سندھ،محکمہ لائیو اسٹاک کی طرف سے انتہائی غریب اور مستحق خاندانوں میں دودھ دینے والے مویشیاں فراہم کرنے کے منصوبے پر غور

وزیر برائے لائیو اسٹاک و فشریز محمد علی ملکانی کی صدارت میں اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقدہوا جس میں سندھ صوبے کے انتہائی غریب اور مستحق خاندانوں میں دودھ دینے والے گائے اور بھینسوں کی تقسیم کےپائلٹ منصوبے پر تفصیلی غور ویچار کیا گیا۔ اجلاس میں سیکریٹری ڈاکٹر کاظم حسین جتوئی،سندھ انسٹی ٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ (SIAH) کے ڈی جی ڈاکٹر نظیر حسین کلہوڑو، ڈی جی لائیو سٹاک رفیق میمن، سندھ رورل سپورٹ پروگرام (سرسو) کے سی ای او محمد ڈتل کلہوڑو، پیپلز پاورٹی رڈکشن پروگرام کے ڈائریکٹر جنرل پرویز احمد چانڈیو سمیت محکمے کے متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ڈائریکٹر جنرل سندھ انسٹیٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ (SIAH)، ڈاکٹر نظیر حسین کلہوڑو نے پاورپوائنٹ پریزنٹیشن کے ذریعے اجلاس کو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ

یہ پائلٹ پروجیکٹ مالی سال 2024-25 کے "پرو-پور سوشل پروٹیکشن اینڈ اکنامک سسٹین ایبیلٹی پروگرام” کا حصہ ہے، جس کا مقصد غربت کے خاتمے اور معاشی استحکام کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت ایسے مویشی بالخصوص گائے یا بھینس فراہم کی جائیں گی جو روزانہ 8 سے 10 لیٹر دودھ دینے کی صلاحیت رکھتی ہوں، تاکہ مستحق خاندان اپنی روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ اضافی دودھ فروخت کر کے آمدنی بھی حاصل کر سکیں۔ ڈاکٹر نظیر حسین کلہوڑو نے بتایا کہ ابتدائی طور پر فنڈنگ کے حساب سے صوبے کے 6 سے 8 اضلاع میں اس پروجیکٹ کا آغاز کیا جائے گا، اورپھر پروجیکٹ کے دوسرے مرحلے میں باقی اضلاع میں بھی اس پروجیکٹ کی توسیع کی جا ئے گی۔ اجلاس کے دوراں اس منصوبے کی تکنیکی و عملی پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مختلف اداروں کی طرف سے ملنے والے ڈیٹا کے مطابق انتہائی غریب خاندانوں میں سے جن کا پاورٹی اسکور صفر تا پانچ ہوگا صرف انہیں کو مویشی فراہم کرنے کے پول میں شامل کیا جائے گا اس کے بعد مزید کرائیٹریا کے حساب سے ان کی سلیکشن کی جائے گی۔وزیر لائیو اسٹاک و فشریز محمد علی ملکانی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت لائیواسٹاک اینڈ فشریز کے شعبے کی ترقی کے لیے متعدد اقدامات کر رہی ہے، تاکہ دیہی علاقوں میں بسنے والے غریب خاندانوں کو معاشی طور پر خودمختار بنایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے سے صوبے میں دودھ کی پیداوار میں بھی اضافہ ہوگا، جس کے مثبت اثرات پورے صوبے پر مرتب ہوں گے۔ یہ منصوبہ حکومت سندھ کی جانب سے غربت کے خاتمے اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے جاری مختلف پروگرامز کا حصہ ہے، جس کا مقصد صوبے کے پسماندہ طبقات کو معاشی طور پر مستحکم کرنا اور ان کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانا ہے، محمد علی ملکانی نے اس بات پر زور دیا کہ مویشیوں کی تقسیم کے دوران شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنایا جائے، انہوں نے احکامات جاری کیے کہ پائلٹ پروجیکٹ شروع کرنے سے پہلے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، سندھ رورل سپورٹ پروگرام، پیپلز پاورٹی رڈکشن پروگرام دیگر مختلف اداروں سے صوبے کے سب سے غریب ترین یونین کاؤنسلز کا ڈیٹا اکٹھا کیا جائے جس میں سے صرف انتہائی غریب خاندانوں کو پول میں رکھا جائے اور باقاعدہ ویریفکیشن اور سروے کے بعد ہی اس پائلٹ پروجیکٹ پر عملدرآمد شروع کیاجائے ۔ مویشی ایسے خاندانوں کو دیے جائیں جو انتہائی غربت کا شکار ہیں اور اپنے روزگار کے لیے کسی مدد کے منتظر ہیں اور سندھ حکومت انکی مدد کر رہی ہے۔

جواب دیں

Back to top button