گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی پنجاب فوڈاتھارٹی کے زیر اہتمام عالمی یوم خوراک کے حوالے سے آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا، سیمینار میں دو عنوان پر سیر حاصل پینل ڈسکشن ہوئی جس میں ماہرین اور سینئر بیوروکریٹس نے حصہ لیا۔

اس موقع پر سینئر صوبائی وزیر بلال یاسین نے”ہیلدی نیوٹریشن”فوڈ سٹالز کاافتتاح کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کے آغاز پر عوام نے مذاق بنایا لیکن آج فوڈ اتھارٹی نے اپنا آپ منوایا،پنجاب کے تمام اداروں میں ایک ایسا ادارہ ہے جسکی کارکردگی سر چڑھ کے بولتی ہے،وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے حکم پر انسپیکشنز بڑھائی، جرمانے بڑھائے جس سے خوراک کے معیار میں بہتری آئی،آج کا دن منانے کا مقصد فوڈ سیفٹی اور سیکیورٹی، بھوک کے لیے لڑائی اور ایگریکلچر پر آگاہی ہے۔آگاہی سیمینار سے ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی عاصم جاوید نے اپنے خطاب میں کہا کہ پنجاب فوڈاتھارٹی کا مقصد ملاوٹ مافیا کے خاتمے کے ساتھ ساتھ عوام میں غذائیت سے بھرپور خوراک کھانے کی آگاہی دینا ہے، آج ہمارے بچوں کی خوراک صحت مندہوگی تو مستقبل میں ان کا ذہن مضبوط ہوگا اور وہ اپنے کام اچھے سے کرسکتے ہے۔دوسری جانب سابق چیئرمین پاکستان کونسل آف سائنٹفک اینڈ ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) ڈاکٹر شہزاد عالم نے کہا کہ آبادی کے بڑھاؤ سے فوڈ ریسورس پر اثر پڑتا ہے، خوراک کی کمی، بھوک کیخلاف جنگ میں پیداوار بڑھانا ہوگی، آج یہ عہد کرنا ہو گا کہ 2025 تک ہم کم از کم 50فیصد خوراک کے ضیاع کو روکیں۔ڈائریکٹر جنرل سول سروسزفرحان عزیز خواجہ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خوراک کے ضیاع کے
خاتمے کے لیے فوڈ ویسٹج آج کا بہت بڑا مسئلہ ہے، 40فیصد آبادی غربت کی شرح سے نیچے ہے،جو کھانا ہم کھا رہے ہیں اسکی اہمیت کیا ہے؟ یہ آگاہی ہر بچے، بوڑھے تک دینا ہوگی،گلی محلے کے لیول پر کروڑوں کی آبادی پر محیط پنجاب سمیت پاکستان بھر میں خوراک کی اہمیت کا پیغام پہنچانا ہوگا،انہوں نے مزید کہا کہ سول سروسز میں 244 زیر تربیت افسران کو بطور پنجاب فوڈ اتھارٹی ایمبسڈر بنانا چاہیں گے۔سیکرٹری ماحولیات راجہ جہانگیر انور نے کہا کہ دنیا بدلنے سے پہلے خود کو بدلنا ہوگا، اہنے گھر سے خوراک کے ضیاع پر تبدیلی کی شروعات کریں گے، ہماری عادات ہمارے رویے اور معاشرے پر اثر انداز ہوتی ہیں، فوڈ ویسٹیج سے ماحول پر منفی اثر پڑتا ہے،صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ محکمہ صحت میں نیوٹریشنن بورڈ کا قیام وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا صحت مند پنجاب مشن ہے،کھانا ضائع کرنے کی بجائے بانٹ دینا اسلام کی ترجمانی ہے،غذائی قلت کا سامنا کرنے والے بچے پیچھے رہ جاتے ہیں، اگر ہمیں مزید ارشد ندیم چاہیے تو ہمیں نیوٹریشنن کو اہمیت دینا ہوگی،ماہر غذائیت ڈاکٹر شفا نے شرکاء سے خطاب میں کہا کہ خوراک کا ضیاع ہمارا مسئلہ ہے لیکن ضرورت سے زیادہ خوراک کا استعمال بھی نقصان دہ ہے،فوڈ سیکیورٹی اور فوڈ سیفٹی پر سوشل میڈیا کو مثبت کردار کیساتھ سائنس اور ٹیکنالوجی کے متعلق بھی بتانا ہوگا۔ اس موقع پر سینئر صحافی محسن بھٹی نے کہا کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی ہماری صحت اور آئندہ نسلوں کی ضامن ہے،ڈی جی فوڈ اتھارٹی سے لیکر نچلے طبقے تک آفیشلز دیانتداری کی مثال ہیں، یہ ادارہ ہر گزرتے دن کیساتھ بہتر سے بہترین کی جانب گامزن ہے، ڈی جی فوڈ اتھارٹی عاصم جاوید کی کوششیں قابل ذکر ہیں، سینئر صحافی نے گفتگو میں کہا فیلڈ ٹیمیں ہر طرح کے دباؤ کو برداشت کر کے فوڈ سیفٹی کو یقینی بناتی ہیں، دین اور روایات میں خوراک کی اہمیت پر واضح سبق ملتا ہے، کسان کی کاشت سے پلیٹ کے شوربے تک خوراک کو محفوظ کرنے کے لیے پائیدار اقدامات کی ضرورت ہے۔خوراک کو محفوظ کر کے ضیاع کے خاتمے کیساتھ معیشت میں بھی بہتری لائی جاسکتی ہے، سکول، کالجز میں فوڈ اتھارٹی کیمپس میں فوڈ سیکیورٹی اور نیوٹریشن آگاہی سے بہتری آئی ہے۔خوراک کے متعلق دوہرا معیار منفی اثر مرتب کرتا ہے، پانی سے روٹی تک فوڈ سیکیورٹی کو ممکن بنانا ہوگا مزید یہ کہ ڈاکٹر غزالہ نے گفتگو میں کہا کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کا نیوٹریشن پر مکمل توجہ کرنا صحت مند معاشرے کی زندہ دلیل ہے،بچے سے بوڑھے تک نیوٹریشن پر توجہ دینا ضروری ہے، چھوٹے ٹوٹکوں سے پرہیز کریں۔صحت اور صفائی دونوں اہم ہیں، کسی ایک کو چھوڑا نہیں جاسکتا۔گھروں میں نیوٹریشن پر فوکس کریں، تبدیلی کا آغاز اپنے گھر سے کریں، گھر کے بنے کھانے کو ترجیح دیں۔ بچوں سے پیار یہ ہے کہ انہیں گھر میں تیار صحت بخش غذا دیں نہ کہ باہر سے کھانا کھایا جائے۔دوسرے ممالک میں نیوٹریشن پر فوکس کیا جاتا ہے، سبزیاں اور پھل 5 دن کھانے پر زور دیا جاتا ہے،سبزیاں اور پھل کے استعمال سے ہی صحت مند معاشرہ تشکیل پایا جاسکتا ہے،کھانے کے اوقات صحت پر اثر انداز ہوتے ہیں، صحت کے لیے فضولیات سے بچنا ہوگا،آج والدین کو رول ماڈل بننا ہوگا تاکہ ہمارے بچے مستقبل میں رول ماڈل بن سکیں مزید کہا کہ کوئی بھی کھانا نقصان دہ نہیں ہوتا، ہماری ترجیحات پر انحصار ہے کہ ہم اسے کیسے استعمال کرتے ہیں






