بلدیہ عظمٰی لاہور نےجنرل بس اسٹینڈ بادامی باغ کو جدید بنانے کا منصوبہ ڈراپ کر دیا،5 ارب لاگت کا تخمینہ تھا

فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث جنرل بس اسٹینڈ بادامی باغ کو جدید بنانے کا منصوبہ ڈراپ کر دیا ہے۔جنرل بس اسٹینڈ بادامی باغ کی ری سٹرکچرنگ،ری ویمپنگ یا اوور آل سٹرکچرنگ کے لئے 5 ارب روپے لاگت کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔سابق کمشنر لاہور محمد علی رندھاوا کی دلچسپی سے اس منصوبہ کو تیار کیا گیا لیکن موجودہ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کی عدم دلچسپی اور پنجاب حکومت کی طرف سے صرف لاہور ڈویلپمنٹ پلان پر انحصار کی پالیسی کے باعث اس منصوبہ پر مزید پیش رفت نہیں ہو سکی۔

بلدیہ عظمٰی لاہور نے جنرل بس اسٹینڈ بادامی باغ کا منصوبہ ڈراپ کر دیا ہے۔بادامی باغ جنرل بس اسٹینڈ جہاں روزانہ 70 ہزار سے ایک لاکھ مسافروں کی آمد ہوتی ہے۔مجوزہ منصوبے میں منظم پارکنگ، بس بیز کی از سر نو تعمیر، سیوریج سسٹم، پبلک ٹوائلٹس، آئی ٹی کنٹرول پلاننگ وغیرہ شامل تھی۔بادامی باغ جنرل بس اسٹینڈ جو 282 کنال پر محیط ہے میں 37 کنال پر کثیر المنزلہ پارکنگ پلازہ تعمیر کیا جانا تھا۔جس سے بادامی باغ اور سرکلر روڈ کی تمام مارکیٹوں کے تاجروں کو پارکنگ کی بہترین سہولیات ملنا تھیں۔بادامی باغ لاری اڈہ کوگرین ایریاز میں تبدیل کرنے کا بھی پلان تھا۔یہ بات اہم ہے کہ میٹروپولیٹن پولیٹن کارپوریشن لاہور کو سالانہ ایک ارب روپے کے قریب جنرل بس اسٹینڈ سے آمدن ہوتی ہے لیکن صوبائی دارالحکومت کے اس اہم ترین بس ٹرمینل میں سہولیات کا فقدان ہے جس سے لاہور شہر کا امیج بھی خراب ہوتا ہے۔محمد علی رندھاوا سے قبل سابق ڈی سی او نسیم صادق نے بھی جنرل بس اسٹینڈ کی بہتری میں دلچسپی لی تھی لیکن ان کے تبادلے کے بعد منصوبے ڈراپ کر دیئے گئے۔

جواب دیں

Back to top button