وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان و سیفران، انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کی ترقی کیلئے وفاقی حکومت پر عزم ہے۔ انھوں نے آج اتوار کو گلگت میں وزیر اعلی سیکریٹریٹ میں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے مختلف وفود سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں خطے کی مجموعی صورتحال، امن و امان، بین المسالک ہم آہنگی اور عوامی مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پہ گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے تمام مکاتبِ فکر کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان میں سیاحت کے بے پناہ مواقع موجود ہیں جو اسے ملک میی ممتاز حیثیت دیتے ہیں ضرورت اس امر کی ہیکہ سب مل کے علاقے میں امن و آمان کو یقینی بنائیں وفاقی وزیر نے کہا کہ اس خطے کی تعمیر و ترقی کیلئے وفاقی حکومت صوبائی حکومت کو درکار تمام وسائل ترجیحی بنیادوں پہ فراہم کر رہی ہے ۔ توانائی کے بحران کے حل کیلئے وزیراعظم پاکستان نے 100 میگاواٹ سولر پاور منصوبے کی منظوری دی ہے جبکہ 58 میگاواٹ کے سولر پلیٹس گلگت بلتستان کے عوام اور کاروباری اداروں کو مفت فراہمی کا فیصلہ بھی وزیر اعظم پاکستان ہی کا تھا۔ جس کو شفاف طریقے سے عمل درآمد کرنے میں گلگت بلتستان حکومت اور انتظامیہ نے موثر حکمت عملی وضع کی ۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان ہمیشہ سے رواداری، بھائی چارے اور پرامن بقائے باہمی کی ایک روشن مثال رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت خطے میں پائیدار امن کے قیام، ترقیاتی عمل کے فروغ اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔وفود نے بھی اس موقع پر امن و استحکام کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے دہشتگردی، فرقہ واریت اور اشتعال انگیزی کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے عدالتی کمیشن کے غیر جانبداری کو یقینی بنا کر زمہ داروں کے تعین کا مطالبہ کیا اور بلا امتیاز قانونی کاروائی پہ زور دیا۔انجینئر امیر مقام نے واضح کیا کہ بدامنی یا انتشار پھیلانے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی اور قانون کی عملداری ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح سمجھتی ہے اور سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔عوامی مسائل کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کو ایک بڑا چیلنج قرار دیا اور بتایا کہ توانائی منصوبوں، خصوصاً سولر سسٹمز اور مجوزہ پاور پراجیکٹس پر پیشرفت کے ذریعے اس مسئلے کو کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے سستے آٹے کی فراہمی کے لیے جاری سبسڈی اور دیگر فلاحی اقدامات کا بھی ذکر کیا۔ملاقاتوں کے اختتام پر تمام مکاتبِ فکر کی قیادت اور حکومتی نمائندگان نے اس بات پر اتفاق کیا کہ گلگت بلتستان میں دیرپا امن، قومی یکجہتی اور بین المسالک ہم آہنگی کے فروغ کے لیے باہمی تعاون کو مزید مستحکم کیا جائے گا، تاکہ خطہ ایک پرامن، مستحکم اور ترقی یافتہ مثال کے طور پر آگے بڑھ سکے۔
Read Next
2 دن ago
وزیر اعلٰی گلگت بلتستان نے آوارہ کتوں کے خلاف ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کرنے کے احکامات جاری کر دیئے
2 دن ago
براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے سے 3 غیر ملکی کوہ پیما جاں بحق،کئی لاپتا،پاک فوج اور مقامی کوہ پیماؤں کا ریسکیو آپریشن جاری
2 دن ago
گورنر گلگت بلتستان سید مہدی شاہ نے محکمہ صحت کے “ریگولرائزیشن آف سروسز آف نرسز ایکٹ 2025ء” کی منظوری دے دی
5 دن ago
جگلوٹ سکردو روڈ کی بحالی اور بیلی پل کی تنصیب،متعلقہ اداروں کو خراج تحسین
6 دن ago
*حکومتِ گلگت بلتستان اور یونیورسٹی آف لاہور کے درمیان تعلیم کی بہتری کے لیے معاہدہ طے پا گیا*
Related Articles
تورمک کی بحالی کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں، متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے:وزیرِ اعلیٰ گلگت بلتستان
7 دن ago
گلگت بلتستان، بلدیاتی انتخابات 2026ء کیلئے ووٹر رجسٹریشن، منتقلی اور کوائف کی درستگی کی تاریخ میں مزید توسیع
1 ہفتہ ago
وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی زیر صدارت انٹرنیٹ رابطہ کاری (کنیکٹیویٹی) کے مسائل اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی بہتری سے متعلق اہم اجلاس
1 ہفتہ ago



