نئی حب کینال کی تعمیر وقت کی ضرورت بن گئی ہے،ریکارڈ مدت میں تعمیر سے وقت، فنڈز اور پانی بچایا جاسکتا ہے، پروجیکٹ ڈائریکٹر

کراچی (رپورٹ۔اسلم شاہ) حب کینال اپنی تعمیر کی مدت پوری کر چکا ہے، کینال کی دیواریں اور پلیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی ہیں۔ جگہ جگہ دراڑیں پڑ جانے سے پانی مسلسل ضائع ہو رہا ہے اور کینال سے رساؤ، پانی کی چوری، ٹینکروں میں بھرائی کرنے سے یومیہ تین کروڑ 80 لاکھ گیلن پانی راستے میں ضائع ہو رہا ہے۔ حب ڈیم سے 10 کروڑ گیلن یومیہ پانی منگھو پیر پمپنگ اسٹیشن تک پہنچنے میں ضائع ہو کر صرف چھ کروڑ 20 لاکھ گیلن یومیہ پہنچ رہا ہے۔ کراچی میں 20 سال بعد صرف 3 کروڑ 80 لاکھ گیلن پانی کا اضافہ ہوگا، جو ایک بڑی آبادی کو فراہم کیا جاسکتا ہے۔ اورنگی ٹاؤن،بلدیہ ٹاون،سرجانی کے علاوہ دیگر آبادی کو ناغے کا نظام میں کمی یا یکسر ختم ہو جائے گا۔ موجودہ نہریں اور کینالوں کے پانی کی چوری کو روک تھام اور رساؤ کا کوئی نظام واضح ہے نہ پانی کو ناپنے کا پیمانہ موجود ہے۔ اوپن کینال میں نہ حفاظتی انتظامات ہیں، نہ کوئی میٹر لگا ہے۔ ایک اندازہ کے مطابق تین سے چار کروڑ گیلن پانی کی یومیہ کمی ہو رہی ہے یا ضائع ہو رہا ہے یا چوری ہو رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق حب ڈیم سے 6 کروڑ گیلن پانی پہنچتا ہے، اگر جلد کینال کی مرمت و دیکھ بھال نہ کی گئی تو پانی کی فراہمی معطل ہوسکتی ہے۔ حب ڈیم سے کراچی کو 10 کروڑ گیلن یومیہ پانی فراہم کیا جانا تھا جو نئی حب کینال کی تعمیر سے ہی پانی کا کوٹہ اور پانی میں اضافہ ممکن ہے۔ دو کینالوں میں پانی کی سپلائی 20 کروڑ گیلن یومیہ ہوسکتی ہے۔ ضلع غربی اور کیماڑی کے متاثرہ علاقوں میں پانی فراہم کیا جاسکتا ہے۔ نمائندہ نے جب حب ڈٰیم کے زیرو پوائنٹ سے کراچی اور بلوچستان کے حب،بیلہ،لسبیلہ میں جہاں پانی کی فراہم کیا جاتا ہے وہاں دیکھا تو پتہ چلا کہ دونوں کینال اپنی سمت میں روان دواں تھے جبکہ کراچی کو فراہم کرنے والی کینال میں اسکیل موجود ہے جہاں سے چھ فٹ پانی کینال میں چھوڑا جارہا تھا، جو سست روی کا شکار تھا جس کا پانی کی رفتار سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ زیرو پوائنٹ پر کئی تاریخی درخت موجود ہیں جو کئی دہائیوں سے سایہ فراہم کررہے ہیں۔ یہ ایک پر فضاء مقام ہے جہاں اچھا پکنک پوائنٹ بن سکتا ہے۔ اس بارے میں پروجیکٹ ڈائریکٹر سکندر زرداری،ان کے ڈپٹی مصطفی مھگن سمیت دیگر افسران نے بات چیت کے دوران بتایا کہ حب ڈیم کا معاہدہ وفاقی حکومت کی ایما پر واپڈا سے 1984ء میں ہوا تھا۔پہلے منگھو پیر پمپنگ اسٹیشن تک واپڈا دیکھ بھال کرتا تھا، نئی بلدیاتی نظام کے دوران 2002ءمیں واپڈا نے زیرو پوائنٹ سے 22.4 کلومیٹر تک کینال کی ذمہ داری کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے سپرد کردی تھی۔ تاحال ادارہ اپنی ذمہ داری ادا کررہا ہے۔ سکندر زرداری کا کہنا ہے کہ معاہدہ کے مطابق کراچی کو 67 فیصد اور بلوچستان کو33 فیصد پانی فراہم کیا جاتا ہے یعنی کراچی کو 10 کروڑ گیلن یومیہ فراہم کیا جاتا ہے۔ پانی اوپن کینال کے ذریعے کراچی کو فراہم کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے یہاں حفاظتی انتظامات نہیں ہوسکتے ہیں۔ پانی چوری، ٹینکروں میں بھرائی پر پابندی کے باوجود یہ عمل جاری ہے، اس کی روک تھام پولیس، رینجرز کے بغیر ممکن نہیں۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر نے بتایا کہ یہ منصوبہ سندھ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت کئی سالوں تک سندھ حکومت دیکھ رہی تھی، تاہم میئر کراچی و چیئرمین KWSC مرتضی وہاب نے سندھ حکومت سے منصوبے پر براہ راست فنڈز جاری کرایا ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا منصوبہ ہے جو گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ ادارے کو تعمیرات کا ٹھیکہ دیدیا گیا ہے۔ گورنمنٹ ادارہ۔ واہ (Wahh)کنسٹریکشن کمپنی کو دیا گیا ہے۔ حب ڈیم پر نئی کینال کی تعمیر اور پرانے کینال کی مرمت و دیکھ بھال پر تقریبا 12.74 ارب روپے خرچ ہوں گے۔ دسمبر 2024ء میں شروع ہونے والا منصوبہ صرف چھ ماہ کے دوران نئے کینال کی تعمیر پر 80 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے۔ جولائی کے درمیان میں یہ کام بھی مکمل ہو جائے گا اور 14 اگست 2025ء کو افتتاح کر دیا جائے گا۔ ورک تقریبا 80فیصد اور اخراجات بھی 50 فیصد ہوچکا ہے۔ منصوبے کے کنسلٹنٹ جی تھری G-3 نامی کمپنی ہے۔ اسی طرح پرانے کینال کی دیکھ بھال اور مرمت کا کام بھی اس سال دسمبر 2025ء تک مکمل کر لیا جائے گا۔ پانی میں اضافہ کے بارے میں پروجیکٹ ڈائریکٹر نے بتایا ہے کہ وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ خود اس مسئلے پر وفاقی حکومت اور واپڈا حکام سے بات چیت کریں گے اور دس کروڑ یا 5 کروڑ گیلن پانی کا اضافہ کرائیں گے۔اسی طرح انڈس میں پانی کی فراہمی کے منصوبے میں پہلی 1959ء میں 10 ملین گیلن دھابے جی، دوسرے فیز میں 1971ء میں 77 ملین گیلن دھابے جی، تیسرے فیز 1978ء میں 80 ملین گیلن دھابے جی، چوتھے فیز میں 1997ء میں 82 ملین گیلن دھابے جی، K-2 منصوبہ 96 ملین گیلن 1998ء دھابے جی، K-3 منصوبہ 10 ملین گیلن 2006ء، گھارو سے 29 ملین گیلن 2003ء اور حب ڈیم سے 100ملین گیلن 1984ء فراہم کیا جارہا ہے جبکہ 26 ملین گیلن پاکستان اسٹیل، 7.5ملین گیلن پورٹ قاسم اتھارٹی اور مجموعی طور پر انڈس سے 49 کروڑ 80 لاکھ گیلن اور حب ڈیم سے 10 کروڑ گیلن یومیہ پانی فراہم کیا جارہا ہے۔ مجموعی طور پر انڈس سے 130 ملین اور حب ڈیم سے 30 ملین گیلن پانی کوٹہ سے کم دیا جا رہا ہے جبکہ پانی کی چوری اور رساؤ کے باعث دن بدن کمی واقع ہورہی ہے۔ سروے رپورٹ کے مطابق کراچی میں حب ڈیم سے فراہمی آب بند ہونے کا خطرہ ہے، اس ضمن میں 22.4 کلو میٹر حب کینال سے پانی کی فراہمی خستہ حال،جگہ جگہ سے رساؤ کے وجہ سے کینال کی مختلف مقامات پر دیواریں برباد ہو گئی ہیں،جس کے نتیجے میں ڈھائی سے تین کروڑ گیلن پانی کی یومیہ کمی یا ضائع یا چوری ہو رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حب ڈیم سے 6 کروڑ گیلن پانی پہنچتا ہے، اگر جلد کینال کی مرمت و دیکھ بھال نہ کی گئی تو پانی کی فراہمی معطل ہوسکتی ہے۔کراچی میں پانی کے کوٹے میں 13 کروڑ کی کمی، 18 کروڑ گیلن پانی چوری،رساؤ کی تصدیق نسپاک کنسلٹنٹ کمپنی نے ورلڈ بینک میں رپورٹ پیش کردی ہے جس کے مطابق کینال، نہر سے پانی کی کھلے عام چوری، کنڈیوٹ لائن، سائفن، پائپوں سے چوری اور رساؤ کا سلسلہ جاری ہے جسے روکنے میں کوئی بھی ادراہ سنجیدہ نہیں کیونکہ اس سے ان کا مال پانی بند ہو جانے کا خدشہ ہے۔منصوبہ کے کنسنلنٹ کا کہنا ہے حب کینا ل کا ڈائزین 50سال ہے اگر دیکھ بھال کی گئی تو مذید کئی سال چلے گا اور منصوبہ کے کنٹریکٹر پروجیکٹ مینجر انجینئر نعیم بشیر نے بتایا کہ منصو بہ کی جلد اور تیزی سے تکمیل کے لئے سب کنٹریکٹ دیاگیا ہے جس کے نتیجے میں ہرحصہ پر یکساں وقت پر کام شروع کیا تھا اور اس منصوبے کو مقرروقت سے پہلے کام مکمل کرلیا حائے گا

جواب دیں

Back to top button