لاہور کو پاکستان کا پہلا “ڈسٹ فری سٹی” بنانے کے جامع پلان کی تیاری،ترقیاتی کاموں کے لیے تمام محکے ایک جیسے معیار اپنائیں گے۔کمرشل املاک کے باہری حصے کے ڈائزین کے لیے بھی قانون سازی ہو گی۔لاہور ڈسٹ فری سٹی بنانے کے لیے تعمیراتی ایس او پیز مزید سخت کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔تمام ترقیاتی منصوبوں میں ماحولیاتی پہلو کو سب سے زیادہ اہمیت دی جائے گی۔سیکرٹری ہاوسنگ اینڈ اربن ڈویلپمنٹ نور الامین مینگل کی لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی ہیڈکوارٹر آمد، ڈی جی ایل ڈی اے طاہر فاروق نے جاری و مجوزہ منصوبوں بارے بریفنگ دی۔ترقیاتی منصوبوں کا یونیفارم معیار ہونے سے پائیداری اور انتظام بہتر ہو سکے گا۔ نورالامین مینگل نے کہا کہ بے ڈھنگی، رنگ برنگی کمرشل املاک شہر کی خوبصورتی کو ماند کرتی ہیں۔لاہور میں پائیدار ترقی اور خوبصورتی کے لیے جامع پلان کے تحت کام کیا جائے۔منظم ڈویلپمنٹ کے لیے تمام محکموں کو ایک جیسے سٹینڈرڈز اپنانے ہونگے۔

تمام محکمے ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ ماحول دوست اقدامات کو یقینی بنائیں۔ڈی جی ایل ڈی اے نے پراپرٹی ریکارڈ کی سفٹنگ، بلڈنگ پلان کی آن لائن منظوری پر بریفنگ دی۔ڈی جی ایل ڈی اے طاہر فاروق نے بتایا کہ پہلی دفعہ ریونیو جنریشن میں ریکارڈ 25 ارب کا ہندسہ عبور کیا۔ایل ڈی اے کے تمام مینول نوٹسز ختم، ڈیجیٹل نوٹسز جاری کر رہے ہیں۔اربوں روپے مالیت کی 990 کینال پراپرٹی کو واگزار کروایا گیا ہے۔ڈیجیٹل مانیٹرنگ یونٹ سے ایل ڈی اے کنٹرولڈ ایریا کی مانیٹرنگ کی جائے گی۔اجلاس میں نیسپاک کی ٹیم نے ییلو لائن بس سروس منصوبے کے مجوزہ پلان بارے بریفنگ دی۔اجلاس میں سپیشل سیکرٹری ہاؤسنگ، ایڈیشنل سیکرٹری ٹیکنیکل، چیف انجینئر ایل ڈی اے نے شرکت کی۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈی جیز، چیف ٹاؤن پلانرز، چیف میٹرو پولیٹن پلانر اور متعلقہ ڈائریکٹرز نے بھی شرکت کی۔






