وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ افراد کی مدد سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر کی جانی چاہیے، انہوں نے حالیہ دنوں میں سندھ اور پنجاب کے درمیان سیلابی امداد کے معاملے پر پیدا ہونے والی گرماگرمی کو ’’افسوسناک‘‘ قرار دیا۔انہوں نے یہ بات ایک مقامی ہوٹل میں منعقدہ مینجمنٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان (ایم اے پی) کے 25ویں سالانہ کنونشن سے خطاب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سیلاب متاثرین کی مدد سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر کی جانی چاہیے اور سندھ اور پنجاب کے درمیان سیلابی امداد پر حالیہ کشیدگی ’’افسوسناک‘‘ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت سے سیلاب متاثرین کے لیے مدد حاصل کرنے کے لیے بات کی اور وفاقی وزراء نے بھی ان کی کوششوں کی حمایت کی۔مراد علی شاہ نے یاد دلایا کہ 2022 کے سیلاب کے بعد چیئرمین بلاول بھٹو اور وزیرِ اعظم شہباز شریف نے عالمی برادری کو متحرک کیا تھا اور وفاقی حکومت نے بلاول بھٹو کی درخواست پر کسانوں کی مدد کے لیے زرعی اور ماحولیاتی ایمرجنسی نافذ کی تھی۔مراد علی شاہ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی پاکستان کی غلطی نہیں، اس لیے عالمی برادری کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے کسانوں کی مدد کرنی چاہیے اور سندھ حکومت ان کی بھرپور مدد کر رہی ہے۔دیگر صوبوں کے اقدامات پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز میں نے دیکھا کہ پنجاب حکومت بھی اچھے اقدامات کا اعلان کر رہی ہے جو حوصلہ افزا بات ہے۔ عوامی فلاح ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے، سیاست بعد میں کی جا سکتی ہے۔ایک سوال کے جواب میں وزیرِ اعلیٰ نے واضح کیا کہ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی ( ارسا) کو ختم کرنے کی کوئی تجویز زیرِ غور نہیں۔ انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ سندھ میں صرف کچے کے علاقے زیرِ آب آئے جبکہ تمام حفاظتی بند محفوظ رہے۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال 2022 جیسی نہیں تھی، نقصان کی تفصیلات جلد شیئر کی جائیں گی۔صحافیوں عمران میر اور طفیل رند کے قتل پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ پولیس نے طفیل رند کے کیس کی تفصیلات فراہم کر دی ہیں اور یقین دلایا ہے کہ ملزمان کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔ انہوں نے جاں بحق صحافیوں کے اہلِ خانہ سے تعزیت کا اظہار بھی کیا۔وفاقی وزراء کی صدرِ مملکت سے ملاقات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی حیرت یا تشویش کی بات نہیں، صدرِ مملکت سے ہر ملاقات کا ایک مخصوص تناظر ہوتا ہے۔وزیرِ اعلیٰ نے مینجمنٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان (ایم اے پی) کا 25ویں کنونشن میں مدعو کرنے پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس تقریب میں پاکستان اور دنیا بھر سے مینجمنٹ کے ماہرین نے شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت اور ایم اے پی کے درمیان مضبوط ورکنگ تعلقات ہیں اور اس وقت سندھ حکومت کے 40 افسران ایم اے پی کے ذریعے تربیت حاصل کر رہے ہیں۔اس سے قبل وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مینجمنٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان (ایم اے پی) کے 25ویں سالانہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کی ملک بھر میں پیشہ ورانہ مہارت اور قیادت کی ترقی کے لیے چھ دہائیوں پر محیط خدمات کو سراہا۔انہوں نے یقین دلایا کہ سندھ حکومت ایم اے پی کے اس مشن کی بھرپور حمایت جاری رکھے گی جس کا مقصد ایک باصلاحیت، بااخلاق اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ انتظامی افرادی قوت تیار کرنا ہے۔
Read Next
8 گھنٹے ago
*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرصدارت انسداد پولیو ٹاسک فورس کا اجلاس*
2 دن ago
*سندھ اسمبلی میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کثرتِ رائے سے منظور*
2 دن ago
*ضبط شدہ گندم فلور ملز کو جاری کرنا شروع کردی جائے،صارفین کو سستا آٹا فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے،وزیراعلیٰ سندھ*
6 دن ago
*سندھ کے 5 ہونہار طلبہ نے آکسفورڈ یونیورسٹی کےلیے بھٹو اسکالرشپس جیت لیں*
1 ہفتہ ago
وزیراعلیٰ سندھ اور گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات؛وفاق اور صوبوں کے درمیان رابطہ کاری بڑھانے پر اتفاق
Related Articles
صوبے کی تقسیم اور نئے صوبوں کے قیام کی کوششیں متفقہ طور پر مسترد،سندھ اسمبلی میں اہم قرارداد منظور
2 ہفتے ago
مراد علی شاہ کی زیرصدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس،کچے کی زمین کے سروے کےلئے 70 کروڑ 50 لاکھ روپے کی منظوری
2 ہفتے ago


