ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کے جرم میں 55 مقدمات درج 561 گرفتار-ڈاکٹر کرن خورشید

سیکرٹری فوڈ سیفٹی اینڈکنزیومر پروٹیکشن ڈاکٹرکرن خورشید نے کہا ہے کہ رمضان سے قبل ناجائز منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن جاری ہے اورگزشتہ 4 دنوں میں پرائس کنٹرول مجسٹریٹس نے صوبہ کے مختلف اضلاع میں 3 لاکھ 91 ہزار سے زائد مقامات پر چھاپے مارے جن کے نتیجے میں مختلف اشیاء ضروریہ کی اوور چارجنگ میں ملوث 21 ہزار 800 سو کے قریب ناجائز منافع خوروں کے خلاف سخت ایکشن لیا گیا اور گراں فروشی کے جرم میں 55 مقدمات درج کر کے 561 ناجائز منافع خوروں کوگرفتار کر لیا گیا اور انہیں 1 کروڑ 19 لاکھ 5 ہزار جرمانہ عائد کیا گیا -ڈاکٹر کرن خورشید نے بتایا کہ رمضان کے مقدس مہینہ میں اٹا کی ترسیل مقرر کردہ نرخوں پر یقینی بنانے کے لیے 21 ہزار 300 مقامات کی چیکنگ کی گئی اوراٹا کی ناجائز منافع خوری کے مرتکب 964 افراد کے خلاف کاروائی عمل میں لائی گئی اور21 اٹا گراں فروشوں کو گرفتار کیا گیا اور انہیں 6لاکھ 11 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا جبکہ برائلر مرغی کا گوشت مہنگے داموں فروخت کرنےوالے1600سو70 قصابوں کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے 2 مقدمات درج کر کے 49 کو گرفتار کیا گیا اور انہیں 9 لاکھ 64 ہزار جرمانہ عائد کیا گیا-سیکرٹری فوڈ سیفٹی نے مزید بتایا کہ رمضان کے دوران حکومت کے مقرر کردہ نرخوں پر روٹی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس نے68 ہزار 900سو70 مقامات پر چھاپے مارے اور روٹی کی اوور چارجنگ میں ملوث 5 ہزار 568 نان بائیوں اور ہوٹل مالکان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی گئی مہنگی روٹی فروخت کرنے والے

نان بائیوں کے خلاف 11 مقدمات درج کر کے 151 کو گرفتار کر لیا گیا اور انہیں 19 لاکھ 40 ہزار سے زائد جرمانہ کیا گیا اسی طرح رمضان المبارک کے دوران چینی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے 17 ہزار 700سو60 مقامات پر ریڈ کیے گئے اورچینی کی گراں فروشی میں ملوث 940 افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہوئے35 چینی گراں فروشوں کو گرفتار کیا گیا اور انہیں 6 لاکھ 3 ہزار سے زائد جرمانہ عائد کیا گیا -انہوں نے کہا کہ رمضان کے مقدس مہینے میں اشیاء ضروریہ کی ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف زیرو ٹالرنس ہے اور رمضان المبارک کے دوران مربوط حکمت عملی کے ذریعے اشیائے خورونوش کی قیمتوں اور کوالٹی کو یقینی بنایا جائے گا

جواب دیں

Back to top button