میئر کراچی کی تاخیر کے شکار ترقیاتی منصوبوں کے ٹھیکے منسوخ کرنےکی ہدایت، ہنگامی بحالی کے لئے ریپڈ ریسپانس ٹیموں کے قیام کا اعلان

میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے شہر میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں غیر ضروری تاخیر پر متعدد ٹھیکے فوری طور پر منسوخ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے شہر بھر میں ہنگامی نوعیت کے بحالی اور سڑکوں کی مرمت کے کاموں کے لیے ریپڈ ریسپانس ٹیموں کے قیام کا اعلان بھی کیا، جو فوری بنیادوں پر کام کریں گی تاکہ شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جا سکے۔بلدیہ عظمیٰ کراچی (کے ایم سی) کے ہیڈ آفس میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں مختلف فنڈز جیسے ضلعی اے ڈی پی، صوبائی اے ڈی پی، ایمرجنسی ورکس، اسپیشل اسکیمز اور کلک (CLICK) کے تحت جاری 637 ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں سینئر ڈائریکٹر انجینئرنگ جنید اللہ خان نے ضلع وار کارکردگی سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صوبائی اے ڈی پی کے تحت 118 نئی اسکیمیں حال ہی میں شروع کی گئی ہیں۔ ان میں ضلع شرقی میں 11، ضلع وسطی میں 28، ضلع غربی میں 21، ضلع کورنگی میں 20 جبکہ الیکٹریکل اینڈ مکینیکل (E&M) ونگ کے تحت 14 اسکیمیں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کئی منصوبے خصوصی فنڈنگ کے تحت بھی جاری ہیں۔چیف انجینئر نے مزید بتایا کہ ای اینڈ ایم ڈپارٹمنٹ کے سولرائزیشن منصوبے کے تحت دو سڑکوں پر کام مکمل کرلیا گیا ہے، جبکہ شاہراہِ فیصل کو آئندہ چند دنوں میں سولر لائٹس سے منور کیا جائے گا۔میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”یہ ناقابلِ قبول ہے کہ بعض منصوبے ایوارڈ لیٹرز کے اجرا کے باوجود شروع نہیں ہوئے، جبکہ کچھ مقررہ مدت سے کہیں زیادہ تاخیر کا شکار ہیں۔”انہوں نے کہا کہ ”یہ صورتحال شہر کے لیے باعثِ شرمندگی اور شہریوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔ فنڈز دستیاب ہیں، لیکن نااہلی اور غفلت کے باعث کراچی کے عوام بروقت سہولیات سے محروم ہیں۔ ایسے ٹھیکیداروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، جن میں فوری ٹھیکوں کی منسوخی اور بلیک لسٹنگ شامل ہوگی۔”میونسپل کمشنر کے ایم سی ایس ایم افضل زیدی (پی اے ایس) نے اجلاس کو بتایا کہ ہنگامی نوعیت کے کاموں کے دائرہ کار کو بڑھا دیا گیا ہے اور کے ایم سی کے اپنے فنڈز سے ایک ارب روپے کی نئی گرانٹ کی منظوری دی گئی ہے۔ انفراسٹرکچر کی بحالی اور شہری شکایات کے فوری ازالے کے لیے ٹینڈرز جاری کیے جا چکے ہیں تاکہ کاموں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جا سکے۔میئر کراچی نے تمام اضلاع میں ریپڈ ریسپانس ٹیموں کے فوری قیام کی ہدایت دی جو چوبیس گھنٹے گڑھوں کی مرمت، سڑکوں کی بحالی اور ہنگامی مرمتی کاموں میں مصروف رہیں گی تاکہ ٹریفک کی روانی برقرار رہے اور عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ”انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ زمین پر موجود رہے جب تک صورتحال مکمل طور پر معمول پر نہ آجائے۔”میئر مرتضیٰ وہاب نے تمام زیر تکمیل یا قریب از تکمیل منصوبوں کے لیے 60 دن کی ڈیڈ لائن مقرر کرتے ہوئے ہدایت دی کہ کسی بھی مزید تاخیر کی صورت میں تادیبی اور معاہداتی کارروائی کی جائے گی۔اجلاس میں میونسپل کمشنر کے ایم سی ایس ایم افضل زیدی، فنانشل ایڈوائزر گلزار ابڑو، سینیئر ڈائریکٹر کوآرڈینیشن برائے میئر اخلاق یوسفزئی، سینیئر ڈائریکٹر انجینئرنگ جنید اللہ خان، ڈائریکٹر میڈیا دانیال سیال اور کے ایم سی کے دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔

جواب دیں

Back to top button