”یونیورسل چلڈرن ڈے ‘‘منانے کا اعلان 1954ء میں اقوامِ متحدہ میں کیا گیا۔اقوام متحدہ نےتجویز پیش کی تھی کہ دنیا بھر کے ممالک 20نومبر کو بچوں کی فلاح و بہبود کے طور پر منائیں

آج بچوں کا عالمی دن ، یہ دن اس لئے منایا جاتا ہے کیونکہ بچوں کی تعلیم و تربیت، معاشرتی تربیت اور مذہبی تربیت سے متعلق شعور اُجاگر کیا جائے تاکہ دنیا بھر کے بچے مستقبل میں اپنا مثبت کردار ادا کرسکیں، ”یونیورسل چلڈرن ڈے ‘‘منانے کا اعلان 1954ء میں اقوامِ متحدہ میں کیا گیا۔اقوام متحدہ نے 1954 ء میں تجویز پیش کی تھی کہ دنیا بھر کے ممالک 20نومبر کو بچوں کی فلاح و بہبود کے طور پر منائیں۔ اس تجویز پر جنرل اسمبلی نے 1959ء کو بچوں کے حقوق کا ڈکلیریشن جاری کیا، جس کے بعد اب پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہر سال 20 نومبر کو بچوں کے حقوق کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔اس قرارداد کو”ڈکلیریشن آف دی رائٹس آف دی چائلڈ‘‘کہا گیا ،جس کا بنیادی مقصد بچوں کی فلاح و بہبود کو اور معاشرہ میں بچوں کے حقوق کو اجاگر کرنا تھا۔ اقوام متحدہ کی اس تجویز کا دنیا کے تمام ہی ممالک نے خیر مقدم کیا۔

بچوں کا عالمی دن منانے کے بے شما ر مقاصد ہیں جن میں بنیادی طور پر بچوں میں تعلیم، صحت، تفریح اور ذہنی تربیت کے علاوہ بچوں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا، بے گھر بچوں کو بھی دیگر بچوں جیسی آسائشیں مہیا کرنا اوّلین ترجیح ہے۔ ہم ایک مہذب معاشرے میں سانس لے رہے ہیں لیکن بچوں کو اپنے بڑوں کے نارواسلوک، ظلم و زیادتی اور تشدد کا سامنا ہے، آج بھی دنیا بھر میں ہر سال بچوں کو گھریلو تشدد کا سامنا ہے، جبکہ اس قسم کا سلوک بچوں کی نشوؤنما پر منفی اثرات مرتب کرسکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے کنونشن کے مطابق دنیا کا ہر بچہ اپنی بقا، تحفظ، ترقی اور شمولیت کا حق رکھتا ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے بچوں کے حقوق کیلئے بنائے گئے کنونشن کے مطابق پاکستان میں بچوں کے حقوق کے حوالے سے کوئی خاطر خواہ بہتری دیکھنے میں نہیں آئی۔ اس کنونشن کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق ملک میں بچوں کو بنیادی انسانی حقوق بھی حاصل نہیں جن میں زندہ رہنے، صحت، تعلیم اور تحفظ کے حقوق شامل ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت پاکستان میں 80 ملین بچے آبادی کا حصہ ہیں جو بنیادی ضروریات زندگی کے حصول کا حق رکھتے ہیں۔ تاہم ان میں سے صرف 20 فیصد شہری علاقوں سے تعلق رکھنے والے بچے ہیں جنہیں تمام سہولیات میسر ہیں۔ اس وقت پاکستان میں بچوں کے حقوق کے حوالے سے کیا صورتحال ہے اس کے بارے میں بچوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والی ایک بین الاقوامی تنظیم کے مطابق اگر صرف صحت کے حوالے سے بات کی جائے تو ملک میں پانچ سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی ہر چھ میں سے ایک بچہ انتقال کر جاتا ہے۔

بچوں کی فلاح و بہبودکا عالمی ادارہ یونیسیف بھی اس دن کو منانے کیلئے اپنابھرپور کردارادا کرتا ہے۔ اس دن بچوں میں بہتری اور بھلائی کیلئے، ان کی ذہنی و جسمانی صحت کیلئے سوچ بچار کی جاتی ہے اور منصوبے تیار کئے جاتے ہیں

۔ بچوں کے حقوق کے لیے ہماری مشترکہ جدوجہد دہائیوں پر محیط ہے، لیکن یہ سفر ابھی مکمل نہیں ہوا۔

 

1988 میں، پاکستان کی سپریم کورٹ نے ایک تاریخی فیصلہ دیا جس میں بچوں کے حقوق کو تسلیم کیا گیا۔ یہ فیصلہ مسلسل جدوجہد کا نتیجہ تھا،

