پنجاب میں یونین کونسلز کے سیکرٹریز کی نااہلی، غیر ذمہ داری اور کرپشن کی وجہ سے طلاقوں کی صورت میں ہر سال ہزاروں گھر اجڑنے لگے۔ثالثی کونسلیں میاں بیوی میں مصالحت کی بجائے طلاقیں کروا رہی ہیں۔پنجاب کی 4015 یونین کونسلز کے مصدقہ اعداد و شمار کے مطابق صرف 3 سے 4 فیصد کیسوں میں صلح جبکہ 96 فیصد سے زائد کیس طلاق پر ختم ہو رہے ہیں۔خلع کے کیسیز میں بھی صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے۔جس کی ایک بڑی وجہ منتخب بلدیاتی نمائندوں کا موجود نہ ہونا ہے جو اپنے اثر و رسوخ اور مثبت کردار ادا کر کے بیشتر کیسیز میں میاں بیوی میں صلح کروا کے گھر اجڑنے سے بچا لیتے تھے۔اس کے برعکس یونین کونسلز کے سیکرٹریز بنیادی ذمہ داری میاں بیوی میں صلح کروانے ،مصالحت کی بجائے غیر قانونی طور پر دوسری اور تیسری طلاق دینے پر مجبور کرتے ہیں تاکہ کیس بھی ختم ہو اور دونوں طرف سے مال بھی بٹورا جا سکے۔قانون طلاق سرٹیفکیٹ کے لئے دوسری اور تیسری طلاق کا قطعا مطالبہ نہیں کرتا ہے۔یونین کونسلز کے سیکرٹریز میں اہلیت ہی نہیں وہ صلح کروا سکیں نہ وہ اس فرض یا ذمہ داری میں دلچسپی لیتے ہیں۔
جن کا مقصد ہی طلاق سرٹیفکیٹ میں ہزاروں روپے رشوت وصولی ہی ہوتا ہے۔اسسٹنٹ ڈائریکٹرز لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ، ڈپٹی ڈائریکٹرز اور ڈائریکٹرز کا کردار میں قابل ستائش نہیں جو ثالثی کونسلوں کو مثبت طریقے سے چلانے اور فیصلوں میں ناکام ہیں۔جس کی وجہ سے پنجاب میں خلع اور طلاق کے کیسیز میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔کئی طلاقیں اعداد و شمار کے گورکھ دھندے میں ہو رہی ہیں۔محکمہ بلدیات پنجاب کے اعلٰی حکام یونین کونسلز سے کیسیز کی تفصیلات منگواتے ہیں۔زیر التواء کیسیز کی رپورٹ سے بچنے کے لئے سیکرٹریز یونین کونسلز پھرتی میں دھاڑیاں لگا کر طلاقیں کروا کے کیس ختم کر کے کارکردگی پیش کر دیتے ہیں۔جس کو افسران بھی خوش دلی سے قبول کر رہے ہیں۔اسسٹنٹ ڈائریکٹرز اور ڈپٹی ڈائریکٹرز لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ اس پر مطمئن اور خوش ہو جاتے ہیں کہ ان کے پاس کیسیز کم یا آنے کی نوبت نہیں آتی۔جن میاں بیوی کی طلاق یونین کونسلز میں فوری نہیں ہوتی وہ اے ڈی ایل جیز اور ڈی ڈی ایل جیز کروا دیتے ہیں۔پنجاب میں بلدیاتی انتخابات میں تاخیر اور بلدیاتی نمائندوں کے طویل عرصہ غیر فعال رہنے کی وجہ سے ثالثی کونسلوں کا کردار متنازعہ ہو چکا ہے۔طلاق اور خلع آسان جبکہ صلح نا ممکن بنا دی گئی ہے۔سیکرٹریز کے خراب کئے ہوئے کیسیز عدالتوں میں بھی نہیں سلجھائے جا سکتے۔پنجاب پاکستان کا وہ صوبہ بن چکا ہے جہاں یونین کونسلز کے سیکرٹری طلاق کروانا فرض سمجھتے ہیں کیونکہ طلاق سرٹیفکیٹ میں سب سے زیادہ رشوت ہے۔عوامی حلقوں نے وزیر اعلٰی پنجاب، وزیر بلدیات اور سیکرٹری بلدیات سے یونین کونسلز میں چل رہی غلط پریکٹس کی اصلاح کی اپیل کی ہے تاکہ ہزاروں گھروں کو اجڑنے سے بچایا جا سکے۔عوامی حلقوں کے مطابق اجتماعی شادیاں پنجاب حکومت کاخوش آئند اقدام ہے اجتماعی طلاقیں تشویشناک امر ہے۔





