پنجاب فوڈ اتھارٹی کا عالمی یوم تحفظِ خوراک کے موقع سیمینار کا انعقاد،وزیر خوراک بلال یاسین،سیکرٹری داخلہ نور الامین مینگل،ڈی جی سروسزفرحان عزیز خواجہ، مجیب الرحمن شامی اور دیگر کا اظہار خیال

عالمی یوم تحفظِ خوراک پر ایک عزم کیا گیا کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی خوراک کی حفاظت میں غیر متوقع حالات کے لیے ہر دم تیار ہے۔۔ اس سال فوڈ سیفٹی ڈے کے عنوان کا مطلب ایسی صورت حال کا مقابلہ کرنا جو فوڈ سیفٹی کو متاثر کر سکتا ہے۔ ڈی جی فوڈ اتھارٹی عاصم جاوید کے مطابق خوراک کی تیاری اور ترسیل میں ممکنہ خطرات کی بروقت نشاندہی کی جارہی ہے۔پنجاب فوڈ اتھارٹی کے فیلڈ افسران کی ٹریننگ میں ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنا شامل ہے۔محفوظ خوراک کی یقینی فراہمی اور غذائی قلت میں کمی ممکن بنانے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔ عالمی یوم تحفظِ خوراک سیمینار میں وزیر خوراک پنجاب بلال یاسین نے کہا فوڈ اتھارٹی نے کم وقت میں اپنا آپ منوایا اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ڈی جی فوڈ اتھارٹی عاصم جاوید انتہائی قابل ہیں، بطور ڈائریکٹر جنرل خدمت خلق کر رہے ہیں۔ فوڈ سیفٹی آفیسرز نے اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر خوراک کی حفاظت کی اور ملاوٹ مافیا کو نکیل ڈالی۔ بلال یاسین کا کہنا تھا نوجوان نسل اچھی خوراک پر توجہ دیں اور خود فوڈ اتھارٹی بن کر خوراک کی جانچ پڑتال یقینی بنائیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے سخت احکامات پر ملاوٹ کے خلاف فیلڈ آپریشن 60فیصد بڑھا دیا گیا۔خوراک میں ملاوٹ سے باز نہ آنے والے مافیا کو انجام تک پہنچانا حکومت کا اولین مشن ہے۔ مزید برآں سیکرٹری ہوم پنجاب نورالامین مینگل کا کہنا تھا 2012 میں بننے والے پنجاب فوڈ اتھارٹی کو 2016 میں انتہائی کم وقت 8ماہ میں 36اضلاع میں مکمل فعال کیا گیا۔عالمی فوڈ سیفٹی قوانین کو پنجاب میں لاگو کیا گیا، خوراک میں ملاوٹ کے لیے یہ ضروری تھا۔ 2016میں خوراک کے متعلق 19 نئے قوانین بنائے گئے اور سکول کالجز میں 27فیصد فروخت ہونے والی ڈرنکس پر پابندی عائد کی۔ نور الامین مینگل نے مزید کہا غذائی تبدیلی کا آغاز اپنے گھر سے کریں اور اپنے بچوں کو اچھی غذا دیں تاکہ وہ کل آپکو اچھا مستقبل دے سکیں۔فوڈ سیفٹی ٹریننگ پر فوکس کریں کیونکہ ٹریننگ کا آغاز کرنے سے خوراک کے معیار میں خاطرخواہ بہتری آئی ہے۔ عمر کیساتھ ساتھ غذائی پلان تبدیل ہوتا ہے اور فوڈ اتھارٹی نیوٹریشن ونگ اس حوالے سے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ سیکرٹری ہوم پنجاب نے بتایا کہ ملاوٹ کرنے والوں کیخلاف قانون میں سختی کر رہے ہیں جس سے ملزمان کو ضمانت کی بجائے سزائیں دی جائیں گی۔ 2016 میں بنائے گئے قوانین پر تمام صوبائی فوڈ اتھارٹیز نے علمدارآمد کیا اور آج تمام صوبوں میں فوڈ اتھارٹی قائم ہے۔ اس موقع پر سینئر صحافی مجیب الرحمٰن شامی نے کہا آج ہمیں اور ہمارے بچوں کو کھانے کی ٹریننگ دینے کی ضرورت ہے۔ کب کھانا ہے کیا کھانا ہے،اس آگاہی سے ہمارے بچے بہت دور ہیں۔والدین کو معلوم نہیں کہ غذائیت سے بھرپور خوراک کون سی ہے۔ مجیب الرحمٰن شامی نے کہا ہم پنجاب فوڈ اتھارٹی کے تاحیات احسان مند ہیں کیونکہ ہمیں انکے فیلڈ آپریشنز کی وجہ سے اچھی خوراک ملتی ہے۔فوڈ سیفٹی آفیسرز نہ تھکتے ہیں اور نہ ڈرتے ہیں اور جہاں ملاوٹ کا انصر موجود ہو وہاں پہنچ جاتے ہیں۔اچھی صحت کے لیے خوراک کے اوقات پر توجہ دینی ہوگی، غذائی آگاہی مزید بڑھانی ہوگی علاوہ ازیں ڈی جی سول سروس فرحان عزیز خواجہ نے پینل ڈسکشن میں کہا ہمارے بچے یورپین ممالک کے بچوں سے صحت میں کم ہیں۔پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے خوراک کے تحفظ کے لیے منعقد کردہ پروگرام قابل ستائش ہے۔ عاصم جاوید کی سربراہی میں پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ٹیمیں دیانتداری، اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کررہی ہیں۔وزیر خوراک اور ڈی جی فوڈ اتھارٹی خواتین کی اچھی صحت اور آگاہی کے لیے اقدامات میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ ڈی جی سروسز نے بتایا سرکاری اور غیر سرکاری سکولز میں موجود میس اور کینٹینز کی چیکنگ روزانہ کی بنیاد پر ہونی چاہیے تاکہ نوجوان نسل موزی امراض سے بچ سکیں اسی موقع پر نیوٹریشن ہیڈ ڈاکٹر غزالہ نے کہا نیوٹریشن پر توجہ دینا ضروری ہے اور شہری چھوٹے ٹوٹکوں سے پرہیز کریں۔صحت اور صفائی دونوں اہم ہیں، کسی ایک کو چھوڑا نہیں جاسکتا۔گھروں میں نیوٹریشن پر فوکس کریں اور تبدیلی کا آغاز اپنے گھر سے کریں اور گھر کے بنے کھانے کو ترجیح دیں۔ ڈاکٹر غزالہ نے کہا بچوں سے پیار یہ ہے کہ انہیں گھر میں تیار صحت بخش غذا دیں نہ کہ باہر سے کھانا کھایا جائے۔بنیادی طور پر سینئر نوٹریشن آفیسرز اور سائیکالوجسٹ پر مشتمل ٹیم کی ضرورت ہے جس کی سربراہی میں غذائی آگاہی مہم چلائی جاسکے اور حرکت میں برکت ہے، یہ اتھارٹی بہت اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے، آپ سب کو خود خوراک پر فوکس کرنس ہو گا۔ علاوہ ازیں سینئر فوڈ ٹیکنالوجسٹ ڈاکٹر ناصر نے کہا رائٹ پرسن فار رائٹ جاب پر عملدرآمد کیا گیا ہے اور ہمارے فوڈ سیفٹی آفیسرز قابل ہیں اور خوراک کے ماہر ہیں۔ معاشرے میں ہیضہ عام ہورہا ہے جس سے ہمارے بچے متاثر ہو رہے ہیں اور اب ہمیں بچوں کے متعلق تیز اور بہترین لائحہ عمل متعارف کروانا ہوگا۔ ڈاکٹر ناصر نے بتایا ہر روز 2000 نئی غذائی ریسپیز تیار کی جاتی ہیں ہمیں انکی چیکنگ کے لیے متحرک رہنا ہوگا۔سیف فوڈ کے متعلق مستقل اور سخت پالیسیاں بنانی ہوں گی اور سکولز میں ہیلتھ اور فوڈ سیفٹی کے لیے لیکچرز کا انعقاد کرنا ہوگا۔ غذا کی حفاظت کر کے ہم دوائیوں سے بچ سکتے ہیں اور فوڈ سیفٹی تھیم پر عمل کرنے کے لیے ہم فوڈ اتھارٹی کے ساتھ ہیں۔ اس موقع پر سینئر صحافی اور فوڈ سپیشلسٹ محسن بھٹی نے کہا پنجاب فوڈ اتھارٹی کا تمام صوبائی فوڈ اتھارٹیز میں اپنا ایک قد ہے اور ڈی جی عاصم جاوید کی کاوشیں قابل تعریف ہیں۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی ہماری توقعات پر پورا اتر رہی ہے اور ہمیں دائرہ کار مزید وسیع کرنا ہوگا۔ فارم سے صارف تک ہمیں صحت بخش غذا فراہم کرنے والا ادارہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ سینئر صحافی محسن بھٹی نے مزید کہا ملاوٹ کے خاتمے کے لیے نئے قوانین کر عمل ضروری ہے، کم وسائل پر مظبوط ہونے والے ادارے کو سپورٹ کرنا ہمارا فریضہ ہے۔ پنجاب کے

12کروڑ عوام اگر آج بیماریوں سے بچ رہیں اسکا کریڈٹ فوڈ اتھارٹی کو جاتا ہے۔ ہوٹلز میں بچ جانے والے کھانے کو مستحقین تک پہنچا کے خوراک کی بیحرمتی سے بچا جا سکتا ہے۔ہوٹلز میں ایک فلیکس آویزاں کرنی چاہیے جس پر خوراک کی اہمیت لکھی ہو تاکہ احباب ضائع نہ کریں۔ پینل ڈسکشن میں ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی محمد عاصم جاوید نے بتایا محفوظ خوراک کی فراہمی اور غذائی قلت کے خاتمے کے لیے پنجاب فوڈ اتھارٹی کارروائیوں کیساتھ ساتھ آگاہی سیمینارز بھی منعقد کر رہی ہے.بچوں، بڑوں اور اساتذہ کو غذائی آگاہی سے ہم محفوظ خوراک کی فراہمی کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ریسٹورنٹس اور ہوٹلز پر بچ جانے والا کھانا مستحق اور غریب افراد تک پہنچانے کے لیے جلد نیا قانون اور مکمل لائحہ عمل متعارف کروائیں گے جو کہ غذائی قلت میں کمی کا سبب بنے گا۔ اب تک بچوں کی اچھی صحت اور بہتر نشوونما کے لیے منفرد پروگرام ایٹ سیف کڈز کیمپین کا آغاز کیا گیا۔ اور عام آدمی کی خوراک کو بہتر بنانے کے لیے پروگرام متعارف کروایا گیا۔خواتین کی صحت کے تحفظ کے لیے ایٹ سیف وومین کیمپین بھی متعارف کروائی گئی۔ ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے مزید بتایا حج کے موسم میں فریضہ حج کی ادائیگی اچھی صحت کیساتھ پروگرام بھی جاری ہے۔ رمضان اچھی صحت کے ساتھ یہ پروگرام رمضان میں شروع کیا گیا۔ ماہ مبارک میں اچھی صحت کوبرقراررکھنی کے لیے رمضان نیوٹریشن گائیڈ پروگرام بھی جاری رکھا گیا۔ ملاوٹ اور جعلسازی کے خاتمے کے لیے دودھ اور گوشت کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ملک ٹریسیبیلٹی نظام لانچ کیا گیا۔ بچوں کی اچھی صحت کے لیے پچپن سے ہی ٹریننگ اور آگاہی کے لیے کارٹون سیریز پر بھی کام جاری ہے۔ ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے مزید بتایا وزیر خوراک پنجاب کے حکم پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ریلز، ویڈیوز کے ذریعے مکمل آگاہی دی جارہی ہے۔ جبکہ ملاوٹ کا خاتمہ منبر و محراب سے پروگرام بھی شروع کیا گیا جس میں جمعتہ المبارک کے خطبات میں ملاوٹ پر اسلام میں جزا اور سزا کے متعلق آگاہ کیا جارہا ہے۔ ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے کہا اس سب کیساتھ ساتھ پنجاب فوڈ اتھارٹی فوڈ سیفٹی ریگولیشنز، خوراک کی پیداوار، پروسیسنگ اور ترسیل کے تمام مراحل کی کڑی نگرانی کر رہی ہے۔فوڈ سیفٹی ریگولیشنز پر عملدرآمد کے لیے تابڑتوڑ کارروائیاں بھی جاری ہیں۔پنجاب فوڈ اتھارٹی ہر فرد کو فوڈ اتھارٹی بننے کی تلقین کر رہی ہے اور آگاہی سیمینارز میں اس بات پر توجہ دلائی جا رہی ہے کہ اشیاء کی خرید سے قبل لیبل پڑھیں اور پی ایف اے سے منظور شدہ اشیاء خریدیں اور جانچ پڑتال یقینی بنائیں۔ وزیر خوراک بلال یاسین کی ہدایت پر لاہور سمیت پنجاب بھر میں ملاوٹ اور جعلسازی کے خاتمے اور پیور فوڈ ریگولیشنز پر عمل درآمد کے لیے کڑی نگرانی جاری ہے۔ ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے بتایا ہمارا مشن ہے کہ فارم سے صارف تک اور کھیت سے پلیٹ تک جو خوراک فراہم کی جارہی ہے وہ صحت بخش ہو۔ غذائی آگاہی سے بہت سی تبدیلیاں رونماء ہوئی ہیں، اب لوگ اشیاء کو خرید سے قبل اسکی جانچ پڑتال یقینی بناتے ہیں۔فوڈ سیفٹی ٹیمیں موٹروے سروس ایریاز، ناشتہ ہوٹلز، چھوٹے بڑے فوڈ پوائنٹس کو مسلسل چیک کر رہی ہیں اور ترسیل کی جانے والی خوراک کی ٹریسیبیلٹی پر فوکس کر رہے ہیں اور جامع پلان تیار کیا جارہا ہے۔ ڈی جی فوڈ اتھارٹی کا کہنا تھا پنجاب کے ہر گھر میں صحت بخش غذا کی فراہمی تک پنجاب فوڈ اتھارٹی سرگرم رہے گی، ملاوٹ کو معاشرے سے ختم کر کے دم لیں گے۔ کوالٹی فوڈ سے ہیلتھ بجٹ میں خاصی کمی کی جاسکتی ہے۔ خواتین اور بچوں کی صحت پر مکمل فوکس ہے، بچے صحت مند مستقبل کے معمار ہیں۔ ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے فوڈ بزنس آپریٹرز سے مخاطب ہو کر کہا کہ عوام الناس کو خالص خوراک فراہم کریں اور حلال کمائی کر کے حرام سے بچیں اور لالچ مت کریں۔

جواب دیں

Back to top button