سٹیز ڈویلپمنٹ پروگرام: وزیر بلدیات کی سربراہی میں سٹیئرنگ کمیٹی قائم،169 شہروں کی اپ گریڈیشن ہوگی، ذیشان رفیق

وزیر اعلٰی مریم نواز شریف نے سٹیز ڈویلپمنٹ پروگرام کی نگرانی کے لئے وزیر بلدیات ذیشان رفیق کی سربراہی میں سٹیئرنگ کمیٹی قائم کر دی ہے۔ وزیراعلی کے معاون خصوصی ذیشان ملک، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد میاں اور دیگر بطور ممبر شامل کئے گئے ہیں۔ وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے پنجاب میونسپل ڈویلپمنٹ فنڈ کمپنی (پی ایم ڈی ایف سی) کا دورہ کر کے پروگرام میں پیشرفت کا جائزہ لیا۔ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد میاں اور ایڈیشنل سیکرٹری احمر سہیل کیفی بھی موجود تھے۔ پی ایم ڈی ایف سی کے ایم ڈی سید زاہد عزیز نے چیف منسٹر سٹیز ڈویلپمنٹ پروگرام پر بریفنگ دی۔

وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے کہا کہ پنجاب کے 35 اضلاع کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں ترقیاتی کاموں کے لئے سروے مکمل کیا جا چکا ہے۔ یہ وزیراعلٰی مریم نواز شریف کی حکومت کا ایک اور میگا پراجیکٹ ہے جس کے تحت شہری علاقوں میں سیوریج، ڈرینج، بارانی پانی کے ذخیرے، پارکس اور گلیوں کی تعمیر و مرمت کے منصوبے مکمل کئے جائیں گے جبکہ ڈرینج کے نظام کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جائے گا۔ وزیراعلٰی مریم نواز صوبے کی یکساں ترقی کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ پہلے مرحلے میں 59، دوسرے میں 110 شہروں کی اپ گریڈیشن ہوگی۔ وزیر بلدیات نے کہا کہ ورلڈ بینک کے تعاون سے تیار کیا جانے والا منصوبہ شہروں کے برسوں سے جاری بنیادی خدمات کے مسائل کا خاتمہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلی نے اگلے سال تک 50 شہروں میں منصوبہ مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔ صوبائی وزیر نے پی ایم ڈی ایف سی کو ہر شہر کا پی سی ون جلد مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی سطح پر قائم سٹیئرنگ کمیٹی مقامی منتخب نمائندوں سے بھی مشاورت کر کے ضروری فیصلے کرے گی۔ ہر ضلع میں بھی سٹیئرنگ کمیٹی ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں کام کرے گی۔ ذیشان رفیق نے کہا کہ پہلی بار ہر شہر میں ڈرینج کا بائی سسٹم متعارف کرا رہے ہیں۔ خصوصی سیوریج لائنز بچھانے سے زیر زمین پانی کو ممکنہ آلودگی سے تحفظ ملے گا۔

اس موقع پر سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد میاں نے لاہور ڈویلپمنٹ پروگرام کا ماڈل مدنظر رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ سٹیز ڈویلپمنٹ پروگرام کے منصوبے کیلئے زیادہ تر دستیاب انسانی وسائل کو ہی بروئے کار لائیں گے اور صرف ناگزیر اسامیوں پر نئی بھرتی ہوگی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پورے پراجیکٹ کو دو سال کے اندر پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا جس سے شہروں کی اگلے 25 سال تک کی میونسپل ضروریات پوری ہو جائیں گی۔

جواب دیں

Back to top button