کسی بھی پبلک پارک پر کوئی ٹیکس نہ لگنے دیں گے اور نا ہی ایسے اقدامات کے حق میں ہیں، میئر پشاور حاجی زبیر علی

میئر پشاور حاجی زبیر علی نے صوبائی وزیر بلدیات مینا خان آفریدی کی جانب سے وزیر باغ میں عوام سے ٹکٹ کی صورت میں ٹیکس وصول کرنے کے فیصلے پر شدید تحفظات اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے غریب عوام کے ساتھ زیادتی قرار دیا ہے، میئر نے حکم دیتے ہوئے مزکورہ باغ سے ٹیکس وصولی کے لیے تعینات کیے گئے عملے کو ہٹا دیا ، انکا کہنا ہے کہ جو حقیقی عوامی نمائندے ہوتے ہیں وہ عوام کے لیے سہولیات مہیا کرتے ہیں انہیں مزید مشکل میں نہیں ڈالتے۔ اپنے بیان میں میئر پشاور حاجی زبیر علی کا کہنا تھا کہ گزشتہ دنوں صوبائی وزیر بلدیات مینا خان آفریدی نے میٹروپولیٹن کا ایک اجلاس طلب کر کے اس میں فیصلہ کیا کہ وزیر باغ اور دیگر پارکس پر ٹکٹ لگاتے ہوئے وہاں آنے والے غریب شہریوں سے ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ اس فیصلے نے پشاور اور بالخصوص وزیر باغ کے ملحقہ علاقوں کے رہائشیوں میں شدید تشویش پیدا کر دی اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ حکومت نے انکے سانس لینے پر بھی ٹیکس لگانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ میئر کا کہنا ہے کہ یہ عوامی پارکس عوام اور انکے بچوں سمیت خواتین بزرگوں کے لیے چند لمحوں کی چہل قدمی ، کھلی فضاء میں سانس لینے اور دکھ سکھ سمیت تفریحی مقامات ہوتے ہیں، ایسے عوامی پارکس پر ٹیکس عائد کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ عوامی نمائندے نہیں بلکہ ذاتی مفادات کی پاداش میں براجمان ہونے والے لوگ ہیں۔ میئر نے حکم جاری کرتے ہوئے عوامی پارکس پر ٹیکس کے فیصلے کو رد کیا اور وزیر باغ میں وزیر بلدیات کے احکامات پر تعینات کیے جانے والے ٹیکس کولیکشن عملے کو بھی ہٹا دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومتیں صرف ٹیکس لینے کے لیے نہیں ہوتیں عوام کو فلاح و بہبود فراہم کرنے کے لیے بھی ذمہ دار ہوتی ہیں۔ اور ایسے کسی بھی فیصلے کو نہیں مانا جا سکتا جو عوام کے بنیادی حقوق پر ڈاکے کے مترادف ہو۔

جواب دیں

Back to top button