پنجاب میں مقامی حکومتوں کا تا حال عدم قیام نہایت قابل تشویش ہے۔ شاہ حسین ریجنل نیٹ ورک

شاہ حسین ریجنل نیٹ ورک کی ممبر تنظیموں نے مقامی حکومتوں کے انتخابات کے لئے مطالباتی ریلی کا اہتمام کیا۔ جس کی قیادت ریجنل کنونیئر ڈاکٹر راشد محمود وڑائچ نے کی۔ اس موقع پر شرکائے ریلی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے دیگر تینوں صوبوں میں مقامی حکومتیں نہ صرف قائم ہو چکی ہیں بلکہ منتخب نمائندوں کی قیادت میں مکمل طور پر فعال ہیں ہیں. لیکن بدقسمتی سے پنجاب میں مقامی حکومتی ادارے منتخب قیادت کی بجائے سرکاری مشینری کے ذریعے چلائے جا رہے ہیں۔ ملک میں منتخب مقامی حکومتوں کا قیام آئین پاکستان کے آرٹیکل 7، 32 اور 140A کے ذریعے آئینی ضرورت ہے۔ جب کہ صوبہ پنجاب کو گزشتہ کئی سالوں سے اپنے آئینی حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ شرکاء کی طرف سے مزید کہا گیا کہ پنجاب حکومت کا ڈسٹرکٹ کوآرڈینشن کمیٹیوں کے ذریعے مقامی گوریننس قائم کر کے مقامی حکومتوں کے متبادل کے طور پر پیش کرنے کی کوششیں ناقابل قبول ہیں۔ مطالباتی ریلی میں مطالبہ کیا گیا کہ پنجاب حکومت مقامی حکومتوں کے قانون میں مناسب ترامیم سامنے لائے۔ جن میں اختیارات اور فرائض میں وسعت، نمائندگی کی شرح میں آبادی کے تناسب سے اضافہ اور مالیاتی خود مختاری کو یقینی بنانا شامل ہو۔ عوام کی براہ راست شراکت داری کو قانونی شکل دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی ضروریات کی نشاندہی اور خدمات کی بنیادی سطح پر فراہمی ایسے کام ہو سکتے ہیں جو مقامی آبادی کی عملی شراکت سے بہتر نتائج دے سکیں۔ تاہم اس شراکت کو قانونی شکل میں تحفظ ضروری ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر قانون کی مطابق مقامی حکومتوں انتخابات کرائے جائیں۔ جب کہ مقامی حکومتوں کے حوالے سے کی جانے والی ترامیم اور قانون سازی سے پہلے لوکل گورننس پر کام کرنے والی تنظیموں اور مفادِ عامہ کی شہری تنظیموں سے بھی تجاویز لی جائیں۔

جواب دیں

Back to top button