی اتفاق کیا تاکہ شعبے کو درپیش مسائل کے تحقیق اور نالج پر مبنی حل تلاش کیے جاسکیں۔چیئرمین پی وان سید زاہد عزیز نے کہا کہ پانی اور صفائی کی بہتر خدمات پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔ پی وان کو ایک ایسا قابلِ اعتماد نیشنل نالج اور ریسورس سنٹر بنایا جائے گا جہاں جدید ریسرچ، مستند معلومات، ٹریننگ ریسورسز اور ماہرین کی رہنمائی تک آسان رسائی دستیاب ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ مستند معلومات کی تیاری، انہیں ایک جگہ جمع کرنے اور تمام متعلقہ اداروں تک پہنچانے کے لیے مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔ پی وان بطور قومی پلیٹ فارم شواہد پر مبنی فیصلہ سازی، اداروں کی کیپسٹی بلڈنگ اور شہریوں کو پانی و صفائی کی بہتر خدمات فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ اداروں کے درمیان علم، تجربات اور کامیاب طریقہ کار کا تبادلہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔چیف ایگزیکٹو آفیسر آگاہی مبارک علی سرور نے پی وان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اس کے وژن کے لیے آگاہی کے بھرپور تعاون کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پی وان، آگاہی اور ویلٹ ہنگر ہلفے کی پارٹنرشپ واش سیکٹر میں ادارہ جاتی کیپسٹی بلڈنگ، نالج گیپس کو دور کرنے اور باہمی تعاون اور تجربات کے تبادلے کو فروغ دینے میں دیرپا کردار ادا کرے گی۔ویلٹ ہنگر ہلفے کی گلوبل ایڈووکیسی ایڈوائزر صائمہ ولیمز نے کہا کہ واش سیکٹر کو مضبوط بنانے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشترکہ کوششیں اور ذمہ داری ضروری ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مجوزہ نیشنل نالج اور ریسورس سنٹر مستقبل میں اپنے دائرہ کار کو وسعت دیتے ہوئے عالمی سطح پر تسلیم شدہ پلیٹ فارم بن سکتا ہے، جو مختلف شعبوں کے درمیان تعاون کو فروغ دے گا۔الجزاری اکیڈمی کے پرنسپل ڈاکٹر سومان خالد نے پی وان، آگاہی اور ویلٹ ہنگر ہلفے کی مشترکہ کوششوں کو سراہا اور نیشنل نالج اور ریسورس سنٹر کے قیام میں تعاون کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے پاکستان میں واش سیکٹر کی ترقی کے لیے مضبوط پارٹنرشپس اور اداروں میں سیکھنے کے عمل کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا۔ورکشاپ کے اختتام پر شرکا نے کوآرڈینیشن، نالج شیئرنگ، ریسرچ، اور سیکٹر لرننگ کو مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کا اظہار کیا۔ ورکشاپ کی سفارشات پاکستان کے لیے ایک پائیدار، جامع اور مؤثر نیشنل واش نالج اور ریسورس سنٹر کے قیام کی بنیاد فراہم کریں گی۔


