حکومتِ پنجاب نے پولیس آرڈر 2002 میں ایک اہم اور سخت ترمیم نافذ کر دی,گزٹ نوٹیفکیشن

پنجاب میں پرتشدد مظاہروں اور ہنگامہ آرائی کے بڑھتے ہوئے رجحان کے پیشِ نظر حکومتِ پنجاب نے پولیس آرڈر 2002 میں ایک اہم اور سخت ترمیم نافذ کر دی ہے۔ Police Order (Second Amendment) Act 2025 کے تحت کی گئی یہ ترمیم 5 جنوری 2026 کو گورنر پنجاب کی توثیق کے بعد نافذ ہوئی اور اگلے ہی روز پنجاب گزٹ میں شائع کر دی گئی۔ اس قانون کے ذریعے ریاست نے واضح پیغام دیا ہے کہ احتجاج کا حق تسلیم شدہ ہے، مگر تشدد اور بدنظمی کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔

ترمیم شدہ قانون کے مطابق Riot اور Unlawful Assembly جیسے جرائم کو ناقابلِ ضمانت قرار دے کر ان کا ٹرائل سیشن کورٹ کے سپرد کر دیا گیا ہے، جبکہ سزاؤں میں دس سال تک قید اور بھاری جرمانے شامل کر دیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ Incident Commander، Riot Zone اور Riot Management Unit جیسی اصطلاحات کو قانونی تحفظ دے کر نظم و نسق کو ایک منظم فریم ورک میں لانے کی کوشش کی گئی ہے۔ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو Riot Zone نافذ کرنے، علاقے کو سیل کرنے اور ہجوم کو منتشر کرنے کے وسیع اختیارات مل گئے ہیں، جبکہ Riot Management Unit کو باقاعدہ ادارہ جاتی شکل دے کر فسادات سے نمٹنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ تاہم “Good Faith” کے تحت پولیس کو دیے گئے قانونی تحفظ پر یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ اس قانون کا اطلاق شفافیت اور احتیاط سے ہو، تاکہ ریاستی رِٹ کے ساتھ شہری آزادیوں کا توازن برقرار رہ سکے۔

جواب دیں

Back to top button