پنجاب کی 10 ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کی کارکردگی کا سہ ماہی جائزہ مکمل کر لیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں لاہور اور سیالکوٹ جبکہ دوسرے مرحلے میں راولپنڈی، سرگودھا، گوجرانوالہ اور ڈی جی خان کمپنی کا جائزہ مکمل کیا جا چکا ہے۔ تیسرے اور آخری مرحلے میں ملتان، ساہیوال، بہاولپور اور فیصل آباد کے سی ای اوز اور کنٹریکٹرز کا اجلاس وزیر بلدیات ذیشان رفیق کی زیر صدارت سول سیکرٹریٹ میں ہوا۔ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد میاں اور سپیشل سیکرٹری آسیہ گل نے بھی شرکت کی۔ اجلاس کے دوران چاروں ڈویژنوں میں صفائی کی صورتحال اور درپیش چیلنجز پر غور کیا گیا۔
صوبائی وزیر نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ حالیہ عیدالاضحٰی پر زیادہ تر ستھرا پنجاب پروگرام کے دستیاب وسائل کو ہی بروئے کار لایا گیا البتہ شہریوں کی سہولت کے لئے کچھ علاقوں میں احتیاطی طور پر اضافی وسائل کا بھی بندوبست کیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ عیدالاضحٰی کا جذبہ برقرار رکھ کر آگے بڑھیں۔ وزیراعلی مریم نواز شریف کی جانب سے اچھی کارکردگی پر ورکرز کو انعام دیا گیا تاہم اگر کسی جگہ سستی یا کوتاہی نظر آئی تو ایکشن بھی لیں گے۔ صوبائی وزیر نے بعض تحصیلوں میں غیر حاضر ورکرز کی جگہ بھرتی کی اجازت دیتے ہوئے ہدایت کی کہ غیرحاضر افراد کسی میونسپل کمیٹی کے سابق ملازم ہیں تو کارروائی کی جائے۔ ذیشان رفیق نے زور دیا کہ کنٹریکٹرز کو جو اہداف دیے گئے ہیں ان کا سوفیصد حصول یقینی بنانا ہوگا۔ ستھرا پنجاب پروگرام کو حکومت کی نیک نامی میں اضافے کا ذریعہ بنانے کیلئے محنت ضرروی ہے۔ سی ای اوز اور تحصیل مینجرز دیہات کے لازمی دورے کریں۔ مقررہ شیڈول کے مطابق ڈور ٹو ڈور ویسٹ کولیکشن کریں اور اس عمل میں غیر ضروری تعطل سے گریز کیا جائے۔ وزیر بلدیات نے یہ بھی کہا کہ کسی بھی جگہ کوڑے کا ڈھیر نہیں لگنا چاہیئے۔ کنٹریکٹرز اپنی مانیٹرنگ کا میکانزم مزید بہتر بنائیں۔ 
اجلاس کے دوران سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد میاں نے سی ای اوز کو عوامی شکایات پر موثر ایکشن لینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ستھرا پنجاب مکمل طور پر ایک ڈیجیٹائز پروگرام ہے۔ کسی کی پرفارمنس چھپی نہیں رہ سکتی۔تمام کنٹریکٹرز اپنا ڈیٹا باقاعدگی کے ساتھ اپ ڈیٹ کریں تاکہ کارکردگی کا تعین کرنے میں آسانی ہو۔





