کمشنر آفس سکھر میں سیلابی صورتحال سے نمٹنے کیلئے اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں چیئرمین ضلع کونسل سکھر سید کمیل حیدر شاہ، کمشنر سکھر عابد سلیم قریشی، ڈی آئی جی سکھر کیپٹن ریٹائرڈ فیصل عبداللہ چاچڑ، میئر سکھر ارسلان اسلام شیخ، ڈپٹی کمشنر سکھر نادر شہزاد سمیت سکھر ڈویژن کے متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں کمشنر سکھر نے ممکنہ سیلابی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔

سپر فلڈ کی صورت میں 753 دیہاتوں متاثر ہوسکتے ہیں ۔کچے میں 3 لاکھ 60 ہزار سے زائد افراد اور 5 لاکھ سے زائد مویشی موجود ہیں۔ کمشنر سکھر سکھر نے بتایا کہ 155 اسکولوں سمیت سرکاری عمارتیں خالی کرائی گئی ہیں ۔ 155 میڈیکل کیمپ اور لائیو اسٹاک کیمپ قائم کیے جائیں گے ۔ نیوی کی ایک ٹیم کراچی سے پہنچی ہے جس میں 40 سے زائد تجربہ کار جوان شامل ہیں ۔ ضلع کونسل کی جانب سے ریسکیو ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ 70 سے زائد کشتیاں منگوائی گئی ہیں۔بندوں پر کیمپ قائم کرنے کے بجائے بہتر ہے کہ متاثرین کو پکی عمارتوں میں رکھا جائے گا ۔ کچے میں کچھ مسائل ہیں، برادریوں کے جھگڑے بھی ہیں۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پولیس کے ساتھ رینجرز بھی کو ریلیف کیمپس کی سکیورٹی پر تعینات کیا جائے۔کچے میں قبائلی جھگڑوں والے گروپوں کو ریلیف کیمپس میں الگ الگ بٹھایا جائے گام






