کراچی (رپورٹ۔اسلم شاہ)نیو ملیر اسکیم ون کی 8 ایکٹر کمرشل کوریڈور کی 20 ارب روپے مالیت کی قیمتی زمینوں پر قبضہ، تین معطل افسران کے خلاف تحقیقات مکمل، انکوائری کمیٹی نے ڈائریکٹر انٹی انکروچمنٹ،نیو ملیر اسکیم ون کے ایگزیکٹو انجینئر اور اسسٹنٹ انجینئر کو قبضہ کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے مقدمہ درج کرنے اور سروسز رولز کے تحت کاروائی کی ہدایت کردی ہے۔ ملیر ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کی اربوں روپے قبضہ ہونے والی زمین کی اپنی نوعیت کی یہ پہلی انکوائری ہے جس میں ادارے کے بڑے افسران اور کراچی سسٹم کے تحت قبضہ کرانے والے اصل کرداروں کو بچانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ لینڈ مافیا کے کارندوں کے نام بھی جاری نہیں کیئے گئے ہیں اور اسے خفیہ رکھا گیا ہے۔ کمیٹی نے زمین پر قبضہ کو واگزار کرانے کیلیئے آپریشن پر خاموشی اختیار کرلی ہے۔ ادارے نے آئی واش کیلیئے تین افسران کو معطل کرکے پانچ رکنی کمیٹی قائم کر دی ہے جو قبضہ کی تحقیقات کرے گی۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ کمیٹی میں شامل بعض افسران پر خود اتھارٹی کی سرکاری زمینوں پر قبضہ کرانے کے متعدد مقدمات درج ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل نجم الدین سہتو کے دستخطوں سے جاری ہونے والے خط نمبر NO/DG/MDA/2024/4018 بتاریخ 29نومبر 2024ء میں ڈائریکٹر اینٹی انکروچمنٹ علی اسد خان، ایگزیکٹیو انجینئر ذیشان حسین اور اسسٹنٹ ایگزیکٹیو انجینئر خالد اقبال کو نا اہلی،غفلت، بدانتظامی اور لینڈ مافیا کا سہولت کار قرار دیتے ہوئے انہیں اخری موقع دیا گیا ہے کہ وہ کمیٹی کے سامنے پیش ہوکر اپنا بیان ریکارڈ کرائیں ورنہ ان کے خلاف سروسز ایکٹ 1973ء کے تحت کاروائی ہو سکتی ہے۔ مبینہ طور پر کمیٹی نے سب سے زیادہ نیو ملیر ہاؤسنگ اسکیم ون کے ایگزیکٹیو انجینئر پر الزامات عائد کرتے ہوئے زمین پر قبضہ کرانے رشوت،کمیشن لینے کے ساتھ لینڈ مافیا کے خلاف ایکشن نہ لینے اور ایف آئی آر درج نہ کرانے کے سنگین نوعیت کے الزامات بھی عائد کیئے گئے ہیں۔ ڈٓائریکٹر جنرل MDA کے دستخط سے جاری ہونے والا خط NO/DG/MDA/2024/2917 بتارٰیخ 22 اگست 2024ء کے ذریعے ہدایت کی گئی تھی کہ لینڈ مافیا کے خلاف فوری ایف آئی آر درج کرائی جائے لیکن اس پر عملدرآمد نہ ہوسکا،ذرائع کے مطابق کمیٹی کو بتایا گیا کہ قبضہ ہونے کے دوران افسران اپنی ڈیوٹی سے غیر حاضر پائے گئے۔یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ افسران نے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اکثر بغیر کسی اطلاع کے ڈیوٹی سے غیر حاضر رہتے ہیں تاکہ زمینوں پر قبضہ کرنے والے آسانی سے اپنا کام کر لیں جس کے نتیجے میں قبضہ مافیا نے نئے سرے سے تجاوزات اور زمینوں پر قبضے کی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔ذرائع کے مطابق افسران نے اتھارٹی حکام کو قبضہ کرنے والوں کی نہ نشاندھی کی، نہ بروقت واقعہ کے بارے میں کوئی شکایات ایم ڈی اے آفس کے واٹس ایپ گروپ پر دی اور نہ ہی زمینوں پر قبضہ کرنے والوں کی غیر قانونی سرگرمیوں کو روکا، جو انتہائی غیر ذمہ دارنہ عمل ہے بلکہ اس کے پیچھے چمک کا عنصر واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔یہ افسران نیو ملیر اسکیم-1 میں بلاک 03 کمرشل کوریڈور میں تجاوزات کو روکنے میں بھی بری طرح ناکام رہے بلکہ بار بار مطلع کرنے کے باوجود انہوں نے جان بوجھ کر ایم ڈی اے کے اثاثوں اور جائیدادوں کو محفوظ کرنے سے گریز کیا۔