وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے زراعت میاں محمد عمر کی زیر صدارت خیبر پختونخوا فوڈ سیکیورٹی سپورٹ پراجیکٹ (KP-FSSP) کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری زراعت ڈاکٹر محمد بختیار خان، پراجیکٹ ڈائریکٹر خیبر پختونخوا فوڈ سیکیورٹی سپورٹ پراجیکٹ فضل قادر سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں منصوبے کے تحت حاصل کیے گئے اہداف، جاری ترقیاتی سرگرمیوں اور آئندہ کے لائحہ عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ حکام نے مشیر زراعت کو منصوبے کے مختلف اجزاء اور اب تک ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا۔اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے میاں محمد عمر نے کہا کہ صوبائی حکومت زرعی شعبے کی ترقی، غذائی تحفظ کے فروغ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ منصوبے کی بروقت تکمیل سے زرعی پیداوار میں اضافہ، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور کاشتکاروں کی معاشی حالت میں بہتری آئے گی، جس سے صوبے کا زرعی شعبہ مزید مستحکم ہوگابریفنگ کے دوران اجلاس کو بتایا گیا کہ 88 ملین امریکی ڈالر لاگت کے خیبر پختونخوا فوڈ سیکیورٹی سپورٹ پراجیکٹ کے تحت صوبے میں زرعی ترقی، غذائی تحفظ کے فروغ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے متعدد اہم اقدامات پر کامیابی سے عملدرآمد جاری ہے۔ منصوبے کے ذریعے سیلاب سے متاثرہ سات اضلاع میں کاشتکاروں کی بحالی، زرعی اداروں کی استعداد کار میں اضافے اور جدید زرعی نظام کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ اب تک 9 لاکھ 23 ہزار سے زائد کسانوں کی رجسٹریشن مکمل کی جا چکی ہے، جس کے نتیجے میں صوبے کا سب سے بڑا ڈیجیٹل فارمر ڈیٹا بیس قائم ہوا ہے۔ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ای سبسڈی سسٹم اور برانچ لیس بینکنگ ماڈل متعارف کرایا گیا ہے جبکہ کسانوں کی شکایات کے فوری ازالے کے لیے مؤثر گریوینس ریڈریسل میکنزم بھی فعال کر دیا گیا ہے۔ کراپ رپورٹنگ سروسز (CRS) کو ڈیجیٹلائز کیا گیا ہے جبکہ فیلڈ سرگرمیوں کے لیے 500 موٹر سائیکلیں، 6 ٹریکٹرز اور 6 منی ٹرک فراہم کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد زرعی دفاتر اور لیبارٹریوں کی سولرائزیشن اور بحالی کا عمل بھی مکمل کیا جا چکا ہے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ منصوبے کے تحت 4 لاکھ 50 ہزار کسانوں کو گندم، دھان اور کھاد کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے، 42 ہزار سبزی کاشتکاروں کی معاونت کی جا رہی ہے جبکہ 28 ہزار خواتین کو کچن گارڈننگ اور فوڈ پروسیسنگ کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ مزید برآں 25 ہزار خواتین میں سیڈ کلیننگ اور محفوظ زرعی استعمال کی کٹس بھی تقسیم کی جا چکی ہیں۔اس موقع پر مشیر زراعت میاں محمد عمر نے منصوبے کے تحت حاصل ہونے والی پیش رفت کو سراہتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ جاری سرگرمیوں کو مقررہ وقت میں مکمل کیا جائے تاکہ کاشتکاروں کو زیادہ سے زیادہ فوائد پہنچ سکیں۔
Read Next
14 گھنٹے ago
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کے زیرِ صدارت ترقیاتی فنڈز کے استعمال کی صورتحال پر اہم اجلاس
21 گھنٹے ago
لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن خیبرپختونخوا نےبلدیاتی اداروں کے اڈہ جات کا کنٹرول لوکل ایریا اتھارٹیز کے حوالہ کرنے کے حکومتی فیصلہ کو غیر دانشمندانہ قرار دے دیا
2 دن ago
لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن خیبرپختونخوا کے وفد کی سرپرست اعلیٰ شوکت کیانی کی قیادت میں لوکل کونسل بورڈ کے سیکریٹری وحید الرحمان سےملاقات
3 دن ago
*پشاور کی تاریخ کے سب سے بڑے 200 ارب روپے کے ترقیاتی پروگرام پر کام تیز*
3 دن ago
حاجی ہارون صفت فریضۂ حج کی ادائیگی کے بعد وطن واپس پہنچ گئے،لوکل کونسلز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا کی جانب سے مبارکباد
Related Articles
رنگ روڈ، پی ڈی اے ٹول پلازہ حیات آباد کے مقام پر دو لینز پر مشتمل انڈر پاس منصوبے کا سنگِ بنیاد رکھ دیا گیا
4 دن ago
پاکستان بالخصوص صوبہ خیبر پختونخوا کی فیڈریشنز، یونینز اور ملازمین کی نمائندہ تنظیموں کے قائدین کے نام ایک اہم پیغام!
4 دن ago
بلدیاتی اداروں سے وابستہ ملازمین کی نمائندہ تنظیم لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن نے مجوزہ وفاقی بجٹ کو ظالمانہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا
4 دن ago
ڈبلیو ایس ایس سیز ملازمین کا ملازمتی تحفظ وقت کی اہم ضرورت ہے،لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن خیبرپختونخوا
6 دن ago


