وزیراعلیٰ مراد علی شاہ سے اسلامی ترقیاتی بینک کے وفد کی ملاقات

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اسلامی ترقیاتی بینک کے اعلیٰ سطح کے وفد سے ملاقات کی جس کی قیادت ریجنل ڈائریکٹر ڈاکٹر ولید عبدالوھاب نے کی۔ ملاقات میں ورلڈ بینک کے اشتراک سے چلنے والے دو اہم منصوبوں سندھ فلڈ ایمرجنسی ہاؤسنگ ریکنسٹرکشن پروجیکٹ اور سندھ انٹیگریٹڈ ہیلتھ اینڈ ویمن ایمپاورمنٹ پروجیکٹ پر گفتگو ہوئی۔ یہ ملاقات وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہوئی جس میں چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، پی ایس سی ایم آغا واصف، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ، سیکریٹری صحت ریحان بلوچ، اور سی ای او ایس پی ایچ ایف خالد شیخ نے شرکت کی۔اسلامی ترقیاتی بینک کے وفد میں کنٹری منیجر اشتیاق اکبر اور پاکستان میں بینک کے نمائندے محمد علی یزدانی سمیت دیگر افراد شامل تھے۔وزیراعلیٰ نے ڈاکٹر عبدالوھاب کو خوش آمدید کہا اور سیلاب متاثرین کے لیے گھروں کی تعمیر نو میں اسلامی ترقیاتی بینک کے تعاون پر شکریہ ادا کیا۔اسلامی ترقیاتی بینک سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے گھروں کی تعمیر نو کے لیے 200 ملین ڈالر کی مالی معاونت فراہم کر رہا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کی حکومت بین الاقوامی شراکت داروں اور غیر سرکاری تنظیموں کے تعاون سے مختلف اضلاع میں پانی، صفائی اور حفظانِ صحت (واش) کے منصوبے بنا رہی ہے تاکہ خاص طور پر سیلاب زدہ اور پسماندہ علاقوں میں عوامی صحت کو بہتر بنایا جا سکے۔ وزیراعلیٰ کی درخواست پر آئی ایس ڈی بی نے واش منصوبے کے لیے اضافی معاونت فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔مراد علی شاہ نے زور دیا کہ سندھ سیلاب ایمرجنسی رہائشی تعمیر نو منصوبہ (ایس ایف ای ایچ آر پی) اور پانی، صفائی و حفظانِ صحت (واش) منصوبے کو 2022 کے سیلاب کے بعد اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ متاثرہ افراد خود اپنے گھروں کی تعمیر نو کر سکیں جو مختلف آفات سے محفوظ اور پائیدار ہوں۔ منصوبوں کی عملی پیش رفت کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے بتایا کہ 1,55,000 مستحقین کو 75,000 روپے کی پہلی قسط فراہم کی جا چکی ہے تاکہ وہ اپنے گھروں کی تعمیر شروع کر سکیں۔ مزید یہ کہ 72,384 مستحقین کو دوسری قسط کے طور پر 1 لاکھ روپے، 21,645 کو تیسری قسط کے طور پر 1 لاکھ روپے، اور 1,494 مستحقین کو جنہوں نے اپنے گھر مکمل کر لیے ہیں، آخری اور چوتھی قسط کے طور پر 25,000 روپے فراہم کیے جا چکے ہیں۔

سندھ مربوط صحت و خواتین بااختیاری منصوبہ

اس 280 ملین ڈالر مالیت کے منصوبے میں اسلامی ترقیاتی بینک کی جانب سے 50 ملین ڈالر، سندھ حکومت کی جانب سے 30 ملین ڈالر، اور 200 ملین ڈالر غیر ملکی فنڈ امداد (ایف پی اے) شامل ہے۔مراد علی شاہ نے وضاحت کی کہ اس منصوبے کا مقصد صوبے کے مخصوص علاقوں میں غریب اور کمزور طبقات، خاص طور پر نوجوانوں اور خواتین، کے لیے تولیدی، زچگی، نوزائیدہ، بچوں، نوعمر افراد اور غذائیت (آر ایم این سی اے ایچ + این) سے متعلق خدمات کی فراہمی اور معیار کو بہتر بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام پسماندہ علاقوں میں خصوصاً خواتین کےلیے سماجی و معاشی عوامل اور قدرتی آفات و وبائی امراض کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مربوط حکمت عملی اپناتے ہوئے صحت اور معاشی طور پر مضبوط اور پائیدار کمیونٹیز قائم کرے گا۔ 6 ہزار مستحق خواتین کو ہنر سکھانے کے لیے ایک تھرڈ پارٹی فرم کی خدمات حاصل کرنے کا عمل اسلامی ترقیاتی بینک سے مشاورت کے ساتھ شروع کر دیا گیا ہے۔اس پروگرام کے تحت 124 سرکاری ڈسپینسریوں کی بحالی اور بہتری کی جائے گی جن کے تشخیصی اور ابتدائی ڈیزائن رپورٹس مکمل کر لی گئی ہیں۔ ایک ریجنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کی بحالی اور بہتری کے لیے بھی سروے کیا گیا ہے اور بحالی کے تخمینے آئی ایس ڈی بی کے ساتھ شیئر کیے جا چکے ہیں۔عوامی صحت کے چھ اسکولوں کی بحالی اور بہتری کے حوالے سے بتایا گیا کہ سروے اور ابتدائی ضروریات کی تشخیصی رپورٹس مکمل کر لی گئی ہیں اور تخمینوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اسی طرح کمیونٹی مڈوائفری (سی ایم ڈبلیو) کے نو اسکولوں کی بحالی اور بہتری کے لیے بھی سروے اور ابتدائی تشخیصی رپورٹس تیار کر لی گئی ہیں۔

جواب دیں

Back to top button