سندھ کے بلدیاتی اداروں کے ملازمین نے اپنے مطالبات کے حق میں گڑھی خدا بخش شہید بے نظیر بھٹو کے مزار سے لانگ مارچ کا آغاز کر دیا

سندھ کے بلدیاتی اداروں کے ملازمین نے اپنے مطالبات کے حق میں گڑھی خدا بخش شہید بے نظیر بھٹو کے مزار سے لانگ مارچ کا آغاز کر دیا ہے۔لانگ مارچ کے شرکاء کا تمام بلدیاتی اداروں کی جانب سے بھرپور استقبال جاری ہے جس کے لئے ایک ماہ سے تیاری کی جا رہی تھی اور حکومت سندھ کو مطالبات بھی پیش کئے گئے جس پر کوئی خاص پیش رفت ہوئی نہ حکومت نے ملازمین تنظیموں سے مذاکرات کئے۔سندھ کے بلدیاتی ملازمین کا کہنا ہے کہ بلدیاتی اداروں کے کلرکوں کی تنخواہ 20 ہزار جبکہ نائب قاصدوں کی 10 ہزار ہے۔سندھ میں کم از کم اجرت کے قانون پر عمل درآمد نہیں ہورہا جس کے مطابق کم از کم تنخواہ 37 ہزار روپے ہے۔سندھ کے بلدیاتی سربراہان دستیاب بجٹ میں زیادہ سے زیادہ کرپشن کے لئے ان کی تنخواہیں نہیں بڑھا رہے ہیں۔سندھ کے بلدیاتی ملازمین عرصہ دراز سے ترقیوں کے حق سے محروم ہیں۔مظاہرین کے مطابق لانگ مارچ کراچی پریس کلب تک ہے اگرمطالبات منظور نہ ہوئے تو 25 اور 26 ستمبر کو پورے صوبے سے بلدیاتی ملازمین کراچی پہنچیں گے اور ممنوعہ زون میں احتجاجی دھرنا دیا جائے گا جو مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا۔

شاہ لطیف ایمپلائز یونین سندھ کے صدر حافظ مشتاق احمد کوریجو کی قیادت میں اپنے مطالبات کے اعتراف کے لیے گڑھی خدا بخش بھٹو سے کراچی پریس کلب تک پیدل مارچ شروع کیا گیا۔

آخری اطلاعات آنے تک گڑھی خدا بخش بھٹو سے لانگ مارچ بذریعہ ماری چوک لاڑکانہ پہنچا جہاں یونین ضلع کونسل لاڑکانہ کے صدر محمد بخش سومرو اور دیگر نے شاہ لطیف کا پرتپاک استقبال کیا اور پیدل مارچ کراچی پریس کلب پہنچے گا۔ جس میں 26 کو پورے سندھ کے ملازمین شرکت کریں گے اور اپنے مطالبات کے لیے دھرنے پر بیٹھیں گے۔آل پاکستان لوکل گورنمنٹ ورکرز فیڈریشن سندھ بھی لانگ مارچ میں شامل ہے۔

جواب دیں

Back to top button