لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور کے درمیان کنٹرولڈ ایریا کا تنازعہ حل نہ ہو سکا۔ایل ڈی اے نے بلدیہ عظمٰی لاہور کے کنٹرولڈ ایریا میں کمرشل اور رہائشی عمارتوں کے نقشے منظور کر کے اربوں روپے اکھٹے کر لئے۔بلدیہ عظمٰی لاہور کی انتظامیہ اور ایڈمنسٹریٹر و ڈپٹی کمشنر ایل ڈی اے کو مداخلت سے روکنے کے لئے عملی اقدامات کرنے سے قاصر ہیں۔ایل ڈی اے جو 13 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود بلدیہ عظمٰی لاہور سے حاصل کی گئی 118 کمرشل روڈز سے کمرشلائزیشن فیس وصول کرنے میں بری طرح ناکامی سے دوچار ہے۔اسی طرح ایل ڈی اے کی ڈویژن کی سطح پر توسیع سے ناقص حکمت عملی اور غفلت کے باعث قصور،ننکانہ صاحب اور شیخوپورہ کمرشلائزیشن، کنورژن کی مد میں اربوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔یہ آمدن نہ تو ایل ڈی اے کو جمع ہوئی نہ ہی بلدیاتی ادارے وصول کر سکے۔ہزاروں غیر قانونی کمرشل تعمیرات انڈسٹریل یونٹس،ہاؤسنگ سوسائٹیز اور لینڈ سب ڈویژن اسی دوران ان اضلاع میں بن گئیں۔ایل ڈی اے نے ان اضلاع میں ریجنل دفاتر تک بنانے کے لئے اقدامات نہ کئے نہ ہی آپریشنز کئے گئے۔بلدیاتی اداروں اور متعلقہ ضلعی انتظامیہ سے کوآرڈینیشن کے فقدان کے باعث سرکاری خزانے کو اربوں روپے کا نقصان ہوا۔اب صورتحال یہ ہے کہ ایل ڈی اے کمرشلائزیشن اور کنورژن فیس کی وصولی کے ساتھ غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں اور لینڈ سب ڈویژنز کے خلاف مواثر کارروائی کرنے کی بجائے میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور کے کنٹرولڈ ایریا میں کمرشل اور انڈسٹریل نقشے پاس کر رہا ہے۔سابق کمشنر محمد علی رندھاوا اور اس کے بعد بھی بلدیہ عظمٰی لاہور کے کنٹرولڈ ایریا کی سکیموں میں ایل ڈی اے کی مداخلت کی نشاندہی کے باوجود تنازعہ کا حل نکلا نہ ہی ایل ڈی اے باز آیا۔ایل ڈی اے جس کو سکیمیں پاس کرنے کا اختیار دیا گیا ہے وہ ایم سی ایل کے کنٹرولڈ ایریا میں نقشے منظور کرنے کا مجاز نہیں ہے۔بحریہ ٹاؤن جو میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور کا کنٹرولڈ ایریا ہے اس کے ڈی،ای،ایف بلاک کے نقشے ایل ڈی اے پاس کر رہا ہے جس سے بلدیہ عظمٰی لاہور کو نقشہ فیس کی مد میں کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔اسی طرح نشتر زون،علامہ اقبال زون،واہگہ زون،عزیز بھٹی زون اور دیگر میں بھی ایل ڈی اے ایم سی ایل کے کنٹرولڈ ایریا میں کھلم کھلا مداخلت کر رہا ہے۔یہ بات اہم ہے کہ ایل ڈی اے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ صرف ایک کیس کے لئے قانون تبدیل کر دیا جاتا ہے اور اس طرح کے فیصلے ہر گورننگ باڈی کے اجلاس میں ہو رہے ہیں۔