میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے ماڑی پور گریکس کالونی اور کیماڑی ٹاؤن میں آر او پلانٹس کا افتتاح کردیا۔

میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ ماڑی پور گریکس کالونی کے رہائشیوں کو طویل عرصے سے درپیش پانی کا مسئلہ بالآخر حل ہونے جا رہا ہے، چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کے وژن کے مطابق آر او پلانٹ کا باقاعدہ افتتاح کردیا گیا ہے جس سے چار مقامی آبادیوں کو فائدہ پہنچے گا اور روزانہ 90 ہزار سے ایک لاکھ گیلن میٹھا پانی سپلائی کیا جائے گا،کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کی جانب سے یہ منصوبہ اس لحاظ سے بھی سنگ میل ہے کہ عام طور پر آر او پلانٹس زیرِ زمین پانی کو صاف کرتے ہیں تاہم اس پلانٹ کی خصوصیت یہ ہے کہ تقریباً 5 کلو میٹر طویل پائپ لائن کے ذریعے سمندر کے پانی کو استعمال میں لاکر جسے آر او ٹیکنالوجی کے ذریعے صاف اور قابلِ استعمال بنا کر مقامی آبادی تک پہنچایا جائے گا،یہ پانی ان لوگوں کا بنیادی حق ہے اور پاکستان پیپلزپارٹی اس حق کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے سنجیدگی سے اقدامات کر رہی ہے،علاقے میں روڈ انفراسٹرکچر، پارکس، پلے گراؤنڈز، سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس اور مزید آر او پلانٹس پر کام جاری ہے،گابوپٹ کی عوام کے لیے بھی پاکستان پیپلزپارٹی خصوصی ترقیاتی پیکیج لانے جا رہی ہے،سیاست تنقید کے لیے بھی کی جا سکتی ہے اور ترقی کے لیے بھی،

تاہم پاکستان پیپلزپارٹی ہمیشہ عوامی فلاح اور ترقی کے لیے کام کرتی ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز ماڑی پور گریکس کالونی اور کیماڑی ٹاؤن میں آر او پلانٹس کے افتتاح کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر کے ایم سی سٹی کونسل میں پارلیمانی لیڈر کرم اللہ وقاصی، ڈپٹی پارلیمانی لیڈر دل محمد، سٹی کونسل کے اراکین،ماڑی پور ٹاؤن چیئرمین ہمایوں خان،وائس چیئرمین، یوسی چیئرمین اور دیگر بھی موجود تھے، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ پریس کانفرنس میں یا تو مایوسی پھیلائی جا سکتی ہے یا پھر اپنے کام سے عوام میں امید پیدا کی جا سکتی ہے، ہمارے ناقدین حکومت میں ہونے کے باوجود روزانہ یہ بتاتے ہیں کہ کراچی میں کچھ نہیں ہو رہا مگر پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت اور کارکنان عملی کام کر کے دکھا رہے ہیں کہ شہر میں ترقیاتی منصوبے بھرپور رفتار سے جاری ہیں، ایک طویل عرصے بعد بلدیہ عظمیٰ کراچی متحرک نظر آرہی ہے اور یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا،میئر کراچی نے کہا کہ 31 دسمبر تک حب ڈیم سے دوسری کینال کا کام بھی مکمل کر لیا جائے گا جبکہ واپڈا سے کراچی کے لیے مختص 100 ایم جی ڈی پانی کی ایلوکیشن میں اضافے کے لئے کہا گیا ہے تاکہ ضلع غربی اور ضلع کیماڑی کے رہائشیوں کو زیادہ پانی فراہم کیا جا سکے، انہوں نے کہا کہ پاکستان کا پہلا صنعتی پانی کا مرکز بھی سائیٹ انڈسٹریل ایریا کے قریب گٹر باغیچہ پر تیزی سے تعمیر ہو رہا ہے جسے 31 دسمبر تک فعال کر دیا جائے گا، پہلے فیز میں یہ پلانٹ 20 ایم جی ڈی پانی سیکنڈری ٹریٹ کرے گا جسے مزید ٹریٹ کر کے صنعتی استعمال میں لایا جائے گا،انہوں نے کہا کہ کراچی کے دیرینہ مسئلے کے فور کے آگمینٹیشن منصوبے پر بھی باقاعدہ کام شروع کر دیا گیا ہے جس سے شہر کو روزانہ 26 کروڑ گیلن اضافی پانی ملے گا، یونیورسٹی روڈ پر 96 انچ ڈایا کے پائپ ڈالے جا رہے ہیں یہ پائپ سائز پاکستان میں کہیں دستیاب نہیں اور یہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں کراچی کے لیے بڑے پیکیج کا حصہ ہے تاکہ زیادہ مقدار میں کراچی کو پانی مل سکے، میئر کراچی نے کہا کہ شہر میں 20 مقامات پر آر او پلانٹس کی تنصیب کا کام شروع ہو چکا ہے اور آئندہ چند روز میں ان کا افتتاح کر دیا جائے گا، اگر ہر وارڈ میں ایک آر او پلانٹ نصب ہو جائے تو واٹر کارپوریشن پر دباؤ کم ہو جائے گا اور گلی محلوں کی سطح پر پانی کی فراہمی ممکن ہو سکے گی،انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کا وعدہ ہے کہ بجٹ کا ایک ایک پیسہ کراچی والوں کی امانت ہے اور قیادت اس امانت کو دیانت، ایمانداری اور سمجھداری کے ساتھ عوام پر خرچ کرے گی۔

جواب دیں

Back to top button