واضح رہے کہ ڈائریکٹر جنرل نجم الدین سہتو کے دستخط سے جاری حکمنامہ میں ڈائریکٹر فنانس وقار علی سومرو کو کمیٹی کا نگران اور ڈائریکٹر پلاننگ لئیق احمد، سپریٹنڈنٹ انجینئر سراج نذیر، ایگزیکٹو انجینئر شاہ لطیف ٹاون رضوان احمد اور ایگزیکٹو انجینئر تیسر ٹاون محمد عارف کمیٹی میں شامل ہیں۔ کمیٹی نیو ملیر اسکیم کے بلاک 3 نیشنل ہائی وے پر 300 فٹ چوڑی روڈ پر مین کوریڈور میں واقع کمرشل پلاٹ پر قبضہ کی تحقیقات کرکے 7 دن میں اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ شاہ لطیف ٹاون کے ایگزیکٹیو انجینئر سید محمد رضوان کو نیو ملیر اسکیم ون کا اضافی عہدہ دے دیا گیا ہے،ان پر شاہ لطیف ٹاون میں سیکٹر 16-A اور 16-B کی کروڑوں روپے مالیت کی زمینوں پر قبضہ کرانے کے الزامات عائد ہیں لیکن وہ کمیٹی میں بھی شامل ہیں(یعنی دودھ کی رکھوالی پر بلی کو بیٹھا دیا)۔ ڈائریکٹر پلاننگ لئیق احمد پر تیسر ٹاؤن میں سرکاری زمینوں پر قبضہ کرانے کے الزام میں متعدد مقدمات درج ہیں۔ اینٹی انکروچمنٹ سیل کے سابق ڈائریکٹر عرفان بیگ کراچی سسٹم کا نام استعمال کرکے اربوں روپے مالیت کی زمینوں کو ٹھکانے لگا چکے ہیں۔ نیو ملیر اسکیم ون کے قبضہ کیس میں عرفان بیگ کا نام لیا جارہا ہے۔ اس ضمن میں ملیر ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کا یہ پہلا واقع نہیں ہے۔ شاہ لطیف ٹاؤن، تیسر ٹاون کے ساتھ نیو ملیر اسکیم کے متعدد بلاکس اور سیکٹرز میں افسران کی ملی بھگت سے اربوں روپے مالیت کی زمینوں پر قبضہ ہوچکا ہے اور کئی جعلی گوٹھ بن چکے ہیں۔ کراچی میں سرکاری اداروں کی سرپرستی میں زمینوں پر قبضہ کا گھناؤنا اور شرمناک کھیل کراچی سسٹم کے تحت محمد علی شیخ اور دیگر شخصیات کی نگرانی میں جاری ہے ۔ قومی احتساب بیورو (نیب)، ایف آئی اے، اینٹی کرپشن کے ساتھ دیگر تحقیقاتی ادارے مع ایم کیو ایم(پاکستان) اور دیگر سیاسی جماعتیں بھی چمک کے زیر اثر مکمل خاموش ہیں۔پولیس کی سرپرستی میں لینڈ گریبرز اربوں روپے مالیت کی سرکاری و غیر سرکاری زمینوں کو ٹھکانے لگاتے جارہے ہیں۔ اتھارٹی میں رشوت، کمیشن اور کک بیک کے گھناؤنے کاروبار کی وجہ چیئرمین و وزیر بلدیات سعید غنی، ایڈیشنل چیف سیکریٹری بلدیات، ڈائریکٹر جنرل اتھارٹی کے ساتھ تحقیقاتی اداروں کا اتھارٹی کے معاملات سے لاتعلقی ہے اور اس کی اصل وجہ چمک ہے جس کے آگے سب نے اپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ زمین پر قبضہ، روز بروز نئے نئے گوٹھ بن جانے، کچی آبادیوں کے قیام کے ساتھ اربوں روپے مالیت کی اراضی کو ٹھکانے لگانے کا کاروبار عروج پر ہے جبکہ کراچی سسٹم کے تحت چلنے والا ادارہ ملیر ڈیویلپمنٹ اتھارٹی برباد ہو چکا ہے اور اس کی زیر نگرانی علاقوں میں صفائی ستھرائی کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔






