کراچی (رپورٹ۔اسلم شاہ)کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کی نگرانی میں ہائیڈرنٹس کے بعد سب سوئل واٹر کی ایک نئی دکان کھل گئی، صرف لائسنس فارم کی وصولی کے لئے 80 سے 90 لاکھ روپے بھتہ طلب کیا جارہا ہے۔ فارم کے اجراء کے نام پر ایڈوانس میں 20 سے 30 لاکھ روپے وصول کر چکے ہیں۔ اب تک 76 سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہے۔اس حوالے سے جوڑ توڑ کا سلسلہ عروج پر ہے۔ ذرائع کے مطابق درخواست گذار سے دلاور اور عامر پیجر براہ راست رقم طلب کررہے ہیں۔اس سے قبل 34 کمپنیوں کو لائسنس جاری کیا گیا تھا، ان سے فی کس 20 سے 50 لاکھ روپے رشوت وصول کی گئی تھی۔ اس مد میں سعید شیخ اور راشد صدیقی نے لائسنس بغیر کسی شرائط اور این او سی کے بھاری رشوت لیکر جاری کیا تھا، جن میں 19 کمپنیاں پر پانی چوری کے الزام میں مقدمات بھی درج ہوئے تھے۔رینجرز آپریشن کے دوران ان کمپنیوں کے خلاف کاروائی کی گئی تھی، لیکن بعد میں ملی بھگت سے کمزور مقدمات درج ہونے کی وجہ سے تمام کمپنیاں بری ہوچکی ہیں تاہم کارپوریشن نے ان کا لائسنس بحال نہیں کیا۔ زیر زمین پانی نکالنے کے لئے لائسنس کے اجرا کے لئے کمیٹی بنا دی گئی ہے۔ کارپوریشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کا سربراہ 90 فیصد نابینا افسر کو بنایا گیا ہے جس کا ہاتھ پکڑ کر جہاں دستخط کرانے ہوتے ہیں وہاں کروالیا جاتا ہے، وہ جلد ریٹائرڈ ہونے والے ہیں۔ڈائریکٹرHRMامین تغلق کے دستخط سے جاری ہونے والے حکمنامے میں کمیٹی کے سربراہ چیف انجینئر اویس ملک ہیں جو متنازع آر او پلانٹ کے گذشتہ چھ سالوں سے پروجیکٹ ڈائریکٹ بھی ہیں، کمیٹی میں ایگزیکٹو انجینئر محمد خالد فاروقی،ایگزیکٹو انجینئر (سب سوئل)محمد دلاور جعفری،اسٹنٹ ایگزیکٹیو انجینئر مرزا عبید الرحمان، سب انجینئر (E&M)سید حسین عباس (دلاوکے بہنوئی)شامل ہیں تاہم سب سے زیادہ متحرک اور چلتا پرزہ مشہور ومعروف پانی چور، شعبہ ٹیکس کا کلرک عامرخان عرف عامر پیجردر پردہ اس کمیٹی کو دیکھ رہے ہیں جس کا نام کمیٹی میں شامل نہیں مگر ایم ڈی واٹر کارپوریشن صلاح الدین احمد کا Blue Eyed ہے جسے پانی چوری کے نیٹ ورک کو مانیٹر کرنے والے حساس اداروں کے شدید تحفظات پر تھیفٹ سیل سے صلاح الدین احمد نے ناچاہتے ہوئے ہٹا تو دیا تھا مگر پانی چوری، ہائیڈرینٹس اور زیرزمین پانی کے لائسنسوں سے متعلق تمام اجلاسوں میں صلاح الدین احمد کی ہدایت پر لازمی شرکت کرتا ہے، دلچسپ امر یہ ہے کہ سب سوائل واٹر کے چیف انجینئر لالہ نجیب خان ہے وہ کمیٹی کے تمام معاملات سے لاعلم ہے لائسنس کی اجراء کے بعد ایکشن چیف انجینئر نیجب خان کریں گے ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی کے قول فعل کا وہ ذمہ دار نہیں جب حتمی ہوگا اس کے بعد عملدآمد کریں گے فارم کے ساتھ ہائیڈروولوجیکل اسٹڈی اور ٹیسٹ کی رپورٹ، بورڈ، جہاں کہیں بھی کارگر سمجھا جائے، زمینی واٹر ہائیڈروولوجیکل اسٹڈی اور ٹیسٹ رپورٹ کے ساتھ لائسنس کی درخواست کے ساتھ پیش کیا جائے بورڈ کے پاس لائسنس کی قیمت پر لائسنس دینے سے قبل یا بعد میں کسی بھی وقت مطالعہ یا ٹیسٹ ہوسکتا ہے۔
*چیف انجینئر اویس ملک*ذرائع کے مطابق جس چیف انجینئر اویس ملک کو زیرزمین پانی کے لائسنسوں کے اجرا کے لئے بنائی گئی کمیٹی کا کنوینر بنایا گیا ہے اس کی حالت یہ ہے کہ اس کا شمار کراچی واٹر بورڈ اینڈ سیوریج کارپوریشن کے انتہائی سست اور کام سے بیزار افسران میں ہوتا ہے اویس ملک کے ساتھ کام کرنے والے ماتحت افسران اور عملے کا کہنا ہے کہ ان کی دونوں آنکھوں کی بینائی تقریباً ختم ہوچکی ہے اور کسی بھی فائل پر ان کا ہاتھ پکڑ کر دستخط کرانے پڑتے ہیں اگر کسی فائل پر رشوت نہ ہو تو اویس ملک اس فائل کو ماتحت عملے سے پڑھواتے ہیں اور پھر مختلف اعتراضات کرکے اس پر دستخظ نہیں کرتے اور اگر فائل پر رشوت مل جائے تو عملہ ان کا ہاتھ پکڑ کر دستخط والی جگہ رکھ دیتا ہے اور وہ دستخط کردیتے ہیں اویس ملک کی طبّی حالت سے آگاہ افسران کا کہنا ہے کہ اویس ملک کی بینائی کی شدید خرابی کا یہ عالم ہے کہ اویس ملک کی ایک آنکھ کی روشنی 100فیصد ختم ہوچکی ہے جبکہ دوسری آنکھ90فیصد ختم ہوچکی ہے صرف 10 فیصد دکھائی دیتا ہے اور یہ دس فیصد بھی اس وقت ہے جب اس کی آنکھ میں انجیکشن لگتے ہیں —ایسے افسر کی تعیناتی کے بعد پانی کے نام پر کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن میں زیر زمین پانی کے لائسنسوں میں کرپشن اور لوٹ مار کا جو نیا دور شروع ہوگا وہ تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دے گا۔
شعبہ ٹیکس کے کلرک محمد عامر خان عرف عامر پیجر کو تحقیقاتی اداروں کے شدید تحفظات پر ایم ڈی واٹر کارپوریشن صلاح الدین احمد نے نا چاہتے ہوئے بھی اینٹی تھیفٹ سیل سے ہٹا تو دیا ہے مگر ادارے میں پانی چور عامر پیجر کو صلاح الدین احمد کے دل سے نہیں نکال سکے۔عامر پیجر آج بھی صلاح الدین احمد کی صدارت میں ہونے والے ہر اجلاس میں شرکت کرتا ہے اور وہ اپنے افسران کی شامیں رنگین کرنے کا ماہر ہے۔ پہلے ایم کیو ایم پھر پی ایس پی اور اب ایم کیو ایم پاکستان سے منسلک رہنے والا ارب پتی کلرک محمد عامر خان عرف عامر پیجر ہی ہے، ذرائع نے بتایا کہ وہ بلڈرز کو پانی کے غیر قانونی کنکشنز دینے اور غیر قانونی کنکشنز کو ریگولرائز کرکے ماہانہ لاکھوں روپے رشوت وصول کرتا ہے جبکہ افسران کے لیے اپنے گھر اور مختلف کلبوں میں پارٹیاں کا انتظام بھی کرتا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ کلرک ہونے کے باوجود عامر پیجر کے ڈی اے آفیسر ہاوسنگ سوسائٹی میں 500 مربع گز کے گھر میں رہائش پذیر ہے جس کی مالیت 20 کروڑ روپے بتائی جاتی ہے۔ ذرائع کے مطابق بنگلے میں ڈانسنگ فلور، سوئمنگ پول اور دیگر سہولیات دستیاب ہیں۔ ابھی تک عامر پیجر مشکوک افراد کی فہرست میں شامل ہے، ذرائع نے بتایا کہ جونئیر کلرک ایک یا دو نہیں 5 گاڑیاں استعمال کرتا ہے جن میں ڈبل کیبن، ہنڈا سوک، ٹویوٹا کرولا، ٹویوٹا ایکوا اور سوزوکی کلٹس شامل ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ سرکاری ملازم ہونے کے باوجود عامر پیجر پرائیوٹ پاسپورٹ پر بیرون ممالک سفر کرتا ہے اور سال میں دو سے تین مرتبہ سنگاپور، تھائی لینڈ اور دیگر ممالک کا دورہ کرتا ہے۔ جبکہ واٹر بورڈ میں ٹھیکیداری کے علاوہ عامر پیجر ورکرز ویلفئر بورڈ میں بدنام زمانہ سابق افسر ظفر سلیم عرف کاکا کے بیٹے کے ساتھ مل کر بھی ٹھیکیداری کررہا ہے، ذرائع نے بتایا کہ عامر پیجر پی ایس پی کے سابق رہنما اور چائنا کٹنگ کے حوالے سے بدنام زمانہ وسیم آفتاب کا سسرالی رشتہ دار ہے اور ان کے ساتھ مل کر شہر میں کئی پلاٹوں پر قبضے اور کھیل کے میدانوں کی چائنا کٹنگ میں بھی ملوث رہا ہے۔ یہی نہیں اس جونئر کلرک کی ملینیم مال میں بھی کئی دکانیں ہیں۔ کئی سیاسی شخصیات اس کے حوالے سے ایم ڈی کو فون پر خیال رکھنے کی سفارش کرچکے ہیں۔
محمد دلاور جعفری سندھ میں ایک سیاسی شخصیت کے داماد ہونے کی وجہ سے ادارے میں جلد ترقی اور اہم عہدے پر ذمہ داری کا ناجائز استعمال بڑے پیمانے پر کرنے کا الزام لگنے کے باوجود تاحال اس کے خلاف کوئی کاروائی نہ ہوسکی۔ انٹی تھیفٹ سیل میں بھی لوٹ مار اور بھٹہ لینے کی آوازیں سیکورٹی پر مامور افراد بتا رہے ہیں۔ سائٹ لمیٹیڈ سے ایک ہیوی گاڑی رشوت لینے کے بعد غائب کردی گئی ہے۔ دلاور جعفری کے نام پر کیماڑی ضلع ہائیڈرنٹ کے 100 سے زائد یومیہ ٹینکرز حب کینال سے بھر کر پانی فروخت کیا جارہا ہے۔ سب سوئل چلانے والی تمام کمپنیوں سے ماہانہ بھتہ،کمیشن وصولی،شہر میں آر او پلانٹس کے پانی فروخت کرنے والی کمپنیاں اور دکانداروں سے بھی بھتہ جمع کیا جارہا ہے۔ان تمام حقائق کے باوجود نیب کراچی ۔انٹی کرپشن دیگر تحقیقاتی ادارے بھی خاموش زبان بند کررکھا ہے
ذرائع کا کہناہے کہ دلاور جعفری اور.عامر نے شکیل مہر سب سوائل اپریٹر سے ایک کروڑ روپے لائسنس دینے کی مانگی ہیں .اور بولا ہے یہ سارے پیسے اوپر تک ایم ڈی تک جائیں گے یہ پیسے صرف ایک لائسنس کے ہیں .






