میئر پشاور کی رٹ،پشاور ہائیکورٹ نے سیکریٹری لوکل گورنمنٹ سمیت چار دیگر افسران کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا

پشاور ہائیکورٹ نے میئر پشاور حاجی زبیر علی کی جانب سے دائر کردہ توہین عدالت رٹ کی سماعت کرتے ہوئے سیکرٹری لوکل گورنمنٹ ، سیکرٹری این سی بی، ڈی جی میٹروپولیٹن اور ڈائریکٹر ایسٹ کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر ان سے جواب طلب کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق ، میئر پشاور حاجی زبیر علی نے سٹی میٹروپولیٹن گورنمنٹ کو درپیش مسائل ، آئین قانون اور عدالتی فیصلوں کی مبینہ مسلسل خلاف ورزی اور غیر قانونی نوٹیفیکیشن و بلدیاتی نظام میں براہ راست مداخلت اور 8 صوبائی اسمبلی حلقوں کے براہ راست منتخب میئر اور صوبہ بھر کے چیئرمینوں کے اختیارات کو غصب کرنے پر توہین عدالت کی درخواست پشاور ہائیکورٹ میں دائر کی جس کی سماعت جسٹس سید ارشد علی نے کی۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ شروع سے آج تک صوبہ بھر میں بلدیاتی نظام کو صرف اس لیے ٹارگٹ کیے رکھا گیا کیوں کہ عوام نے پی ٹی آئی کی بجائے دیگر جماعتوں کو اپنا قیمتی ووٹ دیا، عدالت سے کیسز جیتنے کے باوجود منتخب بلدیاتی نمائندوں کے اختیارات کو مزید سلب کیا گیا اور عوامی مینڈیٹ کی مسلسل توہین کی گئی اور پاؤں تلے روند دیا گیا، اس غیر آئینی اقدامات اور رویے کے باعث تمام امور ٹھپ ہو کر رہ گئے اور عوام کے مسائل میں کمی کی بجائے اضافہ ہوتا چلا گیا۔ بلدیاتی انتخابات کے ہونے سے لے کر آج کے دن تک صوبائی حکومت کی جانب سے 2019 بلدیاتی ایکٹ میں ترامیم کا معاملہ ہو یا پھر محکمہ بلدیات کی بیوروکریسی کو استعمال کر کے منتخب بلدیاتی نمائندوں کے راستے میں روڑے اٹکانے کی بات ، عوام کے مسائل کم ہونے کی بجائے بڑھتے گئے ، مزید برآں سیکرٹری بلدیات کی جانب سے ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا تھا جس کے تحت بلدیاتی اداروں کے منتخب میئرز سمیت تحصیل چیئرمینز کے بھی قانونی اختیارات کو پابند کرتے ہوئے کلاس 4 کی حد تک کی پوسٹنگ ٹرانسفر سمیت دیگر پابندیاں عائد کی گئیں جس سے سیکرٹری سمیت صوبائی حکومت کی صوبے میں ترقیاتی عمل روکنا اور منتخب نمائندوں کے اختیارات میں کمی کرنے کی روش واضح ہوئی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ اس کے خلاف میئر پشاور سمیت چیئرمینز اور منتخب بلدیاتی نمائندوں میں شدید غم وغصہ پایا جاتا ہے اور مختلف اوقات میں احتجاج بھی کیا گیا، حکومت سے مذاکرات بھی ہوئے تاہم کسی قسم کی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔ اسی حوالے سے توہین عدالت کی رٹ پٹیشن عدالت کو دائر کی گئی تاکہ انصاف ہو سکے۔ مدعی کی جانب سے پیش ہونے والے انعام اللہ علیزئی ایڈوکیٹ نے سماعت کے دوران عدالت عالیہ کے سابق فیصلوں کا حوالہ دیتے بتایا کہ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ ثاقب رضا اسلم قانونی و آئینی اختیارات سلب اور غصب کرنے کا ذمہ دار ہے۔ اسکے علاؤہ سیکرٹری لوکل کونسل بورڈ وحید الرحمن ، سابق ڈی جی ارشد زبیر اور ڈائریکٹر ایسٹ یاسر جمشید کو بھی رٹ میں فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ میئر پشاور جنہیں خیبرپختونخوا لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019 ترمیم شدہ 2024 کی دفعہ 23A اور 25A کے تحت نگرانی اور ہدایتی اختیارات حاصل ہیں سمیت میئرز اور چیئرمینز کے قانونی اختیارات کو غیر آئینی عمل سے غصب کیا جارہا ہے اور یہ پریکٹس مسلسل جاری ہے جو سراسر عدالتی فیصلوں کی بھی توہین ہے اور عوامی مینڈیٹ کی بھی۔ رٹ میں واضح کیا گیا کہ پشاور ہائی کورٹ نے رٹ پٹیشن نمبر 2793/2022 (زبیر علی و دیگر بنام حکومت خیبرپختونخوا بذریعہ چیف سیکرٹری) اور رٹ پٹیشن نمبر 2413/2022 (حمایت اللہ مایار بنام حکومت خیبرپختونخوا) میں واضح طور پر منتخب میئرز/چیئرمینز کے قانونی اختیارات آئین کے آرٹیکل 140A کے تحت برقرار رکھے اور قرار دیا کہ ماتحت افسران ان کے قانونی اختیارات کو کالعدم یا غصب نہیں کرسکتے تاہم اس کے بالکل برعکس جاتے ہوئے ایک سیکرٹری لیول کا آفیسر سیاسی پشت پناہی کے ذریعے منتخب بلدیاتی نمائندوں اور بلدیاتی نظام کو مفلوج کرنے کے چکروں میں ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے فیصلے مورخہ 01 فروری 2022 (جو MQM-P کیس کے نام سے مشہور ہے) میں سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کی دفعات 74 اور 75 کو غیر آئینی قرار دیا اور صوبائی حکومتوں کو پابند کیا کہ وہ منتخب بلدیاتی حکومتوں کو سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات منتقل کریں۔ دلائل سننے کے بعد پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ بالا تمام افسران بشمول سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کو نوٹسز جاری کردیے اور آئندہ سماعت پر جواب سمیت حاضر ہونے کی ہدایت کی۔ اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے میئر پشاور حاجی زبیر علی کا کہنا تھا کہ ہمارے صوبے میں روز اول سے صوبائی حکومت نے بلدیاتی حکومت کو فنڈز اور اختیارات دونوں ہی سے محروم رکھا اور بیوروکریسی کو اس مقصد میں براہ راست استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ پشاور اور پورے صوبے کے منتخب بلدیاتی نمائندے اور عوام ان حرکتوں اور ایسے فیصلوں کے خلاف پہلے بھی سڑکوں پر نکلے اور اب ایک مرتبہ پھر بھرپور احتجاج کے لیے تیار ہیں۔ ان تمام پابند عدالتی فیصلوں کے باوجود سیکرٹری لوکل گورنمنٹ دانستہ بدنیتی پر مبنی اور بار بار بلدیاتی اداروں کے اختیارات کو پامال کر رہا ہے، اور اپنے اسی عمل سے سنگین آئینی و توہینِ عدالت کا مرتکب ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پہلے بھی آئینی راستے پر گامزن رہے اور آج بھی ہمیں عدالتوں سے انصاف کی مکمل امید ہے اور یقین ہے۔

جواب دیں

Back to top button