 

سی آر سی کے آرٹیکل 28 اور 32، جو بچوں کی مشقت کے خاتمے اور تعلیم کے حق پر زور دیتے ہیں

 

آج جب ہم سی آر سی کے اپنانے کے 36 سال منا رہے ہیں، تو ایک سنگین مسئلہ سامنے آتا ہے: کسی بھی حکومت نے سی آر سی کو بچوں کے تعلیمی نصاب میں شامل نہیں کیا۔ یہ واضح طور پر CRC کے آرٹیکل 42 کی خلاف ورزی ہے جن کا حکومتوں نے تحفظ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اگر بچے اپنے حقوق سے ناواقف ہوں گے تو وہ انہیں کیسے حاصل کر سکیں گے؟

 

آج بھی دنیا بھر میں بچوں کے بنیادی حقوق کی پامالی جاری ہے۔

۔ سی آر سی کا آرٹیکل 42 اس بات پر زور دیتا ہے کہ بچوں اور بڑوں کو ان حقوق سے آگاہ کیا جائے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک میں اس کنونشن کی تعلیم شامل نہیں۔

 

تعلیمی نصاب میں سی آر سی کی شمولیت کو یقینی بنانا ہمارا اجتماعی فرض ہے۔

 

20 نومبر کا دن بچوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے 20 نومبر کو اقوام متحدہ نے بچوں کے حقوق کا عالمی معاہدہ ( سی آر سی ) منظور کیا جسے چائلڈ رائٹس کنونشن کہتے ہیں۔

 

اقوام متحدہ کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان نے بھی بچوں کے حقوق کے اس عالمی معاہدے پر دستخط کیے ہیں اور یہ عہد کیا ہے کہ جو کچھ معاہدے میں درج ہے ان تمام حقوق اپنے ملک میں بچوں کو دیے جائیں گے۔ آئین پاکستان اور چائلڈ رائٹس کنونشن CRCٰٓایسے تمام حقوق کی ضمانت فراہم کر رہا ہے اِس معاہدے کا جائزہ لیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس میں بچوں کے تمام بنیادی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے۔

 

اِس معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد پاکستان پر لازم ہے کہ بچوں کو اُن کی نشو و نما، اُن کی صحت و تعلیم، اُن کی تفریح، آزادی رائے تحفظ، مذہبی آزادی، نگہداشت پرورش بچے کو ذہنی اور جسمانی تشدد اور بدسلوکی سے بچاؤ سمیت تمام وہ اقدامات کرنے کی پابند ہوں گے جن کے ذریعے بچے کو اُس ملک کا ایک موثر شہری بنایا جا سکے۔

 

خصوصاً اس معاہدے کے تحت کم عمر بچوں سے جبری مشقت کی سخت ممانعت کی گئی ہے اور ریاستوں سے ضمانت لی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے ملک میں بچوں کی مشقت کے خلاف موثر قانون سازی کریں گے۔ اس طرح ہر ملک یا ریاست اپنے ملک میں بچوں کے لئے علیحدہ صحت کی سہولیات مہیا کریں گے بچوں کی جیلیں علیحدہ ہوں گی جہاں بچوں کو خصوصی رعایت حاصل ہوگی۔ اس معاہدے کے مطابق ریاست تمام بچوں کو یکساں تعلیم کے برابر مواقع فراہم کرے گی اور پرائمری تک لازمی اور مفت تعلیم فراہم کی جائے گی۔ بچوں کی حاضری کو باقاعدہ بنانے کے اقدامات اور سکول چھوڑنے والے بچوں کی تعداد کم کرنے کے اقدامات کریں گے۔

 

اس طرح بچوں کے لئے تفریحی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہوگی اس معاہدے میں ریاستیں اس حق کو نہ صرف تسلیم کرتی ہیں بلکہ بچے کی عمر کے مطابق اُسکی تفریح اور فنونِ لطیفہ کی سرگرمیوں کے لئے اقدامات کی بھی ذمہ دار ہیں۔ جنگ کی صورت میں دونوں فریقین پر ذمہ داری ہوگی کہ وہ بچوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں گی بچوں کو جنگ میں شریک نہ کیا جائے، افواج میں بھرتی نہ کیا جائے اور زخمی ہونے والے بچوں کی خصوصی نگہداشت کا اہتمام کیا جائے گا۔

 

