وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرصدارت بورڈ آف ریونیو کا اجلاس ، دو دیہوں، ایک دیہی اور دوسرا شہری کے مالکانہ حقوق کا ریکارڈ ڈیجیٹائز کرنے کا فیصلہ ۔ منصوبہ چھ ہفتوں کے اندر پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر مکمل کیا جائے گا، جس کے بعد دستی ریکارڈ کو ڈیجیٹائز کرنے کے لیے مختلف سافٹ ویئر تیار کیے جائیں گے۔
اجلاس جمعرات کو وزیر اعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو بقاء اللہ انڑ، سیکریٹری وزیر اعلیٰ رحیم شیخ، اسپیشل سیکریٹری ایس اینڈ جی اے ڈی زمان ناریجو، ممبر آر اینڈ ایس احمد علی شاہ، ممبر آر ایس اینڈ ای پی غلام عباس نائچ، پی ڈی ایل اے آر ایم آئی ایس سیف اللہ ابڑو اور دیگر نے شرکت کی۔
وزیر اعلیٰ کو آگاہ کیا گیا کہ موجودہ نظام کے تحت سیلز سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے درخواست دہندگان کو کئی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ سب سے پہلے انہیں ویب پورٹل کے ذریعے آن لائن درخواست جمع کرانی ہوتی ہے۔ اس کے بعد بینک جا کر ادائیگی کرنا اور اسٹامپ پیپر حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ پھر انہیں ای رجسٹریشن کے لیے آن لائن درخواست دینی ہوتی ہے اور ملٹی مارکر سے سیلز سرٹیفکیٹ کی تصدیق کروانی پڑتی ہے۔
اس کے بعد درخواست دہندگان کو مزید کارروائی کے لیے سب رجسٹرار کے دفتر جانا ضروری ہوتا ہے جہاں جانچ، بائیومیٹرک تصدیق اور سرٹیفکیٹ کی منظوری یا اجرا کیا جاتا ہے۔ ان مراحل کے بعد درخواست دہندگان کو انتقال کے لیے مختیارکار سے رابطہ کرنا پڑتا ہے۔ آخر میں انہیں متعلقہ دفاتر میں درخواست کی اسکیننگ، انڈیکسنگ، اور درست نقل حاصل کرنے کے عمل سے گزرنا ہوتا ہے۔
مراد علی شاہ نے اس پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیلز سرٹیفکیٹ، انتقال اور دیگر ضروریات حاصل کرنے کا عمل موجودہ آٹھ سے نو مراحل کے بجائے صرف دو مراحل پر مشتمل ہونا چاہیے۔
بورڈ آف ریونیو (بی او آر) کو ہدایت دیتے ہوئے مراد علی شاہ نے بائیومیٹرک اور خودکار انتقالِ ملکیت کے لیے ایک عوامی خدمت مرکز قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے تجویز دی کہ درخواستیں اور ٹیکس/فیس کی ادائیگی ای پیمنٹ سسٹم کے ذریعے آن لائن کی جائے اور ایک خودکار انتقالِ ملکیت کا نظام نافذ کیا جائے۔
وزیر اعلیٰ نے تعلقہ اور ضلع مٹیاری کے دیہ بھورکو اور دیہ پلیجانی میں ڈیجیٹل لینڈ ٹائٹل ٹرانسفر کے لیے پائلٹ پروجیکٹ کی منظوری دے دی۔ یہ منصوبہ سندھ لینڈ ریونیو (ترمیمی) ایکٹ 2025 پر مبنی ہوگا جو ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے سندھ ڈیجیٹلائزیشن آف ریکارڈ آف رائٹس (اسپیشل ریویژن) رولز 2025 کی بھی منظوری دی جن کا مقصد مستقبل کے لین دین میں ملکیت کی تصدیق کے لیے ایک ڈیجیٹل ڈیٹا بیس قائم کرنا ہے۔ سندھ ڈیجیٹل لینڈ ٹائٹل ٹرانسفر رولز 2025 زمین کی ملکیت کی آسان منتقلی کے ڈیجیٹل عمل کی وضاحت کرتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ کی منظوری کے مطابق سندھ لینڈ ریونیو (ترمیمی) ایکٹ 2025 کی اہم شقوں میں ایک مرکزی ڈیٹا بیس کی تشکیل شامل ہے جو زمین کے ڈیجیٹل ریکارڈز اور ملکیتی دستاویزات رکھےگا۔ یہ ایک آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے قابل رسائی ہوگا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ زمین کے مالکانہ حقوق کی ڈیجیٹل منتقلی ایک ٹیکنالوجی پر مبنی اور خودکار عمل ہوگا جس میں بالمشافہ ملاقاتوں کو کم سے کم کیا جائے گا۔ مرکزی ڈیٹا بیس کے انضمام کے ساتھ نادرا بائیو میٹرک کے ذریعے مالکانہ حقوق کی خودکار تصدیق ہوگی۔ مزید برآں ٹیکس نظام کے ساتھ انضمام سے ٹیکس کے مؤثر حساب کتاب اور ادائیگی کو یقینی بنایا جائے گا اور محفوظ لین دین کے لیے اسکرو اکاؤنٹس قائم کیے جائیں گے۔
تدوین اور تصدیق کے عمل کی اہم خصوصیات کے مطابق کسی بھی رکاوٹ کی نشاندہی ، عوامی معائنہ اور اعتراض کے لیے 15 دن کا وقت مقرر ہے جبکہ حل کے لیے اضافی 15 دن شامل ہیں۔ مجاز افسران ڈیجیٹل ریکارڈز کی تصدیق اور توثیق کریں گے۔ موجودہ ریکارڈز کو مختیارکار کے تحویل میں تعلقہ سیل کے تحت مہر بند اور محفوظ کیا جائے گا۔ ڈیجیٹل اندراجات پر سندھ لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کے تحت اپیل کی جا سکتی ہے۔
سندھ ڈیجیٹل لینڈ ٹائٹل ٹرانسفر رولز 2025 ایک محفوظ ڈیجیٹل لینڈ ٹائٹل منتقلی کے لیے ایک میکانزم بھی قائم کرتے ہیں جو عوامی سہولت کے لیے ایک مخصوص ویب پورٹل کے ذریعے فراہم کیا جائے گا۔ مجاز افسران کی اہلیت اور کلیدی کارکردگی کے اشارے ( کے پی آئیز) بورڈ آف ریوینیو متعین کرے گا جبکہ ان کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ اسٹیک ہولڈرز کی کمیٹی لےگی۔ ایک عوامی پورٹل قائم کیا جائےگا جو مالکانہ حقوق کے دستاویز کے طور پر جاری کردہ پراپرٹی کارڈ کے ذریعے زمین کے ریکارڈ تک رسائی اور درخواست کو ٹریک کرنے کی سہولت فراہم کرےگا۔






