میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب سے پاکستان تحریک انصاف اور جمعیت علمائے اسلام کے وفد نے کے ایم سی کے مرکزی دفتر میں علیحدہ علیحدہ ملاقات کی، اس موقع پر میئر کراچی کے ترجمان برائے سیاسی امور کرم اللہ وقاصی، ڈپٹی پارلیمانی لیڈر دل محمد اور دیگر رہنماء بھی موجود تھے، میئر کراچی نے پی ٹی آئی کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یوسی کی سطح پر ٹریڈ لائسنس فیس وصول کرنے کے آغاز کیا جانا چاہئے تاکہ یوسی کے پاس فنڈز جمع ہوسکیں اور مقامی سطح پر ترقیاتی کام کرائے جاسکیں اگر کے الیکٹرک کے بلوں کے ذریعے ٹیکس جمع ہونا شروع ہوجاتا تو کے ایم سی کے فنڈز کا مسئلہ حل ہوچکا ہوتا اور ترقیاتی کاموں کے لئے بھی رقم موجود ہوتی، کراچی میں کے الیکٹرک کے 34لاکھ کنزیومر ہیں جن سے میونسپل ٹیکس بجلی کے بلوں کے ذریعے حاصل کیا جاتا، میں نے تجویز کیا تھا کہ میونسپل ٹیکس زیادہ سے زیادہ 200 روپے اور کم سے کم 50 روپے ہوگا، ماضی میں کے ایم سی میونسپل ٹیکس کی مد میں 20کروڑ روپے جمع کرتی تھی اور اس میں سے 4کروڑ 25 لاکھ روپے میونسپل ٹیکس جمع کرنے والی کمپنی کو دے دیئے جاتے تھے، کے الیکٹرک کے ذریعے میونسپل ٹیکس جمع کرنے کی کوششوں کو سیاست کی نظر کر دیا گیا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز سٹی کونسل میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر مبشر حسن زئی کی قیادت میں ملنے والے 25 رکنی وفد سے ملاقات کے موقع پر کیا، وفد میں پی ٹی آئی کے سٹی کونسل کے یوسی چیئرمین اور سٹی کونسل کے ممبران بھی شامل تھے،میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے وفد کو کے ایم سی کے آمدن و اخراجات اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق آگاہ کیا، میئر کراچی نے کہا کہ آئندہ بجٹ میں یوسی کے لیے پانچ لاکھ OZTکو بڑھا کر دس لاکھ کرنے کی تجویز دی ہے گزشتہ پانچ سالوں میں سندھ اسمبلی کی سطح پر پاکستان پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے تعلقات صفر رہے، باہم رابطے بڑھانے سے تعلقات بہتر ہونگے اور کراچی کی بہتری میں بھی مدد ملے گی، میئر کراچی نے کہا کہ کے ایم سی کے فنڈز خرچ کرنے میں شفافیت کا یقین دلاتا ہو ں، ایک ایک پائی کراچی کے ترقیاتی کاموں پر صرف کی جائے گی، انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ارکان کے مسائل کے حل کے لیے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر دل محمد کو فوکل پرسن مقرر کررہا ہوں، پی ٹی آئی کے ارکان بھی اپنا ایک فوکل پرسن مقرر کریں تاکہ مسائل کو تیزی کے ساتھ حل کیا جاسکے، انہوں نے کہا کہ شرارت پسند لوگ ہر طرف ہوتے ہیں جو سیاسی جماعتوں کے درمیان تعلقات کو خراب کرتے ہیں، ہم سب مل کر کراچی کے بہتر مفادکے لیے کام کریں، پی ٹی آئی کے ممبران کو جب بھی میئر آفس کی ضرورت ہو ان کے لیے دروازے کھلے ہیں، پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر مبشر حسن زئی نے کہا کہ ہم نے میئر آفس سے روابط بڑھانے کا آغاز کردیا ہے، امید ہے بہتر نتائج آئیں گے،ملاقاتوں کا یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا، جمعیت علمائے اسلام کے سابق پارلیمانی لیڈر سید اکبر ہاشمی کی قیادت میں ملنے والے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے میئر کراچی نے کہا کہ حکومت سندھ نے کے ایم سی سے جو ترقیاتی اسکیمیں مانگی ہیں ان میں جمعیت علمائے اسلام کی اسکیمیں بھی شامل کی جائیں گی، کس پارٹی کو کے ایم سی کونسل کی کونسی کمیٹی دی جانے والی اس کا فیصلہ ابھی تک نہیں ہوا ہے لیکن ہر پارٹی کو اس کے ممبران کے تناسب سے کمیٹیاں دی جائیں گی اور کسی کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوگی، انہوں نے کہا کہ گزشتہ کونسل کے 8 اپریل 2019 ء کے اجلاس میں شیر شاہ چوک سے حب چوکی تک حب ریور کا نام شاہراہ مفتی محمود رکھا گیا تھا ہم اس کا احترام کرتے ہیں، اس شاہراہ کی تزئین و آرائش کی جائے گی اور شاہراہ کے نام کے بورڈ بھی لگائے جائیں گے، میئر کراچی نے کہا کہ پختون آباد گراؤنڈ، منگھوپیر یوسی۔3 کی باؤنڈری وال فوری تعمیر کریں گے اور رات کے وقت کھیلنے کے لئے فلڈ لائٹس بھی لگائی جائیں گی، میئر کراچی نے کہا کہ اعلانات کرنے کے بجائے کام پر توجہ دینی چاہئے اور کارکردگی ہی معیار ہونا چاہئے، پارلیمانی لیڈر مفتی خالد نے مختلف یونین کونسلوں کے مسائل سے میئر کراچی کو آگاہ کیا اور اپنے ہرممکن تعاون کا یقین دلایا۔