یوں ہم نے دیکھا کہ چائلڈ رائٹس کنونشن ایسے تمام حقوق کی ضمانت فراہم کر رہا ہے جس کے ذریعے ہم ایک صحت مند تعلیم یافتہ مہذب معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں پاکستان نے اقوام متحدہ کے رکن کی حیثیت سے اس معاہدے پر دستخط کیے ہیں اور یوں ہم اس معاہدے کے تمام آرٹیکل کو اپنے ملک میں لاگو کرنے کے پابند ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کے صوبہ پنجاب میں پانچ سال سے کم عمر کے ایک کروڑ 10 لاکھ سے زیادہ بچوں کی صحت کو سموگ سے سنگین خطرہ لاحق ہے جس پر قابو پانے کے لیے فضائی آلودگی میں کمی لانے کی فوری اور موثر کوششیں کرنا ہوں گی۔

 

اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنس (کاپ 29 ) حکومتوں کے لیے اس مسئلے سے نمٹنے کے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کا حقیقی موقع تھا۔ بچوں کو زہریلی فضا میں سانس لینے کے لیے چھوڑا نہیں جا سکتا اور ان کی صحت، تعلیم اور بہبود کو تحفظ دینے میں کسی کوتاہی کی گنجائش نہیں۔ اپنے بچوں اور ان کے مستقبل کی خاطر آلودگی پر قابو پانے کے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔ موجودہ صورتحال سے قبل پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کی تقریباً 12 فیصد اموات فضائی آلودگی سے ہو رہی تھیں۔

 

رواں سال غیرمعمولی سموگ کے اثرات کا درست اندازہ لگانے میں وقت درکار ہو گا مگر فضا میں آلودگی کی دو سے تین گنا بڑی تعداد کے خاص طور پر حاملہ خواتین اور بچوں پر اثرات واضح ہیں۔ اس حوالے سے پاکستان کی حکومت اور قیادت اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر بچوں کے تحفظ کے لئے کوشش کر رہی ہے۔ گزشتہ روز پاکستان نے بچوں کے حقوق اور مفادات کو موسمیاتی تبدیلی کے سبب لاحق خطرات سے تحفظ دینے کے اعلامیے پر دستخط کر دیے ہیں۔

 

اس اقدام سے موسمیاتی تبدیلی کے pتناظر میں بچوں اور نوجوانوں

 

پاکستان کی حکومت اور یونیسف کو بچوں اور نوجوانوں پر موسمیاتی تبدیلی کے غیر متناسب اثرات کے بارے میں گہری تشویش ہے۔

موسمیاتی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بچے دیگر مسائل کا شکار ہیں جس میں خصوصاً تعلیم صحت اور دیگر مسائل شامل ہیں یونیسکو کی 2023 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ رپورٹ کے مطابق 5 سے 16 سال کی عمر کے 2 کروڑ 66 لاکھ بچے سکول نہیں جاتے جو اس عمر کی کل آبادی کا 44 فیصد بنتے ہیں۔ یہ بھی اس وقت ایک سنگین مسئلہ ہے جس کے لیے حکومت کو خصوصی توجہ دینی چاہیے

 

·بچوں کے حوالے سے جو قوانین موجود ہیں ان پر فوری طور پر عمل کروایا جائے اور ان قوانین پر عملدرآمد کے انسانی اور مالی وسائل مختص کیے جائیں تاکہ ان قوانین پر عمل ہو سکے۔

 

·چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے اس کی وجوہات میں کمی لانے کے لئے سوشل پروٹیکشن کے پروگرامز کو موثر بنایا جائے۔

·

بچے پھول کی مانند نرم و نازک ہوتے ہیں، ہم سب کو مل کر انہیں مرجھانے سے بچانا ہو گا۔تعلیم صحت کھیل اور خوراک ہر بچے کا بنیادی حق ہے۔ بچوں کو چائلڈ لیبر سے نکال کر تعلیم کی طرف راغب کرنا ہو گا۔ حکومت بچوں سے جبری مشقت کے بارے میں ہنگامی بنیادوں پر کانفرنسز بلا کر بچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں، ناانصافیوں اور جبری مشقت کے خاتمے کیلئے ضروری اقدامات کرے۔بچوں کے حقوق کیلئے حکومت کے ساتھ ساتھ معاشرے کے ہر فرد کو بھی اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔سب سے پہلے وجہ دور کی جائے وجہ غربت ہے ، جس کی وجہ سے وہ اس عمر میں کام کرنے پر مجبور ہیں تاکہ آنے والے وقت میں وہ بچہ ایک اچھا اور باشعور شہری بن سکے اور اپنا اور اپنے ملک کا نام روشن کرے۔حکومت بچوں سے جبری مشقت کے خاتمے کو یقینی بنانے اور غریب بے روزگار افراد کو روزگار فراہم کرکے ان کے معصوم بچوں کے مستقبل کو روشن بنانے کے لئے موثر اقدامات کرے۔

 

پاکستان بھٹہ مزدور فیڈریشن

پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن

صدر نصرت بشیر ظفر

جواب دیں

Back to top button