وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں سول سروس اکیڈمی کے تجربہ کار افسران اور اعلیٰ حکام سے ملاقات کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں میں اصلاحات، عوامی بہبود اور سیلاب متاثرین کی بحالی کے حوالے سے ایک جامع وژن کا خاکہ پیش کرتے ہوئے سیکیورٹی نظام کی جدت اور بہتری پر زور دیا تاکہ مستقبل میں صوبے کو پیش آنے والے چینلجز سے نمٹا جاسکے۔

ڈویلپمنٹ اینڈ فلڈ ریکوری:
وزیراعلیٰ مراد شاہ نے ایک انتہائی مقعول بجٹ بشمول بین الاقوامی امداد سے چلنے والے منصوبوں کے لیے366.75 بلین روپے سے سندھ حکومت کراچی کے روڈ نیٹ ورک کو وسعت دینے، نئے فلائی اوورز، انڈر پاسز کی تعمیر اور بس ریپڈ ٹرانزٹ (BRT) سسٹم اور پیپلز بس سروس جیسے تاریخی منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہے۔نئے سیوریج سسٹم، پانی کی فراہمی اور سالڈ ویسٹ کے نظام کی اپ گریڈیشن جاری ہے اور شہری انفراسٹرکچر کو مزید وسعت دے رہے ہیں ۔
2022 کے سیلاب کے تباہ کن اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہاکہ 12.4 ملین افراد متاثر ہوئے، 5 ملین لوگ غربت کی لکیر تلے دب گئے اور 2.1 ملین گھروں کو نقصان پہنچا۔ جس کے نتیجے میں صوبے میں بحالی کے وسیع اقدامات کیے ، جس میں سندھ فلڈ ایمرجنسی ہاؤسنگ ری کنسٹرکشن کے لیے 1.497 بلین ڈالر شامل ہیں،اس کا ہدف 1.14 ملین گھروں کی تعمیر نو ہے۔ سندھ فلڈ ایمرجنسی بحالی پراجیکٹ (SFERP) کے لیے530 ملین ڈالر، دیہی سڑکوں، پانی کی فراہمی اور آبپاشی کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی شامل ہے۔ اضافی سرمایہ کاری میں ایمرجنسی فلڈ اسسٹنس (انٹر ڈسٹرکٹ سڑکوں کی بحالی) کے لیے200 ملین ڈالر، سندھ واٹر اینڈ ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن پروجیکٹ کے لیے 230 ملین ڈالر، اور 1,600 سیکنڈری اسکولوں کی تعمیر نو کے لیے 275 ملین ڈالر شامل ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ان کاوشوں کو ایک متحد سوشل پروٹیکشن رجسٹری کے قیام اور صحت کی دیکھ بھال، خاندانی منصوبہ بندی اور زراعت پر مرکوز پروگراموں سے تقویت ملتی ہے، جو عوامی بہبود اور بحالی کے لیے حکومت کے عزم کو ظاہر کرتے ہیں۔
امن و امان ۔ سندھ پولیس کو جدید بنانا:
مرادعلی شاہ نے سندھ پولیس کے تاریخی میراث کو پاکستان کی دوسری سب سے بڑی فورس قرار دیا، جس میں 162,000 اہلکار اور ملک کے سب سے زیادہ پولیس شہداء 2,549 کا تعلق سندھ سے ہے جو کئی دہائیوں سے خدمات اور قربانیوں کی عکاسی کرتی ہے۔ کچے کے علاقے میں لاقانونیت کی وجہ دشوار گزار راستے اور قبائلی تنازعات کی وجہ سے جرائم پیشہ افراد کی پناہ گاہ ہے، انہوں نے پلوں کی تعمیر، سڑکوں کو بہتر بنانے اور پولیس کی نقل و حرکت کو بڑھانے کے لیے حکومت کی حکمت عملی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ قابل ذکر بات یہ ہے کہ کندھ کوٹ-گھوٹکی پل کی تکمیل بالائی سندھ میں سیکیورٹی کے منظر نامے کو تبدیل کرنے کے لیے تیار ہے۔
انسداد دہشت گردی اور انٹیلی جنس اپ گریڈ:
