محکمہ خزانہ خیبر پختونخوا کے زیر اہتمام این ایف سی سے متعلق سیمینار ”پالیسی ڈائیلاگ آن این ایف سی ایوارڈ اینڈ وے فارورڈ“ میں وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نےبحیثیت مہمان خصوصی شرکت اور خطاب کیا ۔وزیر اعلٰی علی امین گنڈاپور نے کہا کہ آئین ریاست اور عوام کے درمیان ایک سوشل کنٹریکٹ ہے، آئین میں لوگوں کے بنیادی حقوق کو تحفظ دیا گیا ہے، اگر لوگوں کے حقوق کا تحفظ یقینی نہ ہو تو لوگوں میں اعتماد کا فقدان ہوتا ہے اور یہ بالآخر نفرت کو جنم دیتا ہے۔
ہمارے ملک میں آئین کو بار بار توڑا گیا، لیکن کسی کو سزا نہیں ملی، آج ملک میں جس طرح کے حالات ہیں ایسے حالات کی وجہ سے ایک دفعہ ملک دو لخت ہوا، ہم ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی بجائے ان غلطیوں کو دوہرا رہے ہیں۔عوام کے اعتماد کے لئے ضروری ہے کہ ریاست لوگوں سے کئے ہوئے اپنے وعدے پورے کرے، سابقہ قبائلی علاقوں کا صوبے میں انضمام پوری قوم کا متفقہ فیصلہ تھا، انضمام کے وقت وہاں کے عوام کے ساتھ کئی ایک وعدے کئے گئے لیکن وہ وعدے چھ سال گزرنے کے باوجود پورے نہیں ہوئے۔سابقہ قبائلی علاقوں کے انضمام سے صوبے کی آبادی میں 57 لاکھ یعنی تین فیصد کا اضافہ ہوا، اسی طرح صوبے کے رقبے میں بھی 22 ہزار مربع کلومیٹر یعنی 3.8 فیصد کا اضافہ ہوا، آبادی کے حساب سے این ایف سی میں خیبر پختونخوا کا شیئر 14 فیصد سے بڑھ کر 19.6 فیصد ہوگیا، این ایف سی میں خیبر پختونخوا کے شئیر کو بڑھانا ہمارا حق اور آئین کا تقاضا ہے۔انضمام کے وقت ان علاقوں کی تیز رفتار ترقیاتی پروگرام کے تحت سالانہ 100 ارب روپے دینے کا وعدہ کیا گیا، 6 سالوں میں صوبے کو 600 ارب کی جگہ صرف 132 ارب روپے ملے، ضم اضلاع کے آپریشنل اخراجات کی مد میں ہمیں سالانہ 88 ارب کی بجائے صرف 66 ارب مل رہے ہیں، وفاق کی عدم توجہی کی وجہ سے ضم اضلاع کے عوام میں بد اعتمادی جنم لے رہی ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت اپنے قلیل وسائل سے ضم اضلاع پر وسائل لگا رہی ہے، موجودہ صوبائی حکومت نے اپنی آمدن میں 55 فیصد کا اضافہ کیا، ہم نے گزشتہ حکومت کے 75 ارب روپے کے بقایاجات کلئیر کردیئے ۔ خیبر پختونخوا حکومت ڈیبٹ منیجمنٹ فنڈ قائم کرنے والا ملک کا پہلا صوبہ ہے، ہم نے ڈیبٹ منیجمنٹ فنڈ میں 30 ارب روپے ڈالے ہیں جسے بڑھا کر 150 ارب کردیا جائے گا۔ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے بعد ابھی تک نئے این ایف سی ایوارڈ دینے کی زحمت نہیں کی گئی۔ وفاقی حکومت غیر آئینی ارڈیننس کے ذریعے نئے این ایف سی ایوارڈ سے مزید راہ فرار اختیار نہیں کر سکتی، ہمارا مطالبہ ہے کہ نیا این ایف سی جلد سے جلد ہونا چاہئے، وفاقی حکومت اس سال اپریل تک نیا این ایف سی ایوارڈ دے دے ورنہ ہم مئی میں سرپرائز دیں گے۔ خیبر پختونخوا کے عوام ملک کے لئے اپنے سینے پیش کر رہے ہیں، ہماری قربانیوں کی وجہ سے باقی ملک دہشتگردی سے محفوظ ہے لیکن ہمیں اس کا صلہ زیادتیوں کی صورت میں مل رہا ہے۔ ملک کے 45 فیصد جنگلات خیبر پختونخوا میں ہیں جو پورے ملک کے لئے کاربن سنک کا کام کر رہے ہیں، اتنے رقبے پر جنگلات کی دیکھ بھال پر سالانہ 330 ارب روپے کا خرچہ آتا ہے، ہم نے جنگلات کے فروغ اور تحفظ کے لئے 650 ارب روپے خرچ کئے ہیں۔ پڑوسی ملک بھارت میں جنگلات کے لئے این ایف سی کا مخصوص شئیر ملتا ہے، پاکستان میں بھی جنگلات کے رقبوں کے لحاظ سے این ایف سی میں صوبوں کو شئیر ملنا چاہئے، ہم ملک کو سستی بجلی اور گیس دے رہے ہیں لیکن مہنگی خریدنے پر مجبور ہیں۔ پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں وفاق کے ذمے صوبے کے دو ہزار ارب روپے واجب الادا ہیں، ان میں سے ایک روپیہ بھی معاف نہیں کروں گا کیونکہ یہ صوبے کے عوام کا پیسہ ہے، 18 ویں آئینی ترمیم کے تحت زراعت صوبوں کو منتقل ہوا ہے لیکن وفاق خیبر پختونخوا سے ٹوبیکو سیس کی مد میں سالانہ 200 ارب روپے وصول کر رہا ہے۔
صوبے کے حقوق کے لئے ہر محاذ پر لڑوں گا، پیچھے نہیں ہٹوں گا، اگر صوبے کو اس کے یہ آئینی حقوق نہ ملے تو سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے، جس کے لئے کیس تیار کیا گیا ہے، چیف جسٹس آف پاکستان سے درخواست ہے کہ وہ اس کیس کا جلد اور میرٹ پر فیصلہ دے۔سیاسی معاملات پر گولیاں کھائیں اور برداشت کی، لیکن صوبے کے حقوق کے لئے برداشت نہیں کروں گا، صوبے کے عوام حقوق لینے کے لئے تیار رہیں، میں خود آپ کو لیڈ کروں گا، اگر اس جدوجہد میں گولی چلی تو گولی چلوانے والے نقصان کے خود ذمہ دار ہونگے۔
محکمہ خزانہ خیبر پختونخوا کے زیر اہتمام این ایف سی سے متعلق سیمینار کا انعقاد۔ سیمینار کا عنوان ”پالیسی ڈائیلاگ آن این ایف سی اینڈ وے فارورڈ“ تھا۔ ملک بھر سے نامور ماہرین معاشیات و اقتصادیات، سابق وزرائے خزانہ، بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں، پارلیمنٹیرینز اور میڈیا کی کثیر تعداد میں شرکت۔ ان ماہرین میں شبر زیدی، اشفاق حسین جان، قیصر بنگالی، حسن خاور، ثاقب شیرانی، اسد عمر، عمر ایوب، ڈاکٹر زبیر اور دیگر شامل تھے۔ سیمینار کے شرکاء اور ماہرین نے این ایف سی ایوارڈ کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لئے اپنی تجاویز پیش کیں۔ شراکاء نے موجودہ این ایف سی ایوارڈ میں موجود خامیوں کی نشاندھی کرکے جلد سے جلد نئے این ایف سی ایوارڈ کی ضرورت پر زور دیا.ماہرین اور شرکاء نے اس اہم موضوع پر سیمینار کے انعقاد پر خیبر پختونخوا حکومت کی کاوش کو سراہا۔






