بلدیہ عظمٰی لاہور شعبہ ریگولیشن کے بڑی تعداد میں ملازمین معطل،پیڈا ایکٹ کے تحت انکوائریز اور کیس اینٹی کرپشن کے سپرد،پٹواری راج

بلدیہ عظمٰی لاہور کی انتظامیہ نے تجاوزات کے ساتھ ساتھ شعبہ ریگولیشن کے ملازمین کے گرد بھی گھیرا تنگ کر دیا ہے۔جن پر تجاوز کنندگان اور شادی ہالز وغیرہ سے رشوت وصولی کے الزامات لگائے گئے ہیں۔پٹواریوں کی رپورٹ پر اسسٹنٹ کمشنرز کے کہنے پر چیف آفیسر ایم سی ایل شاہد عباس کاٹھیا کی طرف سے معطلی کے احکامات جاری کئے جا رہے ہیں۔

ڈائریکٹر انکوائریز اینڈ ایڈمنسٹریشن کو کیس ارسال کئے جا رہے ہیں۔تجاوزات آپریشن میں پہلے ہی زونل افسران ریگولیشنز کا کردار محدود کر دیا گیا ہے اور اسسٹنٹ کمشنرز کو تمام اختیارات دیئے جا چکے ہیں۔جو شعبہ ریگولیشن کے افسران اور عملے کی بجائے پٹواریوں سے سربراہ بنا کر کام لے رہے ہیں۔ایم سی ایل کے شعبہ ریگولیشن کا کام عملی طور پر پٹواریوں کے سپرد کر دیا گیا ہے۔جس سے ایم سی ایل کے ملازمین میں بددلی اور خوف پایا جاتا ہے۔شعبہ ریگولیشن کا کام صرف پٹواریوں کی تصاویر اور اسسٹنٹ کمشنرز کو بجھوائی گئی رپورٹ پر کارروائی اور آپریشن کرنے تک محدود ہے۔بلدیہ عظمٰی لاہور کی سی بی اے یونین اور دیگر ملازمین تنظیمیں خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہیں۔چیف آفیسر میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور شاہد عباس کاٹھیا کی طرف سے مختلف زون کے جن شعبہ ریگولیشن کے ملازمین کو معطل کر کے پیڈا ایکٹ کے تحت انکوائری کو حکم دیا گیا ہے ان میں امیر حمزہ جونیئر کلرک،احمد وکیل جونیئر کلرک نشتر زون،افضال حسین جونیئر کلرک علامہ اقبال زون،محمود بٹ جونیئر کلرک سمن آباد زون اور سلیم صدیقی ٹی آر آئی عزیز بھٹی زون شامل ہیں۔واضع رہے کہ زونز میں تعینات لوکل گورنمنٹ سروس کے ڈپٹی چیف آفیسر پہلے ہی غیر فعال ہیں۔جن پر صوبائی سروس کے افسران کا مکمل راج ہے۔بلدیہ عظمٰی لاہور کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اتنے بڑے پیمانے پر محکمہ بلدیات کے علاوہ انتظامی عہدوں پر افسران کی تقرریاں کی گئی ہیں۔جو افسران محکمہ بلدیات کے ہیں ان کو غیر فعال کر دیا گیا ہے۔

جواب دیں

Back to top button