وزیراعلیٰ سندھ نے انسداد دہشت گردی میں ٹھوس پیش رفت پر بات کی، جس میں چینی ورکروں پر بڑے حملوں کے ذمہ داروں کی گرفتاری اور بدنام زمانہ گروہوں کی جانب سے دہشت گردی کی سازشوں کو ناکام بنانا شامل ہے۔ جدید تیکنیک بشمول 772 ملین روپے فیوژن سینٹر اوپن سورس انٹیلی جنس، ڈیٹا اینالیٹکس، اور ڈیجیٹل فرانزک سے لیس، تحقیقاتی اور آپریشنل صلاحیت کو بڑھا رہا ہے۔ 42 ٹول پلازوں پر سیکڑوں نئی گاڑیاں اور جدید نگرانی کے آلات جیسے اے آئی سے چلنے والے سی سی ٹی وی اور چہرے کی شناخت کے آلات نصب کیے گئے ہیں۔ 2,000 اہلکاروں اور 100 گاڑیوں کے ساتھ سندھ پولیس ہائی وے پٹرول (SPHP) شاہراہوں کو محفوظ بناتا ہے،34 بلین روپے ملٹی فیز پروگرام کے تحت 12,000 سرویلنس کیمرے نصب کیے جائیں گے۔
پولیس ویلفیئر اینڈ فسکل ڈی سینٹرالائزیشن:6 بلین روپے براہ راست پولیس اسٹیشنوں کو مختص کرنا ایک تاریخی قدم ہے۔ جس سے پولیس اسٹیشن افسران کو مالیاتی خودمختاری حاصل ہورہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماڈل اسٹیشن کی تزئین و آرائش اور روپے کا رول آؤٹ۔ 4.9 بلین روپے ہیلتھ انشورنس پیکجز، افسران اور ان کے خاندانوں پولیس کی فلاح و بہبود کا مظہر ہیں۔انہوں نے کہا کہ شہید افسران کے اہل خانہ کے لیے "شہید پیکیج” میں اضافہ کیا گیا ہے، تفتیشی الاؤنسز متعارف کرائے گئے ہیں اور خصوصی تفتیشی افسران کا ایک صوبہ بھر میں کیڈر اب باقاعدہ عدالتی تربیت کے ساتھ خدمت میں ہے۔
کرائسز مینجمنٹ اور نئے یونٹس: مراد علی شاہ نے کہا کہ شہری مسائل کے پیشہ ورانہ حل کے لیے سندھ حکومت نے ترکی کی اینٹی رائٹ فورس کے ذریعے تربیت یافتہ کرائسز مینجمنٹ یونٹ قائم کیا ہے، جو 2,000 اینٹی رائٹ کٹس سے لیس ہے اور اس میں خواتین افسران کو شامل کیا گیا ہے۔ 2000 نئے کانسٹیبل کی بھرتی جاری ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ان کی حکومت شہری استحکام، تعلیم اور موسمیاتی ک تبدیلی کے حوالے سے بڑے اقدامات کررہی ہے۔
سالڈ ویسٹ ایمرجنسی پروجیکٹ: 100 ملین ڈالر کے سالڈ ویسٹ ایمرجنسی پروجیکٹ پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہنگامی اقدامات سے شہری فضلہ کے انتظام کو بہتر بنانا، جام چاکرو اور دھابیجی میں جدید ترین لینڈ فل سائٹس کی تعمیر اور آلودگی کو کم کرنے اور شہر کی صفائی ستھرائی کو بڑھانے کے لیے سالڈ ویسٹ کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا شامل ہے۔
سندھ ارلی لرننگ اینہانسمنٹ: مراد علی شاہ نے کہا کہ طلباء کی حاضری کو بڑھا کر ابتدائی گریڈ کی تعلیم کو بڑھانا، گریڈ 3 میں شماریات، تدریسی طریقوں کو تبدیل کرنا، اسکولوں کو اپ گریڈ کرنا، اور انتظامی صلاحیت کو بڑھانا شروع کیا گیا ہے۔
ڈیلٹا بلیو کاربن پراجیکٹ: مراد علی شاہ نے کہا کہ انڈس ڈیلٹا میں 225,000 ہیکٹر کو محفوظ کرنے سے 127 ملین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو کم کیا جائے گا، تصدیق شدہ کاربن کریڈٹس سے حکومت کو ریونیو حاصل ہوگا۔
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کے اقدامات ان کی حکومت کے محفوظ اورپائیدار کمیونٹیز کے فروغ دینے کے عزم کی نشاندہی کرتے ہیں جو کہ تکنیکی جدت، انسانی ترقی، اور آفات کے بعد بحالی پر مبنی ہیں، سندھ بھر میں لاکھوں لوگوں کے لیے ایک محفوظ اور زیادہ خوشحال مستقبل کی تشکیل کرتے ہیں۔






