ایم سی ایل کے شعبہ ریگولیشن کے اسکواڈ نے کتا مار مہم کے دوران شہریوں کو فائر مار دیئے،کارتوس کے33 شرلے لگنے سے دو شہری زخمی،ہسپتال منتقل ایک کو ڈسچارج دوسرے کی حالت خراب بتائی جا رہی ہے،آوارہ کتے کو فائر کرنے پر ہائی کورٹ کی پابندی ہے۔شدید زخمی ہونے والے شہری شوکت علی کے بیٹے نے جان سے مارنے کی کارروائی پر بلدیہ عظمٰی لاہور شعبہ ریگولیشن کے اسکواڈ کے خلاف تھانہ گلشن راوی میں ایف آئی آر درج کروا دی ہے۔پولیس نے واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کر لی ہے۔ایف آئی آر کے مکمل متن کے مطابق 
بخدمت جناب SHO صاحب تھانہ گلشن راوی لاہور جناب عالی ! گزارش ہیکہ میں مندرجہ ذیل کا رہائشی ہوں اور محنت مزدوری کرتا ہوں میرے والد شوکت علی ولد محمد صدیق قوم ملک بعمر 65 سال بلاک گلشن راوی لاہور میں جہیز کی پیٹیاں بنانے والی دوکان پر کام کرتے ہیں مورخہ 5.8.25 بوقت 4:40 بجے صبح میرے والد صاحب دوکان کے باہر چار پائی پر سوئے ہوئے تھے کہ اسی دوران دو گاڑیاں بظاہر کتوں کو مارنے والی آئیں جنہوں نے کتوں کو مارنے والے کارتوس کا استعمال کیا کارتوس کے بہت سارے سیہ میل چار پائی پر سوئے میرے والد اور دوسری چار پائی پر موجود محمد اسلم کو لگے جو کہ اسی دوران محمد اسلم نے 1122 کو کال اور میو ہسپتال لے آئے جہاں میرے والد صاحب زیر علاج ہے یہ کہ محمد اسلم کو بعد از علاج ڈسچارج کر دیا گیا لہذا نا معلوم ٹیم کتے مار کے خلاف میرے والد کو جان سے مارنے کی کوشش کرنے کا مقدمہ درج کیا جائے تا کہ ہماری دادرسی ہو سکے برائے کاروائی امروز تھانہ حاضر آیا ہوں العارض دستخط بحروف انگریزی معہ مثبت نشان انگوٹھا رضوان علی کاروائی پولیس اسوقت کمرہ تفتیشی میں موجود ہونکہ ایک تحریری درخواست مارک شدہ فرنٹ ڈلیک موصول ہوئی مضمون درخواست حالات واقعات سے سر دست صورت جرم 324 ت پ پائی جاتی ہے درخواست بغرض اندراج مقدمہ حوالے محرر ہوئی مقدمہ درج رجسٹر کر کے تفتیش حوالے شبعہ انوسٹی گیشن ونگ کی جائے دستخط بحروف اردو مشعوق علی SI تھانہ گلشن راوی لاہور از کمرہ تفتیشی مورخہ 06.08.2025 بوقت 04:10 بجیشام – از تهانه حسب آمد تحریری درخواست مقدمہ درج رجسٹر کر کے اصل تحریری درخواست معہ نقل FIR بغرض تفتيش بدست نار 24026 / عقب انچارج انوسٹی گیشن ونگ ارسال ہے۔ مقدمہ کی بابت جناب SHO صاحب کو مطلع کیا گیا ہے۔
ذمہ دار ذرائع کے مطابق میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور کے شعبہ ریگولیشن کی آپریشن میں استعمال ہونے والی گاڑی غائب کر دی گئی ہے۔افسران اور اہلکاروں کو بچانے کے لئے متاثرہ فیملی کو لاکھوں روپے کی پیش کش کی جا رہی ہے۔بتایا گیا ہے کہ آوارہ کتوں کو مارنے کے لئے جو دوائی اور گوشت خریدا جاتا ہے اس کی بھی غیر جانبدارانہ انکوائری کی جائے تو اہم انکشافات سامنے آ سکتے ہیں۔میٹروپولیٹن آفیسر ریگولیشن ایم سی ایل کاشف جلیل کی طرف سے معاملے کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔






