خیبرپختونخوا کے بلدیاتی ملازمین اور پنشنرز گزشتہ کئی ماہ کی تنخواہوں اور پنشن سے محروم ہیں۔ TMAs کے ملازمین اپنے روزمرہ کے فرائض منصبی باقاعدگی سے انجام دینے کے باوجود اپنی تنخواہوں اور پنشن جیسے بنیادی آئینی حق اور اپنی محنت کے صلے سے محروم ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف ملازمین کی مالی مشکلات بڑھا دی ہیں بلکہ محکمہ بلدیات کے انتظامی نظام کی ناکامی کو بھی عیاں کر دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق محکمہ بلدیات و دیہی ترقی کی عدم توجہی اور نااہلی کی وجہ سے بلدیاتی اداروں کے مالی معاملات دن بدن بگڑتے جا رہے ہیں اور فنڈز کی عدم فراہمی ، ذرائع آمدن نہ بڑھانے اور بد انتظامی سے بلدیاتی ادارے شدید ترین مالی بحران سے دوچار ہیں اور ملازمین کئی کئی ماہ تک فرائض منصبی ادا کرنے اور محنت و مشقت کرنے کے باوجود بھی تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی سے محروم رہ کر معاشی طور پر کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔ بلدیاتی ملازمین اور پنشنرز کے بچے تنخواہوں اور پنشن کی عدم ادائیگی کی وجہ سے فاکوں کے شکار ہیں۔ بلدیاتی اداروں سے وابستہ ہزاروں ملازمین اور پنشنرز کی آواز سننے والا کوئی نہیں۔تنخواہوں اور پنشن کی عدم ادائیگی کی وجہ سے ملازمین اور پنشنرز گھروں کے کرایوں کی عدم ادائیگی ، بچوں کے سکولوں کی فیسوں کی عدم ادائیگی ، بجلی اور گیس کے بلوں کی ادائیگی میں ناکامی اور بچوں کی کفالت میں مشکلات جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن رجسٹرڈ خیبرپختونخوا بلدیاتی ملازمین اور پنشنرز کے مسائل کے حل کے لئے بارہا صوبائی حکومت کے اعلیٰ حکام تک اپنی اواز پہنچا چکی ہے مگر محکمہ بلدیات و دیہی ترقی کے کانوں تک جوں تک نہیں رینگی۔ لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن خیبرپختونخوا کے سینئر عہدیداران شوکت کیانی، حاجی انور کمال خان مروت، محبوبِ اللہ اور سلیمان خان ہوتی نے وزیر اعلیٰ سہیل خان آفریدی کی قیادت میں قائم ہونے والی صوبائی حکومت ، صوبائی وزیر بلدیات و دیہی ترقی خیبرپختونخوا مینا خان آفریدی ، چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ، سیکریٹری محکمہ بلدیات و دیہی ترقی خیبرپختونخوا سردار ثاقب اسلم اور سیکریٹری لوکل کونسل بورڈ وحید الرحمان سے پرزور مطالبہ کیا ہے خیبرپختونخوا کے بلدیاتی اداروں کو مالی بحران سے نکالنے کے لئے اداروں کو مالی طور پر مضبوط کرنے کے لئے فوری اور مثبت اقدامات اٹھائیں اور مفلوک الحال بلدیاتی ملازمین اور پنشنرز کے معاشی حالات بہتر بنانے کے لئے ان کی تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی یقینی بنانے کے لئے بلاتاخیر اکاؤنٹ فور کا نفاذ عمل میں لایا جا کر ملازمین اور پنشنرز کو تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی عمل میں لائیں اور ان کے بچوں کو فاکوں سے نجات دلانے کے کئے فوری عملی اقدامات اٹھائیں۔یہ مسائل طویل المدتی اور فوری حل کے متقاضی ہیں۔
Read Next
1 دن ago
محمد سہیل آفریدی نے پشاور رنگ روڈ کے ہزار خوانی انٹر سیکشن پر 6 لینز پر مشتمل اوور پاس منصوبے کا سنگِ بنیاد رکھ دیا
1 دن ago
محرم الحرام کے دوران امن و امان کے لیے خیبرپختونخوا حکومت کے فول پروف انتظامات
2 دن ago
خیبرپختونخوا بجٹ 2026-27 میں محکمہ بلدیات کابجٹ 56 ارب سے بڑھا کر 90 ارب کر دیا گیا،کم از کم اجرت 45 ہزار مقرر
2 دن ago
سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لئے صرف سات فیصد مختص کرنا غریب ملازمین ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن خیبرپختونخوا
3 دن ago
خیبرپختونخوا میں ڈیجیٹل پولیسنگ کے نئے دور کا آغاز!
Related Articles
ترقیاتی ورکنگ پارٹی خیبرپختونخوا کے اجلاس میں 26 ارب روپے سے زائد مالیت کے 8 منصوبوں کی منظوری
3 دن ago
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کے زیرِ صدارت ترقیاتی فنڈز کے استعمال کی صورتحال پر اہم اجلاس
4 دن ago
لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن خیبرپختونخوا نےبلدیاتی اداروں کے اڈہ جات کا کنٹرول لوکل ایریا اتھارٹیز کے حوالہ کرنے کے حکومتی فیصلہ کو غیر دانشمندانہ قرار دے دیا
5 دن ago


