وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ہدفی پبلک ٹرانسپورٹ سبسڈی پروگرام کے نفاذ کا جائزہ لیا اور چھوٹے کاشتکاروں کے لیے اضافی مالی معاونت کی منظوری دے دی، جو بڑھتی ہوئی عالمی ایندھن کی قیمتوں کے اثرات کو عوام اور اہم معاشی شعبوں پر کم کرنے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں صوبائی وزراء شرجیل انعام میمن، ناصر شاہ، مکیش کمار چاولہ، محمد بخش خان مہر، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، پرنسپل سیکریٹری وزیراعلیٰ (پی ایس سی ایم) آغا واصف، کمشنر کراچی حسن نقوی، سیکریٹری آئی پی سی آصف اکرام، سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی، سیکریٹری ایکسائز سلیم راجپوت، سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، سیکریٹری زراعت زمان ناریجو اور ڈپٹی چیف ایگزیکٹو آفیسر سندھ بینک اسد شاہ سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔وزیراعلیٰ نے ہدفی پبلک ٹرانسپورٹ سبسڈی پروگرام کا جائزہ لیا جس کا مقصد غیر معمولی ایندھن قیمتوں میں اضافے کے باوجود کرایوں کو قابل برداشت رکھنا اور صوبے کے ٹرانسپورٹ نظام کی پائیداری کو یقینی بنانا ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ عالمی جغرافیائی سیاسی صورتحال کے باعث پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس کے تحت ڈیزل کی قیمت میں 244 روپے فی لیٹر سے زائد اور پیٹرول میں 120 روپے فی لیٹر اضافہ ہوا، جس سے کرایوں میں اضافے اور مسافروں کی تعداد میں کمی کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے، خاص طور پر کم آمدنی والے طبقات متاثر ہو سکتے ہیں۔مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح مسافروں کا تحفظ اور ٹرانسپورٹ شعبے کی فعالیت کو برقرار رکھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی ایندھن قیمتوں کا بوجھ عام آدمی پر منتقل نہیں ہونے دیا جائے گا اور یہ ہدفی سبسڈی کرایوں کو برقرار رکھنے اور سندھ بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ کو مؤثر انداز میں چلانے کے لیے دی جا رہی ہے۔اس طریقہ کار کے تحت وفاقی اور صوبائی حکومتیں سبسڈی کا بوجھ مشترکہ طور پر برداشت کریں گی جبکہ ٹرانسپورٹ آپریٹرز کو گاڑی کی نوعیت اور روٹ کی لمبائی کے مطابق مالی معاونت فراہم کی جائے گی بشرطیکہ وہ کرایوں میں اضافہ نہ کریں۔اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبے کا ٹرانسپورٹ نیٹ ورک 10,800 سے زائد گاڑیوں پر مشتمل ہے جو 224 روٹس پر چل رہی ہیں اور روزانہ تقریباً 19 لاکھ مسافروں کو سہولت فراہم کرتی ہیں۔ مجموعی ماہانہ سبسڈی کا تخمینہ تقریباً 2.15 ارب روپے لگایا گیا ہے جس میں شہری اور بین الاضلاعی دونوں آپریشنز شامل ہیں۔شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانے کے لیے سبسڈی ایک ڈیجیٹل، ایپ بیسڈ نظام کے ذریعے فراہم کی جائے گی جس میں روٹ پرمٹس، گاڑیوں کی فٹنس اور بینک اکاؤنٹس کی تصدیق شامل ہوگی۔ ادائیگیاں براہ راست آپریٹرز کو کی جائیں گی جبکہ نگرانی معائنوں اور مسافروں کی رائے کے ذریعے کی جائے گی۔محکمہ ایکسائز اور ٹرانسپورٹ نے بتایا کہ نظام میں او ٹی پی تصدیق، معیاری ایندھن بینچ مارکس اور وقتاً فوقتاً جائزہ جیسے حفاظتی اقدامات شامل ہیں تاکہ مالی اثرات کو کنٹرول کیا جا سکے۔زرعی شعبے کی مدد کے لیے وزیراعلیٰ نے 3 ارب روپے کی سبسڈی کی منظوری دی جو 3 لاکھ 66 ہزار چھوٹے کاشتکاروں کو گندم کی کٹائی کے دوران بڑھتی ہوئی ڈیزل لاگت کے اثرات سے بچانے کے لیے فراہم کی جائے گی۔مراد علی شاہ نے ہدایت دی کہ سبسڈی پروگرام کل سے شروع کیا جائے تاکہ کسانوں کو فوری ریلیف مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے کاشتکار دیہی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور حکومت انہیں مالی دباؤ سے بچانے کے لیے پرعزم ہے۔یہ سبسڈی براہ راست اہل کسانوں کو فراہم کی جائے گی خاص طور پر ان کو جو ایک سے 25 ایکڑ تک اراضی کے مالک ہیں تاکہ کٹائی اور تھریشنگ کے لیے ڈیزل اخراجات میں مدد مل سکے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ حکومت عمومی سبسڈی سے ہٹ کر ہدفی، مؤثر اور شفاف معاونت کے نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چاہے ٹرانسپورٹرز ہوں، کسان ہوں یا روزانہ سفر کرنے والے شہری، حکومت کی توجہ اس بات پر ہے کہ ریلیف ان لوگوں تک پہنچے جنہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، جبکہ مالی نظم و ضبط بھی برقرار رکھا جائے۔اجلاس کے اختتام پر تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی کہ عملدرآمد کو تیز کیا جائے، باہمی رابطہ مضبوط بنایا جائے اور ٹرانسپورٹ و زراعت سے متعلق اقدامات کو مؤثر اور بروقت نافذ کیا جائے۔
Read Next
7 گھنٹے ago
*حکومت سندھ اور آغا خان یونیوسٹی میں مفاہمت کی یادداشت پر دستخط*
16 گھنٹے ago
نئے بلدیاتی قوانین میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے متعلق متعدد اہم تجاویز شامل ہیں،سید ناصر حسین شاہ
1 دن ago
*خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری کی مینگو ڈپلومیسی فیسٹیول 2026 میں شرکت*
1 دن ago
*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا جدید تین صوبائی ڈیٹا سینٹر کے قیام کا حکم، جامع منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت*
1 دن ago
وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ کی زیر صدارت سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا اجلاس،غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کے لئے 15 روز کی مہلت
Related Articles
وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کا سندھ ماسٹر پلان اتھارٹی کا دورہ، جدید جی ائی ایس ٹیکنالوجی کی باقاعدہ رونمائی
2 دن ago
سید مراد علی شاہ کی امریکی سرمایہ کاروں کو سندھ میں توانائی، ٹیکنالوجی،انفراسٹرکچر اور سیاحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت
2 دن ago
*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ،برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر اور کثیرالقومی کمپنیوں کے نمائندوں کا گول میز اجلاس*
3 دن ago



