بلدیہ عظمٰی لاہور کے زونز کی سطح پر اختیارات ختم، شہری خوار،افسران بے کار،بے روزگاری میں خطرناک حد تک اضافہ

بلدیہ عظمٰی لاہور کے زونز کی سطح پر اختیارات ختم ہونے سے شہری خوار افسران بے کار ہو گئے ہیں۔اختیارات، ذرائع آمدن محدود ہونے سے پنجاب کی واحد میٹروپولیٹن کارپوریشن عملی طور پر اپاہج ہو گئی ہے۔رہی سہی کسر پنجاب حکومت نے اہم آسامیوں پرلوکل گورنمنٹ سروس کے افسران کی چھٹی اور صوبائی سروس کے افسران لگا کر نکال دی ہے۔پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کے نفاذ سے قبل ہی ڈپٹی کمشنرز کو اتنا مضبوط کر دیا گیا ہے کہ لوکل گورنمنٹ سروس کے افسران کی حثیت معمولی ملازم کی سی رہ گئی ہے۔بلدیہ عظمٰی لاہور کے زونز میں تعینات ڈپٹی چیف افسران اور زونل افسران کے ساتھ ساتھ میٹروپولیٹن آفیسر انفراسٹرکچر ،میٹروپولیٹن آفیسر فنانس،میٹروپولیٹن آفیسر پلاننگ سمیت دیگر افسران بے اختیار ہو چکے ہیں۔چیف آفیسر، ڈپٹی چیف آفیسر ہیڈکوارٹر ،ڈائریکٹر ایڈمن اینڈ انکوائریز، میٹروپولیٹن آفیسر ریگولیشنز، چیف پبلک ریلیشنز آفیسر سمیت اہم آسامیوں ڈپٹی کمشنر کی ٹیم کام کر رہی ہے۔تجاوزات کے حوالے سے لاہور میں وزیر اعلٰی پنجاب مریم نواز شریف کے حکم پر اہم آپریشن چل رہا ہے جس کے حوالے سے ایم او ریگولیشنز کی جانب سے پہلے زونل آفیسر ریگولیشنز کو بے اختیار کیا گیا بعد ازاں انھیں اور عملے کو تحصیلوں کی سطح پر اسسٹنٹ کمشنرز کے ماتحت کر دیا گیا۔اسسٹنٹ کمشنرز کو بھی تجاوزات کے حوالے سے جرمانوں، سربمہر کی گئی دکانوں وغیرہ کو ڈی سیل کرنے سمیت دیگر اختیارات نہ دیئے گئے۔جس کی وجہ سے ضلع لاہور کے تجاوزات کے جرمانوں سمیت املاک کو ڈی سیل کروانے کے لئے شہریوں کو ٹاؤن ہال ایم او ریگولیشنز کے پاس کئی کئی دن چکر لگانے پڑتے ہیں جو کبھی ملتے ہیں کبھی غائب اور اکثر اوقات سائن ہی نہیں کرتے جس سے شہری خوار ،بے روزگار اور روزی روٹی سے بھی محروم ہو رہے ہیں۔تحریری طور پر دوبارہ تجاوزات نہ کرنے کا حلف دینے کے باوجود معافی کے لئے ایم او ریگولیشنز کے دفتر کے باہر سینکڑوں شہری شنوائی نہ ہونے کی وجہ سے مایوس لوٹ آتے ہیں۔اسسٹنٹ کمشنرز کو بھی اختیارات نہ ملنے کی وجہ سے مقامی سطح پر شہریوں کے مسائل حل اور داد رسی نہیں ہو رہی۔لاہور کے ارکان قومی اسمبلی اور سابق بلدیاتی نمائندے بھی شہریوں کا سامنا کرنے سے گریزاں ہیں۔لاہور ڈویلپمنٹ پروگرام کے حوالے سے ایم او انفراسٹرکچر اور زونل آفیسر انفراسٹرکچر بے اختیار ہیں۔جو عملی طور پر ضلعی انتظامیہ کے کنٹرول میں ہے۔ایم او فنانس اور ایم او پلاننگ عملی طور پر کھڈے لائن ہیں۔

جواب دیں

Back to top button