جس میں نہ تو کمشنر،ڈپٹی کمشنر کو آگاہ کیا جاتا ہے نہ ہی سیکرٹری ہاؤسنگ یا سیکرٹری بلدیات کو اطلاع کی جاتی ہے۔ایل ڈی اے اور ایم سی ایل کے کنٹرولڈ ایریا کا تنازعہ حل نہ ہونے کی بڑی وجہ ایل ڈی اے کا حد سے زیادہ طاقتور ہونا ہے۔جس کی تمام تر توجہ زیادہ سے زیادہ ریونیو اکھٹا کرنے پر مرکوز ہے۔شہریوں کو ریلیف،قانون کی پاسداری،متعلقہ اداروں کے ساتھ بہتر کوآرڈینیشن ایل ڈی اے کی ترجیحات نہیں ہیں۔لاہور کے سب سے اہم ایشو ریجنل ماسٹر پلان پر ایل ڈی اے کی طرف سے کئی سال سے کوئی خاص توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔ایل ڈی اے،واسا کے ماسٹر پلان کی مدت ختم ہو چکی ہے۔ایل ڈی اے پرانے ماسٹر پلان سے کام چلا رہا ہے۔ماسٹر پلان جو لانگ ٹرم پلاننگ کا ڈاکومنٹ ہوتا ہے موجودہ ڈائریکٹر جنرل ایل ڈی اے طاہر فاروق نے اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہونے دی۔ان کی کارکردگی ریونیو وصولی تک محدود ہے۔زیر التواء ہاؤسنگ سکیموں اور لینڈ سب ڈویژنز کے کیسیز ڈیڈلائن گزرنے کے باوجود نہیں نمٹائے جا سکیں۔ریجنل ماسٹر پلان فائنل نہ ہونے سے لاہور ڈویژن میں ڈویلپمنٹ بغیر ماسٹر پلان کے ہو رہی ہے۔اس سے قبل بھی مجوزہ ماسٹر پلان میں بلدیہ عظمٰی لاہور سمیت کسی اور متعلقہ ادارے سے کوآرڈینیشن نہیں کی گئی تھی۔ایل ڈی اے کے شعبہ ٹاؤن پلاننگ اور میٹروپولیٹن پلاننگ میں قابل افسران کی کمی ہے۔جس کی وجہ سے اہم ایشوز کو نمٹانا ممکن نہیں رہا ہے۔
Read Next
8 گھنٹے ago
یونین آف جرنلسٹ ڈسکہ کے سالانہ انتخابات کی تقریبِ حلف برداری،وزیر بلدیات پنجاب ذیشان رفیق کی بطورِ مہمانِ خصوصی شرکت
2 دن ago
وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے ہیڈ بمبانوالہ تا نندی پور 12.30 کلومیٹر طویل کارپٹ روڈ کی تعمیرِ نو کے منصوبے کا سنگِ بنیاد رکھ دیا
3 دن ago
𝐄𝐯𝐢𝐝𝐞𝐧𝐜𝐞-𝐁𝐚𝐬𝐞𝐝 𝐔𝐫𝐛𝐚𝐧 𝐏𝐥𝐚𝐧𝐧𝐢𝐧𝐠 𝐑𝐞𝐚𝐜𝐡𝐞𝐬 𝐚 𝐍𝐞𝐰 𝐌𝐢𝐥𝐞𝐬𝐭𝐨𝐧𝐞 𝐰𝐢𝐭𝐡 𝐭𝐡𝐞 𝐕𝐢𝐨𝐥𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧 𝐃𝐞𝐭𝐞𝐜𝐭𝐢𝐨𝐧 𝐒𝐲𝐬𝐭𝐞𝐦
4 دن ago
"ستھرا پنجاب” کے تحت لاہور سمیت پنجاب بھر میں محرم الحرام کے حوالے سے خصوصی صفائی پلان تشکیل دے دیا گیا
4 دن ago
Punjab launches pilot system for monitoring commercial construction activities
Related Articles
پنجاب میں کمرشل تعمیراتی سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کے نظام کا تجرباتی آغاز،وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے وی ڈی ایس کا افتتاح کیا
4 دن ago
عیدالاضحیٰ پر مثالی صفائی آپریشن کی کامیابی، وزیر بلدیات ذیشان رفیق کا ڈسکہ میں شاندار استقبال
1 ہفتہ ago



